- Advertisement -

دھرنا

ایک افسانہ از ایم مبین

دھرنا

سب سےپہلےسیکریٹری نےانھیں اس بات سےمطلع کیا تھا ۔
” آپ نےآج کا اخبار پڑھا ؟ “ فون پر اُس نےپوچھا ۔
” آپ کےفون کی آواز سےجاگا ہوں ۔ تو بھلا اخبار کس طرح پڑھ سکتا ہوں ۔ کہیئے‘ کوئی خاص بات ، خاص خبر ؟ “
” ہاں ! سرکار نےان اسکولوں کی فہرست جاری کی ہےجن کو سرکار نےمنظوری نہیں دی ہے۔ اِس فہرست میں ہماری اسکول کا بھی نام ہے۔ “ دُوسری طرف سےآواز آئی ۔
” کیا ‘ کیا کہہ رہےہیں آپ سرکار نےہمارےاسکول کو منظوری نہیں دی تو کیا ہماری اتنی بھاگ دوڑ ، خط و کتابت ، وزیروں ، آفیسروں سےملنا جلنا ، اُن کی خاطر مدارات سب بےکار گیا ؟ “
” سب بےکار گیا ‘ صدر صاحب ! مجھےپہلےہی سےڈر تھا کہ ایسا ہی ہوگا اور ایسا ہی ہوا ہے ہمیں پہلےہی اطلاع مل گئی تھی ۔ اِس سال بھی سرکار نےہماری اسکول کو منظوری نہیں دی ہے اور اب تو ساری دُنیا کو معلوم ہوجائےگا صدر صاحب ! طوفان
” ہاں سیکریٹری صاحب ! “ وہ تشویش بھرےلہجےمیں بولے۔ ” اِس طوفان کی آمد کو میں بھی محسوس کررہا ہوں ۔ “
اور اِس کےبعد تو اور بھی کئی طوفان آئے۔
لوگوں کو جواب دیتےدیتےاُن کا سر چکرانےلگا
وہ تو اِس بات سےہی فکر مند تھےکہ لوگوں کو فون پر سمجھانا مشکل ہورہا ہے۔جب وہی لوگ اُن کےسامنےہوں گےتو وہ کس طرح اُن کو سمجھا پائیں گے؟
” گپتاجی نےجو اسکول کھولی ہےاُسےتو ابھی تک سرکار کی منظوری بھی نہیں ملی ہے۔ اِس اسکول میں ہمارےبچےپڑھ رہےہیں ۔ یہ تو اُن کی زندگی کےساتھ بہت بڑا کھلواڑ ہے۔ “
” گپتاجی ! آپ نےتو میرےبچےکو کہیں کا نہیں رکھا ۔ آپ کی اسکول کو ابھی تک منظوری نہیں ملی ہے‘ اِس کا مطلب آپ کی اسکول سےنکلنےکےبعد میرےبچےکو کسی بھی اسکول میں داخلہ نہیں ملےگا
” گپتا جی ! اسکول کھولنےکےنام پر آپ نےجنتا سےلاکھوں روپےجمع کئےہیں ۔ پیسہ تو آپ نےجمع کرلیا لیکن اسکول کو منظوری نہیں دِلائی ۔ “
وہ ساری باتیں سننےکےبعد ایک ہی جواب دیتے۔
” آپ کو فکر مند ہونےاور جوش ، غصےمیں آنےکی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سب سرکاری داو¿ پیچ اور ہتھکنڈےہیں ۔ ایک ماہ کےاندر ہماری اسکول کو منظوری مل جائےگی ۔ “
اُنھوں نےبڑےاعتماد سےہر کسی کو جواب دیا اور طےکیا کہ ہر کسی کو یہی جواب دیں گے۔ لیکن وہ اپنےاعتماد کےکھوکھلےپن کےبارےمیں سوچ سوچ کر خود ہی کانپ اُٹھتےتھے۔
” دو سال سےمنظوری حاصل کرنےکی ہر ممکن کوشش کی جاچکی ہے۔ کاغذی کاروائی اور خط و کتابت سےفائلوں کا ڈھیر تیّار ہوگیا ہے۔ محکمہ تعلیم سےوِزارتِ تعلیم ‘ وِزارتِ تعلیم سےسیکریٹریٹ ‘ سیکریٹریٹ سےوزیرِ اعلیٰ کےدفتر کےچکّر لگاتےلگاتےاُن کےساتھ ساتھ سیکریٹری ، اسکول کےکچھ ممبران ، ہیڈ ماسٹر ، کلرک ، ٹیچرس کی چپلیں گھس گئی ہیں ۔
