آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمز

ایران کے حالات

ایک اردو تحریر از ابو خالد قاسمی

ایران جہاں دس دن پہلے ایک چنگاری لگی تھی جو اب آگ کا روپ لے چکی ہے اب ہوا کیا ہے کہ اٹھائیس دسمبر کو ایران کے تہران بازار میں ایک ہڑتال ہوئی اچھا ایران بازار کو ایران کی اکانومی کی دھڑکن بھی کہا جاتا ہے اب یہ اسٹرائک کیوں ہوئی؟

کیونکہ ایران میں اس وقت ایک ڈالر کی ویلو ایک لاکھ ریال کے برابر ہوگئی ہے لوگوں کو ایک پیکٹ بریڈ لینے کے لیے تھیلا بھر کے نوٹ لے کے جانا پڑتا ہے تو اس کمر توڑ مہنگائی کے خلاف لوگوںiran protest نے جو پروٹسٹ کیا سرکار نے اس کو بہت بری طرح سے دبا دیا اس سے لوگ بھڑک گئے اور یہ پروٹسٹ جو مہنگائی کے خلاف تھا وہ بدل کے ہو گیا اسلامی ریاست کے خلاف اور نعرے لگنے لگے ڈیتھ ٹو اسلامک اسٹیٹ ڈیتھ ٹو ڈکٹیٹرشپ

اب اس پروٹیسٹ کو دبایا کیسے گیا اکتیس دسمبر کو ایران نے اپنی اکیس ریاستوں کو شٹ ڈاؤن کر دیا سبب بتایا کہ بہت ٹھنڈ ہے لیکن یہ سب بیک فائر کر گیا پبلک کو چھٹی ملی وہ ملکی سطح پروٹیسٹ کرنے لگے اور یہ پروٹیسٹ پہنچ گیا ان کے قم سٹی میں جو ان کا ریلیجیس کیپٹل ہے اور پچھلے تیس سالوں میں وہاں پہ کوئی پروٹیسٹ ہوا ہی نہیں
اب یہ پروٹیسٹ اور نہ پھیلے اس لیے سرکار نے پورے ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کر دیا، پبلک کے لیے تو انٹرنیٹ بند کر دیا لیکن گورنمنٹ آفیسرز کو وائٹ سم کارڈ ایشو کیے گئے, اچھا یہ بات پبلک کو پتہ چل گئی پبلک اس سے اور بھڑک گئی اور ملک کے بہت سارے شہروں میں پھر سے پروٹسٹ ہونے لگے

اب یہاں پہ انٹری ہوتی ٹرمپ انکل کی انہوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ ایران میں اگر اور اموات ہوتی ہے تو ہم پبلک سیفٹی کے لیے ایران میں مداخلت کریں گے اب ایران بھی اس بات کو سمجھتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ تو کبھی بھی آ سکتے ہیں اس لیے انہوں نے کچھ دن پہلے اپنے ڈیفنس ڈاکٹرائن کو ہی چینج کر دیا.
پہلے یہ تھا کہ اگر کوئی ملک ان پہ اٹیک کرے گا تو وہ دفاع کریں گے اب انہوں نے تبدیل کر کے یہ کر دیا ہے کہ اگر ان کو اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ کوئی ملک ان پہ حملہ کرنے والا ہے تو وہ پہلے ہی اس پہ اٹیک کر دیں گے

اب دیکھو اسرائیل اور امریکہ تو ایران میں آئیں گے ہی آئیں گے کیونکہ امریکہ کو کسی بھی ملک میں گھسنے کا سب سے وہ اچھا سبب ہوتا ہے عوامی مسائل جو ایران میں ان کو اسلامک ریولیشن کے بعد پہلی بار مل رہا ہے اور دوبارہ ملے کہ نہ ملے اب ان کے ایران میں آنے کے تین اہم سبب ہوں گے ایران کے نیوکلیئر کورٹس کو پروٹیکٹ کرنا کہ وہ حماس اور حزب اللہ کے ہاتھوں میں نہ پڑ جائیں دوسرا مڈل ایسٹ میں جو اسرائیل کے چاروں طرف رنگ آف فائر بن گئی ہے اس کو ختم کرنا اور تیسرا اسٹریٹ آف ہارموس پہ قبضہ کرنا جہاں سے بیس پرسنٹ گلوبل ٹریڈ ہوتا ہے تو ایران میں جو یہ سب کچھ ہو رہا ہے یہ ہر اس سوسائٹی کے لیے ایک سبق ہے جو یہ سوچتی ہے کہ وہ مذہب اور آڈیالوجی کے دم پہ خود کو حکومت کر لیں کیونکہ جس دن اکنومک خراب ہوتی ہے اس دن سارے کے سارے پینترے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

ابو خالد

post bar salamurdu

ابو خالد

نام ابو خالد، ولدیت ناظر الدین ۔ آسام ہندوستان سے تعلق ہے ۔ تعلیم: مادر علمی دار العلوم دیوبند سے حاصل کیا ۔ عمر ۔ ٢٥ سال ۔ احقر کے قلم سے بحمد اللہ قریب دس کتابیں منظر عام پر آئی ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button