پارلیمانی کردار اور جمہوریت کی حقیقی حفاظت
پارلیمنٹ کسی بھی ملک کے جمہوری ڈھانچے کا ستون ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عوام کی نمائندگی، فیصلے اور قوانین وجود میں آتے ہیں۔ ہر مسئلہ، چاہے وہ معاشی ہو، تعلیمی ہو، یا سماجی، پارلیمنٹ کے اندر ہی حل ہونا چاہیے۔ اس حقیقت سے انکار کرنا کہ سڑکوں پر احتجاج اور شور و ہنگامہ پارلیمانی نظام
کے خلاف ہیں، جمہوریت کی روح کے ساتھ دھوکہ ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہر سال سیاسی بحران اور سڑکوں کی سیاست رونما ہوتی ہے، یہ بات زیادہ وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ پارلیمنٹ کا کردار مضبوط اور باشعور ہونا ضروری ہے۔
پارلیمنٹ کے باوجود سڑکوں پر احتجاج کرنا دراصل ادارے کی توہین ہے۔ مثال کے طور پر پچھلے چند سالوں میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج نے صرف ٹریفک کی مشکلات پیدا کیں، کاروبار متاثر ہوئے، اور عوام کی روزمرہ زندگی مشکل ہو گئی۔ یہ سب اقدامات پارلیمنٹ کے کردار کو کمزور کرنے کے لیے کیے گئے، نہ کہ عوام کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے۔ عوامی مسائل کا حل پارلیمنٹ کے اندر ہی ہونا چاہیے تاکہ قانونی، شفاف اور پائیدار نتائج سامنے آئیں۔
بین الاقوامی تجربات بھی یہی بات بتاتے ہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں پارلیمنٹ میں موجود باشعور اراکین ہر مسئلے کو قانونی اور منطقی طریقے سے حل کرتے ہیں۔ وہاں سڑکوں کی سیاست کمزور ترین ہے کیونکہ عوام اور سیاسی رہنما دونوں اداروں پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض ممالک میں، جہاں پارلیمنٹ کا کردار کمزور ہے، سڑکوں پر احتجاج نے غیر مستحکم سیاسی صورتحال پیدا کی ہے اور جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔
پارلیمنٹ کی حرمت اور اس کے ادارے کی اہمیت عدالتوں سے بھی بالاتر ہے۔ عدالتیں قانون کی بالادستی کے لیے ضروری ہیں، لیکن وہ پارلیمنٹ کے اوپر نہیں ہو سکتیں۔ یہ اصول جمہوری ریاستوں میں واضح ہے: عوامی مسائل کا حل صرف منتخب نمائندوں کے ذریعے ہونا چاہیے۔ باشعور اور ذمہ دار چہرے پارلیمنٹ میں ہوں تو وہ عوام کی حقیقی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ جو لوگ پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرتے ہیں یا ادارے کی حرمت کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ دراصل جمہوری نظام کے قاتل ہیں۔
چھوٹی مثالوں سے بات واضح ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے ایک ضلع میں پانی یا بجلی کے مسائل کے لیے سڑکوں پر احتجاج نے صرف شور پیدا کیا لیکن مقامی عوام کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ اس کا حل مقامی نمائندے اور پارلیمنٹ کے اراکین کے ذریعے ہی ممکن تھا۔ لاہور یا کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی سڑکوں پر احتجاج نے مسائل حل نہیں کیے بلکہ شہر کی زندگی متاثر ہوئی، کاروبار بند ہوئے اور عام لوگ پریشان ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں باشعور چہرے لانا ضروری ہے تاکہ وہ عوام کے حقیقی مسائل کا حل قانونی اور منظم طریقے سے نکال سکیں۔