لیکن پھر بھی منظوری نہیں مل سکی ۔
فوراً منظوری حاصل کرنےکا راستہ بھی بتایا گیا تھا ۔ کچھ لےدےکر کام کرلیا جائے۔ لیکن مانگ اتنی بڑی تھی کہ اُن کےساتھ ساتھ پورےبورڈ کو سوچنےپر مجبور ہونا پڑا تھا ۔
بات یہ بھی نہیں تھی کہ جو مانگ تھی وہ پوری نہیں کی جاسکتی تھی ۔ مانگ کی رم کا انتظام ہوسکتا تھا ۔ مانگ سےکئی گنا زیادہ رقم اُن کےپاس موجود تھی ۔
لیکن وہ اپنےاُصول پر اُڑ گئے۔
” ہم لوگوں سےلیتےہیں ہم بھلا دُوسرں کو کیوں دیں ۔ اور پھر ہم جو کچھ کر رہےہیں اِس میں ہمارا ذاتی مفاد تو کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم یہ عوام کی خدمت کےلئےکر رہےہیں ۔ ہم چاہتےہیں کہ ہماری اسکول سےجو بچےتعلیم حاصل کریں وہ اتنےقابل ہوں جو دُنیا کےہر مقابلےمیں اپنی قابلیت اور لیاقت کی بُنیاد پر کامیاب ہوکر ہمارا ، ہماری اسکول کا نام روشن کریں ۔ اِس لئےہم نےتعلیم کےمعیار پر بہت زیادہ توجہ دی ہے۔ “
اور یہ بات تو عوام سےبھی منوا لی تھی کہ اُن کی اسکول کا تعلیمی معیار دُوسری اسکولوں کےمعیار سےبہت اونچا ہے۔ ٹیچر بہت محنت کرتےہیں ۔
اِسی لئےتو ان کی اسکول میں داخلہ لینےکےلئےبچوں کےوالدین کی قطاریں لگ گئی تھیں اور وہ اپنی قطاروں کا فائدہ اُٹھاتےتھے۔
دیکھئےآپ اچھی طرح جانتےہیں ‘ ہماری اسکول کا تعلیمی معیار کتنا اونچا ہے۔ لیکن کیا کریں ‘ ہماری اسکول کو کوئی سرکاری گرانٹ تو ملتی نہیں ۔ و¿پ سےڈونیشن ، فیس اور عوام سےاسکول چلانےکےلئےجو چندہ ملتا ہےاُسی سےیہ اسکول چلتی ہے۔ اِس لئےآپ لوگ ہماری مجبوریوں کو سمجھیں ۔ ہم ڈونیشن کےنام پر آپ سےجو مانگ رہےہیں وہ مانگ ہماری مجبوری ہے۔ ہم آپ لوگوں کی مجبوری کا ناجائز فائدہ نہیں اُٹھا رہےہیں ۔ اِس لئےآپ ہماری مجبوریوں کو سمجھتےہوئےاور اپنےبچوں کےتابناک مستقبل کےلئےزیادہ سےزیادہ رقم دیں ‘ تاکہ اسکول چلانےمیں ہمںےکوئی دِقّت نہ ہو اور ہم آپ کےبچوں کا مستقبل بنا سکیں ۔ “
اپنی مجبوریاں بتا کر اور لوگوں کو اُن کےبچوں کےسنہرےمستقبل کا خواب دِکھا کر اُنھوں نےبچوں کےداخلوں کےنام پر اونچی ڈونیشن وصول کی تھی ۔
اس کا کہیں کوئی حساب کتاب نہیں تھا ۔ وہ لاکھوں روپےاُن کی تجوری میں جمع تھےاور اُن کےبزنس میں لگےہوئےتھے۔
اسکول کھولنےکےنام پر بھی اُنھوں نےعوام سےلاکھوں روپےجمع کئےتھے‘ جن سےاُن کا کاروبار بڑھا تھا ۔ اِس کےعلاوہ بھی وہ آئےدِن اسکول چلانےکےنام پر امیروں سےعطیات وصول کرتےرہتےتھے۔
