طلبہ کی زندگی اور ہماری ذمہ داری
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
یونیورسٹی آف لاہور میں حالیہ دنوں پیش آنے والے افسوسناک واقعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ چند ہفتے قبل محمد اویس سلطان نامی ایک D‑Pharmacy طالب علم نے یونیورسٹی کی عمارت سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی، اور تازہ ترین واقعہ میں ایک 21 سالہ طالبہ نے مبینہ طور پر دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئی ہے۔ پولیس تحقیقات کر رہی ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر کیمپس بند کر کے کلاسز آن لائن منتقل کر دی ہیں۔ یہ دونوں واقعات محض انفرادی سانحات نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی نظام کے اندر چھپے ایک گہرے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ واضح ہونا چاہیے کہ مسئلہ کسی ایک طالب علم کی کمزوری یا جذباتی غیر استحکام کا نہیں بلکہ ایک نظامی ناکامی کا ہے جو نوجوان ذہنوں کے دباؤ کو سنبھالنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ ان سانحات
کی تاریخ اور حالات یہ بتاتے ہیں کہ ایک ہی تعلیمی ادارے اور ایک ہی مقام پر بار بار ایسے واقعات کا پیش آنا محض اتفاق نہیں بلکہ خطرے کی گھنٹی ہے جو انتظامیہ، والدین اور سماج سب کو متنبہ کر رہی ہے۔
آج کے طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ امتحانات کا خوف، نمبروں کی دوڑ، خاندانی توقعات، بھاری فیس، مستقبل کی غیر یقینی صورتحال اور روزگار کی فکر ان کی زندگی کا حصہ ہیں۔ سوشل میڈیا اور سماجی مقابلہ بازی کی وجہ سے طلبہ اکثر اکیلاپن اور ذہنی تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک نظر آنے والا خوش چہرہ اکثر اندر سے گہرے صدمے اور اضطراب کا مظہر ہوتا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی ذمہ داری سب سے زیادہ اہم ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کیمپس میں موجود کونسلنگ سروسز واقعی فعال اور مؤثر ہیں یا محض کاغذی کارروائی تک محدود ہیں۔ کیا طلبہ کو ایسا محفوظ ماحول میسر ہے جہاں وہ بغیر کسی خوف اور شرمندگی کے اپنی ذہنی کیفیت بیان کر سکیں۔ ایسے حساس مقامات پر حفاظتی انتظامات کی کمی انتظامی غفلت کی واضح مثال ہے۔ طلبہ نے اس معاملے پر شفاف تحقیقات، بہتر کونسلنگ خدمات، اور کیمپس سیفٹی کے لیے آواز بلند کی ہے۔
اساتذہ کا کردار بھی اس بحران میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک استاد صرف نصاب پڑھانے کا ذمہ دار نہیں بلکہ ایک رہنما اور سرپرست بھی ہوتا ہے۔ اساتذہ کو طلبہ کی ذہنی کیفیت پہچاننے اور بروقت ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔ ایک استاد کی ہمدردانہ بات کسی طالب علم کی زندگی بچا سکتی ہے اور اسے اندھیرے سے روشنی کی طرف لا سکتی ہے۔
والدین اور معاشرے کا رویہ بھی اس بحران میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کامیابی کو نمبروں اور ڈگریوں تک محدود کرنا، ناکامی کو جرم سمجھنا، اور بچوں سے مکالمہ ختم کرنا نوجوانوں کو احساس جرم اور بے بسی میں دھکیل دیتا ہے۔ والدین اور سماج کو یہ سمجھنا ہو گا کہ نوجوان کی ذہنی صحت اور خوشحالی کامیابی سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
حکومتی سطح پر محض بیانات اور انکوائری کمیٹیاں کافی نہیں ہیں۔ ماہرین ذہنی صحت کے مطابق تعلیمی اداروں میں پریونٹیو کونسلنگ، ذہنی صحت یونٹس اور پیشگی سپورٹ سسٹم لازمی طور پر قائم ہونے چاہئیں۔ قانون کے تحت جامعات کو ذمہ دار ٹھہرانا اور مستقل نگرانی یقینی بنانا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
طلبہ کے مطالبات بالکل جائز ہیں۔ وہ ذہنی صحت سہولیات، مفت اور خفیہ کونسلنگ، محفوظ کیمپس اور فعال ہیلپ لائنز چاہتے ہیں۔ یہ کسی اضافی سہولت کا معاملہ نہیں بلکہ بنیادی انسانی ضرورت ہے۔ اگر تعلیمی ادارے یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتے تو وہ نہ صرف تعلیمی بلکہ انسانی ذمہ داری میں بھی ناکام ہیں۔
میڈیا کا کردار بھی اس سارے منظرنامے میں کلیدی ہے۔ خبر کو خبر رہنے دینا، سنسنی خیزی سے گریز کرنا اور مثبت آگاہی اور حل پر توجہ دینا ذمہ دار صحافت کی پہچان ہے۔ سنسنی خیزی نوجوانوں اور والدین میں غیر ضروری خوف پیدا کرتی ہے اور مسئلے کے حقیقی حل سے توجہ ہٹاتی ہے۔
یہ سانحات ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ تعلیمی ادارے صرف ڈگریاں دینے کے لیے نہیں بلکہ نوجوانوں کی زندگیوں کے محافظ بھی ہیں۔ خاموشی سب سے خطرناک رویہ ہے، اور اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو یہ خاموشی مستقبل میں مزید جانیں نگل سکتی ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ نظامی اصلاحات، والدین کی آگاہی، اساتذہ کی تربیت، طلبہ کے مطالبات اور حکومت کی پالیسی سب مل کر ایک مضبوط سپورٹ نیٹ ورک قائم کریں، تاکہ کوئی اور نوجوان اپنی زندگی کے قیمتی لمحے ضائع نہ کرے۔
یوسف صدیقی