تاریخی حوالے بھی سبق آموز ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں مختلف مواقع پر دیکھنے میں آیا کہ جب پارلیمنٹ کو نظر انداز کیا گیا اور سڑکوں کی سیاست کو ترجیح دی گئی، تو بحران نے ملک کو کمزور کیا۔ 1977 کے سیاسی بحران میں پارلیمنٹ کی کمزوری نے ملک کو سخت سیاسی داؤ پیچ کی طرف دھکیل دیا۔ اسی طرح 2014 کے لانگ مارچ نے صرف سیاسی انتشار پیدا کیا اور عوامی مسائل پیچھے رہ گئے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ہر مسئلہ پارلیمنٹ کے اندر ہی حل ہونا چاہیے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی مضبوط پارلیمنٹ کی مثالیں موجود ہیں۔ برطانیہ میں پارلیمنٹ کے اندر بھرپور مباحثے ہوتے ہیں اور ہر مسئلے پر قانونی حل نکالا جاتا ہے۔ سویڈن اور جرمنی میں پارلیمانی ادارے اتنے مضبوط ہیں کہ عوامی مسائل کی صورت میں سڑکوں کی سیاست وقتی اور محدود رہتی ہے۔ یہ ممالک یہ سکھاتے ہیں کہ مضبوط ادارے اور باشعور اراکین ہی جمہوریت کی حفاظت کر سکتے ہیں۔
پارلیمانی کردار صرف قانون سازی تک محدود نہیں۔ یہ عوام کے اعتماد، اداروں کی حرمت اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کا نام ہے۔ پارلیمنٹ میں باشعور چہرے نہ ہوں تو عوامی مسائل کا حل ٹال مٹول میں بدل جاتا ہے اور غیر قانونی احتجاج کے ذریعے نظام کمزور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سیاسی رہنما کی ذمہ داری ہے کہ وہ اداروں کی حرمت کا تحفظ کرے اور پارلیمنٹ کے اندر رہ کر مسائل حل کرے۔
مزید یہ کہ مقامی مثالیں بھی سبق آموز ہیں۔ پنجاب کے ایک ضلع میں تعلیمی اداروں کے مسائل پر سڑکوں پر احتجاج نے صرف شور پیدا کیا، لیکن سکول کی حالت اور طلبہ کی تعلیم پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑا۔ اگر وہی مسئلہ پارلیمنٹ کے اندر اٹھایا جاتا تو نہ صرف حل نکلتا بلکہ مستقبل کے لیے پائیدار فیصلے بھی سامنے آتے۔ اسی طرح سندھ کے چھوٹے شہروں میں صحت کے شعبے کے مسائل کے لیے پارلیمنٹ نے قانونی اور مالی اقدامات کیے، جس سے مقامی اسپتالوں میں بہتری آئی اور عوام کی زندگی آسان ہوئی۔
پارلیمنٹ کے مضبوط کردار کی اہمیت اس وقت زیادہ واضح ہوتی ہے جب بین الاقوامی حالات دیکھے جائیں۔ امریکہ میں کانگریس کے اندر قانونی عمل اور مباحثے کے ذریعے فیصلے کیے جاتے ہیں، جبکہ غیر قانونی احتجاج کے مواقع محدود اور وقتی ہوتے ہیں۔ اسی طرح جاپان اور جنوبی کوریا میں پارلیمنٹ کی باہمی شفافیت اور جوابدہی کی وجہ سے سیاسی استحکام قائم رہتا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مضبوط پارلیمانی ادارے ہی عوامی فلاح اور ملک کی ترقی کی ضمانت ہیں۔
پارلیمانی کردار جمہوریت کی بنیاد ہے۔ باشعور اراکین، ذمہ دار رہنما اور عوام کا اعتماد ہی پارلیمنٹ کو ہر مسئلے کا حل پیش کرنے کے قابل بناتا ہے۔ سڑکوں کی سیاست وقتی اثر ڈال سکتی ہے، مگر مستقل ترقی اور عوامی فلاح کے لیے پارلیمنٹ کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ جو لوگ پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ نہ صرف اپنے ملک بلکہ اپنے عوام کے مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔ ہر شہری اور ہر رہنما کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی حرمت برقرار رکھے، مسائل کے حل کے لیے باشعور رہنما آگے آئیں اور جمہوریت کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنائیں۔
یوسف صدیقی