اِس طرح کتنا روپیہ جمع ہوا اور اسکول کےقیام ، چلانےپر کتنا روپیہ خرچ ہوگیا ، کتنا روپیہ باقی ہے، باقی بھی ہےیا نہیں ؟ اِس بارےمیں تو اسکول کےانتظامیہ کےاراکین کو بھی علم نہیں تھا ۔
سیکریٹری کو کچھ کچھ معلوم تھا ۔ لیکن وہ تو اُن کا اپنا آدمی تھا ۔
تمام ممبران صرف یہ جانتےتھےکہ اسکول کےلئےجگہ خریدی گئی اس جگہ عمارت تعمیر کرکےاسکول قائم کی گئی اسکول شروع ہوئی اسکول چلانےکےلئےٹیچر اور ضروری عملہ متعین کیا گیا ۔ اسکول اور ٹیچر کی تنخواہ کا خرچہ دِن بہ دِن بڑھتا ہی جارہا تھا ۔تمام اخراجات وہی ادا کرتےہیں ۔ اب اتنےپیشےتو جمع ہونےسےرہے۔ ضرور گپتا جی اپنی جیب سےبھی پیسہ لگائےہوں گے‘ بڑےآدمی ہیں ۔ بھگوان نےدَھن کےساتھ ساتھ بڑا دِل بھی دیا ہے۔ اِسی لئےتو اسکول میں دِل کھول کر پیسہ لگاتےہیں ۔ ہمیں اسکول کا ممبر بنا لیا ‘ یہی اُن کا بڑا پن ہے۔ اِس ممبر شپ کےبدلےمیں وہ ایک پیسہ بھی تو نہیں مانگتےہیں نہ پہلےکبھی لیا ۔ لوگ ایسےعہدوں کو پانےکےلئےلاکھوں روپےخرچ کرتےہیں ‘ پھر بھی اُنھیں اِس طرح کےعہدےمل نہیں سکتے۔ لیکن گپتا جی نےہمیں یہ عہدہ مفت میں دیا ہے‘ یہ اُن کا بڑا پن ہے۔ ممبران اب تک اُن کےبارےمیں شاید یہی سوچتےتھے۔ لیکن جب اُنھیں پتہ چلےگا کہ ابھی تک اسکول کو منظوری بھی نہیں ملی ہے۔ تو اب وہ ضرور پوچھیں گے۔
” گپتاجی ! ہماری اسکول او ابھی تک منظوری کیوں نہیں مل پائی ؟ “
” اُنھیںسمجھانا کون سی بڑی بات ہے۔ “ اُنھوں نےاپنا سر جھٹک دیا اور بڑبڑائے۔ ” کہہ دوں گاوزیر منظوری دینےکےدس لاکھ روپےمانگ رہا ہے۔ اسکول کےاراکین کےناطےآپ لوگ ایک ایک لاکھ روپےدیں ۔ اسکول کو منظوری مل جائےگی ۔ یہ سنتےہی سب کی سٹی گُم ہوجائےگی ۔ میں نےاراکین میں ایسےایسےکنجوس جمع کئےہیں جو سگریٹ کےلئےبھی ایک روپیہ خرچ کرنےسےپہلےدس بار سوچتےہیں ۔ اُنھیں ایک لاکھ روپےچندہ دینےکےنام پر سانپ سونگھ جائےگا ۔ اِس کےبعد اُن سےصاف کہہ دوں گا ‘ آپ لوگ اتنا نہیں کرسکتےاور پھر بھی اسکول کےممبر بنےرہنا چاہتےہیں تو اسکول میں کیا ہورہا ہے؟ اِس پر دھیان نہ دیں ۔ میں سب سنبھال لوں گا
اِس کےبعد سب کی بولتی بند ہوجائےگی ۔ “
وہ اسکول گئےتو اسکول میں بچوں کےگھر والوں کا تانتا لگ گیا ۔
” آپ کےاسکول کو ابھی تک منظوری نہیں مل سکی ۔ اِس طرح تو آپ کےاسکول میں پڑھ کر ہمارےبچوں کی زندگی برباد ہوجائےگی ۔ وہ کہیں کےنہیں رہیں گے۔ آپ اِسی طرح ہمارےبچوں کی زندگیوں سےتو نہ کھیلئے “
اُن کا ایک ہی جواب ہوتا ۔
