اردو غزلیاتجمیل الدین عالیشعر و شاعری

میری بے حوصلگی اس سے سوا اور سہی

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

میری بے حوصلگی اس سے سوا اور سہی
اور چاہو تو محبت کا صلا اور سہی

یوں بھی کچھ کم تو نہ تھے اتنی بہاروں کے ہجوم
ان میں شامل ترے دامن کی ہوا اور سہی

مجھ کو اصرار کہاں ہے کہ محبت جانوں
آج سے معنی انداز و ادا اور سہی

طلب درد میں دل حد سے گزرتا کب تھا
تم نے پوچھا تھا کہ اور اس نے کہا اور سہی

اب تو ہر شہر میں اس کے ہی قصیدے پڑھیے
وہ جو پہلے ہی خفا ہے وہ خفا اور سہی

ہم اسی رحمت و زحمت کے ہیں عادی یا رب
جیسی بھی ہے اسی دنیا کی فضا اور سہی

سبق بے گنہی تشنۂ تکمیل بھی تھا
اک نیا فلسفہ‌‌ٔ جرم و سزا اور سہی

آج آپ اپنے محاسن کا بیاں کر لیجے
محفل تذکرۂ اہل وفا اور سہی

کیا ضروری ہے کہ انداز‌ بہاراں رکھے
اب جو کچھ اور ہے رفتار صبا اور سہی

اب بہت شور سہی کل تو کوئی پرکھے گا
ان صداؤں میں فقیروں کی نوا اور سہی

کیوں نہ عالیؔ سے علائی پہ غزل لکھوائے
ایک بیدادگر رنج فزا اور سہی

جمیل الدین عالی​

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button