اِس مُلک سے اب صِرف اتنی
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
اِس مُلک سے اب صِرف اتنی سی ہی نسبت ہے مجھے
بس لُوٹنے کی بارہا اِس کو سہولت ہے مجھے
مَیں ابنِ آدم ہوں مری تحقیر تو نہ کیجیے
خاکی سہی لیکن فرشتوں پر فضیلت ہے مجھے
اِک خواہشِ دستار تُجھ کو لے گٸی سُوٸے قفس
مَیں بندہِ آزاد ہوں تُجھ پر یہ سبقت ہے مجھے
کیا تیر اور تلوار ہی ہیں اِستِعَارے ظُلم کے
دستار پیچھے کیجیے اس سے بھی وَحشَت ہے مجھے
میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں شہرِ بے وفا میں اُلفتیں
اِمکانِ اُلفت نہ سہی اِمکانِ نفرت ہے مجھے
مُردار کھانے کی بتاٸی ایک مُفلِس نے وجہ
لاچار ہونے کے سبب تھوڑی سی رُخصت ہے مجھے
شش جَہَت ہیں تنگ مجھ پر شہر میں اِک بار پھر
خانہ بدوشوں سی کوٸی درپیش ہجرت ہے مجھے
مَیں اس لیے چشمِ عَدُو میں خار بن کے چُھبتا ہوں
بس بول پڑنے کی غلط پر ایک علت ہے مجھے
تُو بولتا ہی جارہا ہے بے سَروپا بزم میں
مَیں اس لیے خاموش ہوں پاسِ محبت ہے مجھے
کرتا رہوں گا روشنی ہر کوچہِ تاریک میں
مثلِ چراغِ شب ہوں مَیں جلنے سے رغبت ہے مجھے
میں بندہ عاجزؔ سہی لیکن عَدُوٸے یار کی
مَیں نوچ سکتا ہوں قباٸے ظُلم قدرت ہے مجھے
ڈاکٹر الیاس عاجزؔ








