اردو غزلیاتشعر و شاعرینذیر قیصر

شام ِ رُخصت کہ ترستی ہی چلی جاتی ہے

نذیر قیصرکی ایک اردو غزل

شام ِ رُخصت کہ ترستی ہی چلی جاتی ہے
وہ مجھے بانہوں میں کَستی ہی چلی جاتی ہے

چُومتا جاتا ہُوں مَیں پھولوں بھری ڈالی کو
اور خوش بُو مجھے ڈَستی ہی چلی جاتی ہے

دُور تک پھول برستے ہی چلے جاتے ہیں
جب وہ ہنستی ہے تو ہَنستی ہی چلی جاتی ہے

دیر سے بیٹھے ہیں دو اجنبی اِک کمرے میں
اور بارِش کہ برستی ہی چلی جاتی ہے

دَر و دیوار اُجڑتے ہی چلے جاتے ہیں
دل کی بستی ہے کہ بستی ہی چلی جاتی ہے

توڑتا جاتا ہُوں مَیں آئنہ خانے ‘ قیصر !
ایک صورت ہے کہ ہنستی ہی چلی جاتی ہے

نذیر قیصر

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button