ایران جہاں دس دن پہلے ایک چنگاری لگی تھی جو اب آگ کا روپ لے چکی ہے اب ہوا کیا ہے کہ اٹھائیس دسمبر کو ایران کے تہران بازار میں ایک ہڑتال ہوئی اچھا ایران بازار کو ایران کی اکانومی کی دھڑکن بھی کہا جاتا ہے اب یہ اسٹرائک کیوں ہوئی؟
کیونکہ ایران میں اس وقت ایک ڈالر کی ویلو ایک لاکھ ریال کے برابر ہوگئی ہے لوگوں کو ایک پیکٹ بریڈ لینے کے لیے تھیلا بھر کے نوٹ لے کے جانا پڑتا ہے تو اس کمر توڑ مہنگائی کے خلاف لوگوں
نے جو پروٹسٹ کیا سرکار نے اس کو بہت بری طرح سے دبا دیا اس سے لوگ بھڑک گئے اور یہ پروٹسٹ جو مہنگائی کے خلاف تھا وہ بدل کے ہو گیا اسلامی ریاست کے خلاف اور نعرے لگنے لگے ڈیتھ ٹو اسلامک اسٹیٹ ڈیتھ ٹو ڈکٹیٹرشپ
اب اس پروٹیسٹ کو دبایا کیسے گیا اکتیس دسمبر کو ایران نے اپنی اکیس ریاستوں کو شٹ ڈاؤن کر دیا سبب بتایا کہ بہت ٹھنڈ ہے لیکن یہ سب بیک فائر کر گیا پبلک کو چھٹی ملی وہ ملکی سطح پروٹیسٹ کرنے لگے اور یہ پروٹیسٹ پہنچ گیا ان کے قم سٹی میں جو ان کا ریلیجیس کیپٹل ہے اور پچھلے تیس سالوں میں وہاں پہ کوئی پروٹیسٹ ہوا ہی نہیں
اب یہ پروٹیسٹ اور نہ پھیلے اس لیے سرکار نے پورے ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کر دیا، پبلک کے لیے تو انٹرنیٹ بند کر دیا لیکن گورنمنٹ آفیسرز کو وائٹ سم کارڈ ایشو کیے گئے, اچھا یہ بات پبلک کو پتہ چل گئی پبلک اس سے اور بھڑک گئی اور ملک کے بہت سارے شہروں میں پھر سے پروٹسٹ ہونے لگے
اب یہاں پہ انٹری ہوتی ٹرمپ انکل کی انہوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ ایران میں اگر اور اموات ہوتی ہے تو ہم پبلک سیفٹی کے لیے ایران میں مداخلت کریں گے اب ایران بھی اس بات کو سمجھتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ تو کبھی بھی آ سکتے ہیں اس لیے انہوں نے کچھ دن پہلے اپنے ڈیفنس ڈاکٹرائن کو ہی چینج کر دیا.
پہلے یہ تھا کہ اگر کوئی ملک ان پہ اٹیک کرے گا تو وہ دفاع کریں گے اب انہوں نے تبدیل کر کے یہ کر دیا ہے کہ اگر ان کو اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ کوئی ملک ان پہ حملہ کرنے والا ہے تو وہ پہلے ہی اس پہ اٹیک کر دیں گے
اب دیکھو اسرائیل اور امریکہ تو ایران میں آئیں گے ہی آئیں گے کیونکہ امریکہ کو کسی بھی ملک میں گھسنے کا سب سے وہ اچھا سبب ہوتا ہے عوامی مسائل جو ایران میں ان کو اسلامک ریولیشن کے بعد پہلی بار مل رہا ہے اور دوبارہ ملے کہ نہ ملے اب ان کے ایران میں آنے کے تین اہم سبب ہوں گے ایران کے نیوکلیئر کورٹس کو پروٹیکٹ کرنا کہ وہ حماس اور حزب اللہ کے ہاتھوں میں نہ پڑ جائیں دوسرا مڈل ایسٹ میں جو اسرائیل کے چاروں طرف رنگ آف فائر بن گئی ہے اس کو ختم کرنا اور تیسرا اسٹریٹ آف ہارموس پہ قبضہ کرنا جہاں سے بیس پرسنٹ گلوبل ٹریڈ ہوتا ہے تو ایران میں جو یہ سب کچھ ہو رہا ہے یہ ہر اس سوسائٹی کے لیے ایک سبق ہے جو یہ سوچتی ہے کہ وہ مذہب اور آڈیالوجی کے دم پہ خود کو حکومت کر لیں کیونکہ جس دن اکنومک خراب ہوتی ہے اس دن سارے کے سارے پینترے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔
ابو خالد