” آپ بےفکر رہیئے‘ ہماری اسکول کو ایک ماہ کےاندر منظوری مل جائےگی ۔ “
بچوں کےماں ، باپ سےنجات ملی تو ہیڈ ماسٹر اور ٹیچرس نےاُنھیں گھیر لیا ۔
” سر ! ہم ایک اُمید پر کم تنخواہ میں بھی سخت محنت کرکےبچوں کو پڑھا رہےہیں کہ گرانٹ ملنےکےبعد ہمیں اچھی تنخواہ ملےگی ‘ لیکن اسکول کو ابھی تک منظوری ہی نہیں ملی ہےتو گرانٹ کس طرح ملےگی ؟
” سب ٹھیک ہوجائےگا ‘ آپ لوگ اپنی اپنی کلاس میں جائیے۔ “
سب چپ چاپ اپنی اپنی کلاسوں میں چلےگئے۔
اُن کےجانےکےبعد اُنھوں نےسیکریٹری ، کلرک اور ہیڈ ماسٹر کا حکم دیا ۔
” بی ، ڈی ، او ، زیڈ ، پی ، ایجوکیشن چیئرمین ، محکمہ تعلیم ، وِزارتِ تعلیم اور وزیرِ تعلیم سب جگہ ایک خط بھیج دو ۔ اگر ایک ماہ کےاندر ہماری اسکول کو منظوری نہیں دی گئی تو اسکول کےانتظامیہ کےاراکین ، ہیڈماسٹر ، ٹیچر ، کلرک اور چپراسی اسکول میں پڑھنےوالےسبھی بچےاور اُن کےوالدین منترالیہ کےسامنےبھوک ہڑتال کریں گے۔ اور منظوری ملنےتک دھرنا دیں گے۔ اِس خط سےدیکھنا ہلچل مچ جائےگی اور ایک ماہ کےاندر منظوری کا خط ہمارےہاتھوں میں ہوگا ۔ “
اُن کی بات سن کر ہر کسی کی آنکھوں میں اُمید کی ایک نئی کرن جگمگانےلگی ۔
دھمکی بھی کارگر ثابت نہیں ہوسکی ۔ کچھ جگہوں سےتو دھمکی کا کوئی جواب ہی نہیں آیا اور کچھ جگہوں سےٹکا سا جواب آیا تھا ۔
”ضابطوں اور اُصولوں کےمطابق آپ کی اسکول کو منظوری نہیں دی جاسکتی ہے۔ “
سب کی آنکھوں کےسامنےاندھیرا چھا گیا ۔
” ٹھیک ہے۔ “ پتہ نہیں کیوں پھر بھی اُن کی آنکھوں میں ایک خود اعتمادی تھی ۔ ٠٢ تاریخ کو یہاں سےمنترالیہ تک ایک مورچےکا انتظام کیا جائے۔ ٠٢ تاریخ کو تمام منجمینٹ کےاراکین ، ہیڈ ماسٹر ، ٹیچرس ، اسٹاف ، تمام بچےاور بچوں کےماں ، باپ اِس دھرنےمیں شامل ہونےچاہیئیں ۔ سب مل کر منترالیہ پر دھرنا دیں گےاور اسکول کی منظوری نہ ملنےتک بھوک ہڑتال کریں گے “
” جی ! “ سب نےایک ساتھ جواب دیا ۔
٠٢ تاریخ کو دو لاریوں میں ٠٢٢ سےزائد بچوں کو ٹھونس ٹھونس کر بھرا گیا ۔ جگہ اِتنی تنگ تھی کہ بچےنہ کھڑےہوسکتےتھےنہ بیٹھ سکتےتھے۔ اُنھیں سانس لینا مشکل ہورہا تھا ۔ لیکن وہ کوئی فریاد نہیں کرسکتےتھے۔ فریاد سننےوالا کوئی نہیں تھا ۔
ایک بڑی سی گاڑی میں انتظامیہ کےاراکین تھے۔ دُوسری چھوٹی گاڑی میں ہیڈ ماسٹر ، ٹیچرس اور اسٹاف تھا ۔
صرف چند بچوں کےماں ، باپ مورچےمیں شامل ہونےکو تیّار ہوئےتھے۔ اُنھیں مورچےکےمقام پر پہنچنےکےلئےکہا گیا تھا۔ دو گھنٹےبعد گاڑیاں آزاد میدان میں جاکر رُکیں ۔
بچےگاڑیوں سےاُترےتو اُنھیں ایسا محسوس ہوا جیسےاُنھیں کسی جہنم سےنجات مل گئی ہے۔
