آپ کا سلاماردو تحاریراردو نظمشعر و شاعری

کوئی نہیں ہے

ایک نظم از محمد یوسف برکاتی

پریشان بے وجہ کوئی نہیں ہے
بھلے کچھ بولتا کوئی نہیں ہے

گزرتا ہوں میں اکثر اس گلی سے
گزرتا ہی جہاں سے کوئی نہیں ہے

اندھیرا ہی اندھیرا ہر جگھ ہے
یہاں روشن نشاں کوئی نہیں ہے

میں ایسے دور میں جی رہا ہوں
جہاں آسان جینا کوئی نہیں ہے

کھلا ہے گھر کا ہر دروازہ لیکن
وہاں سے جھانکتا کوئی نہیں ہے

ایسی بھیڑ میں بھی لگ رہا ہے
یہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے

بظاہر سانس تو سب لے رہے ہیں
مگر زندہ یہاں کوئی نہیں ہے

وہاں سےکیوں گزرتے ہو تم یوسف
تمہارا جس جگہ پر کوئی نہیں ہے

 

محمد یوسف برکاتی 

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button