اردو غزلیاتحسرت موہانیشعر و شاعری

یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزے

حسرت موہانی کی ایک اردو غزل

یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزے

دل ابھی بھولا نہیں، آغازِ الفت کے مزے

وہ سراپا ناز تھا ،بے گانۂ رسمِ جفا

اور مجھے حاصل تھے لطفِ بے نہایت کے مزے

حسن سے اپنے وہ غافل تھا، میں اپنے عشق سے

اب کہاں سے لاؤں وہ نا واقفیت کے مزے

میری جانب سے نگاہِ شوق کی گُستاخیاں

یار کی جانب سے آغازِ شرارت کے مزے

یاد ہیں وہ حسن و الفت کی نرالی شوخیاں

التماسِ عذر و تمہیدِ شکایت کے مزے

صحتیں لاکھوں مری بیماریِ غم پر نثار

جس میں اٹھے بار ہا ان کی عیادت کے مزے

حسرت موہانی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button