سورج سر پر چڑھ آیا تھا اور آسمان آگ برسا رہا تھا ۔
مورچےکی تیّاری کی جانےلگی ۔ بچوں کےہاتھوں میں تختیاں اور بینرس دےکر اُنھیں نعرےیاد کرائےجانےلگے۔ اُنھیں ضروری ہدایتیں دی جانےلگیں ۔
” سر! پانی ‘ بہت لگی ہے۔ “ کوئی بچہ ہونٹوں پر زبان پھیر کر بولا تو اُس کی آواز میں سیکڑوں آوازیں شامل ہوگئیں ۔
” یہاں پانی نہیں ملےگا ۔ ہم یہاں بھوک ہڑتال کرنےآئےہیں ‘ کھانےپینےنہیں ۔ “ ایک ٹیچر نےاُسےسمجھایا تو بچےاپنےپھٹےہوئےہونٹوں پر زبان پھیرنےلگے۔
پیاس سےحلق میں کانٹےپڑ رہےتھے۔ گلےسےآواز نہیں نکل رہی تھی ۔ اوپر سر پر سورج آگ برسا رہا تھا ۔ لیکن پھر بھی وہ پوری قوت سےنعرےلگاتےلڑکھڑاتےقدموں سےآگےبڑھ رہےتھے۔
”ہماری مانگیں پوری کرو “
” ہماری اسکول کو منظوری دو “
”ہماری زندگیوں سےمت کھیلو “
” وزیرِ تعلیم ! ہائے‘ ہائے “
” محکمہ¿ تعلیم ! ہائے‘ ہائے “
” وزیرِ اعلیٰ ! مُردہ باد “
ٹیچرس بچوں پر نظر رکھےہوئےتھے۔
اُنھیں زور زور سےنعرےلگانےکےلئےاُکساتے۔ کوئی بچہ نعرہ نہیں لگاتا تو اُسےٹوکتے۔ آپس میں باتیں کرنےوالےبچوں کو ڈانٹتے۔ کسی کسی پر ہاتھ بھی اُٹھا دیتے۔ بچوں کو قطار میں ٹریفک سےبچ کر چلنےکی ہدایتیں دیتے۔
انتظامیہ کےاراکین ایک دُوسرےکےساتھ ہنسی مذاق کرتےچل رہےتھے۔کبھی کوئی ممبر سب کےلئےآئ کریم یا کولڈ ڈرنک لےآیا تو کوئی سافٹ ڈرنک کی بوتلیں یا پھر کھانےپینےکی کوئی چیز ۔ ان سب کا لُطف اُٹھاتےوہ مورچےکےساتھ ساتھ چل رہےتھے۔
دو گھنٹےبعد مورچہ منترالیہ پہنچ گیا ۔ منترالیہ سےپہلےہی بڑےسےمیدان میں پولس نےاُنھیں روک لیا ۔
سب میدان میں دھرنا دےکر بیٹھ گئے۔
آگےآگےگپتاجی ، سیکریٹری اور انتظامیہ کےاراکین تھے۔ اُن کےپیچھےہیڈ ماسٹر ، ٹیچر ، دیگر اسٹاف اور اُن کےپیچھےبچے۔
سب زور زور سےنعرےلگا رہےتھے۔
سب کو سختی سےحکم دیا گیا تھا کہ وہ اتنی زور سےچیخیں کہ منترالیہ کی چھتیں ہل جائیں ۔
لیکن دس کروڑ عوام کی چیخوں سےجن کا کچھ نہیں بگڑتا تھا ‘ سو دو سو بچوں کےنعرےبھلا اُن کا کیا بگاڑ سکتےتھے۔
کسی وزیر کی گاڑی آتی تو ” زندہ باد ‘ مردہ باد “ کےنعرےاور زور زور سےلگائےجاتے۔
بھوک پیاس سےبچوں کا برا حال تھا اوپر سےتپتی دھوپ جس زمین پر وہ بیٹھےتھےوہ بھی تندور کی طرح تپ رہی تھی ۔ بچوں کی آنکھوں کےسامنےاندھیرا چھا رہا تھا ۔ اچانک ایک بچہ چکرا کر گرا اور بےہوش ہوگیا ۔ سب اُس کی طرف دوڑے۔ اُسےہوش میں لانےکی کوشش کی جانےلگی ۔ لیکن بچہ آنکھ نہیں کھول رہ تھا ۔
قریب کھڑےڈاکٹر نےبچےکو چیک کیا اور متفکر آواز میں بولا ۔
” اِس بچےکی حالت بہت نازک ہے۔ اِس کا بلڈ پریشر لو ہورہا ہے۔ اِسےفوراً اسپتال پہنچانا بہت بہت ضروری ہے۔ “
” نہیں ! “ گپتاجی ڈٹ گئے۔ ” چاہےبچےکی جان چلی جائے۔ بچہ دھرنےسےنہیں ہٹےگا ۔ جب تک ہماری مانگ پوری نہیں ہوتی ‘ کوئی بھی بچہ یہاں سےنہیں ہلےگا ۔ “
اِس درمیان دو اور بچےچکرا کر گر گئےتھے۔
کئی بچوں نےبھوک اور کمزوری سےاپنی گردنیں اپنےساتھیوں کےکاندھوں پر ڈال دی تھیں ، کچھ کمزوری کی وجہ سےزمین پر لیٹ گئےتھے۔ ڈاکٹر اور وہاں پہرہ دینےوالےپولس والوں کےچہروں پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں ۔
گپتاجی اور اُن کےساتھیوں پر فاتحانہ مسکراہٹ رقص کررہی تھی ۔
خبریں منترالیہ میں پہونچیاور وہی ہوا جو ایسےموقعوں پر ہوتا ہے۔ منترالیہ ہلنےلگا ۔
” ایک آدھ بچہ مر گیا تو اپوزیشن اور پریس سارا آسمان سر پر اُٹھا لیں گےاور ہماری حکومت کےدُشمن ہوجائیں گے۔ اُن سےکہہ دو کہ وہ دھرنا ختم کرکےواپس اپنےشہر چلےجائیں ۔ اُن کی اسکول کی منظوری کےبارےمیں سنجیدگی سےغور کیا جائےگا ۔ “
ایک سیکریٹری بولا ۔
” سر وہ منظوری سےکم کسی بھی وعدےپر بات کرنےکو تیّار نہیں ہے۔ صفا کہتےہیں کہ اُن کی اسکول کو منظوری دی جائےگی تب ہی وہ دھرنےسےہٹیں گے۔ “
اِس درمیان چار اور بچوں کےبےہوش ہونےکی خبر اوپر پہونچی ۔ وزیرِ تعلیم کےسارےسیکریٹری گھبرا گئے۔ وزیرِ اعلیٰ کےسیکریٹری کےبھی کان کھڑےہوگئے۔
بات وزیرِ اعلیٰ تک پہونچ گئی تھی ۔ وہ غصےسےبولا
” تماشہ بنا کر بات مت بڑھاو¿ ۔ وزیرِ تعلیم سےفوراً کہو کہ میرا حکم ہے۔ اُن کی اسکول کو فوراً منظوری دےدو ۔ “
نیچےآکر گپتاجی کو یہ خبر دی گئی ۔
” وزیرِ تعلیم نےآپ کی اسکول کو منظوری دےدی ہےاور وہ آپ سےبات کرنا چاہتےہیں ۔ “
گپتاجی کا چہرہ گلاب کی طرح کھل اُٹھا ۔
” میرےپیارےساتھیوں اور بچوں ! ہمارا دھرنا کامیاب رہا ۔ جس کام کےلئےہم نےدھرنا دیا تھا ، مورچہ نکالا تھا وہ کام ہوگیا ہے۔ وزیرِ تعلیم نےہماری اسکول کو منظوری دےدی ہے۔ اِس دھرنےمیں ہمیں جو تکلیفیں اُٹھانی پڑیں ‘ وہ رنگ لائی ہیں ۔ کچھ پانےکےلئےکچھ کھونا پڑتا ہے، کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اپنےحقوق کو حاصل کرنےکےلئےجو لڑائیاں لڑی جاتی ہیں اُن میں مشکلات اور تکلیفیں تو اُٹھانی پڑتی ہیں ‘ لیکن آخر میں جیت سچائی کی ہی ہوتی ہے۔ آپ لوگ دھرنا ختم کرکےشہر واپس چلےجائیں ۔ میں اور کمیٹی کےاراکین منتری جی سےبات کرکےآتےہیں منتری جی نےہمیں چائےپر بلایا ہے۔

ایم مبین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Afsana By Munshi Prem Chand