- Advertisement -

سنگھار کمرے میں!

ایک افسانہ از اختر شیرانی

سنگھار کمرے میں!

“سنگھارکمرے “میں قدِّ آدم آئینے کے سامنے کھڑی ہوں۔۔۔۔۔ اُس آئینے کے سامنے جس میں اپنا عکس دیکھ کر مغرور ہونا۔ ایک عورت کی فطری خواہش ہوتی ہے اور شاید فطری حق بھی۔۔۔۔۔ ! میں بھی اپنے دل میں غرور کا ایک شدید جذبہ محسوس کر رہی ہوں۔۔۔۔۔ مست اور مسرور!
مردوں کی دُنیا میں عورت کا غرور مشہور ہے ! عورت، حسین ہو یا نہ ہو، مغرور ضرور ہوتی ہے۔۔۔۔۔ اُس کا عورت ہونا ہی اُس کا سب سے بڑا غرور ہے۔ کون ہے جو ایک عورت سے اُس کا یہ غرور چھین سکتا ہے۔۔۔۔۔ ؟ ؟۔۔۔۔۔ پھر اُس عورت کا غرور جو عورت ہونے کے علاوہ فن کار(آرٹسٹ) بھی مشہور ہو۔۔۔۔۔ ایک ہردلعزیز اور محبوب ایکٹرس! !
میری “سنگھار میز “کی درازوں میں کتنے دلوں کی دھڑکنوں کے راز بند ہیں؟۔۔۔۔۔ صرف میں جانتی ہوں!۔۔۔۔۔ اُن پُر جوش اور ہیجانی اظہارِ عشق سے لبریز خطوط کا حال، کسی کو کیا معلوم، جو مجھے بیسیوں کی تعداد میں ملک کے مختلف حصّوں سے روزانہ موصول ہوتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔ زیادہ تر جواب سے محروم رکھے جاتے ہیں، اور کمتر، رسید سے سرفراز ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ صرف رسید سے !۔۔۔۔ یہ بیوقوف نوجوان نہیں جانتے کہ ایک عورت عُشّاق کی اتنی طویل فہرست کو کیونکر خوش کر سکتی ہے ؟ ؟۔۔۔۔۔ لیکن شاید میں نے غلطی کی! وہ سب کو خوش کر سکتی ہے۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ سب کو بے وقوف بنا سکتی ہے !
میری سہ سالہ فلمی زندگی کیا ہے ؟۔۔۔۔۔ اِسی تجربے کا محور ہے !۔۔۔۔۔ ایک ایسے دلچسپ تجربے کا جس کے اعادہ و تکرار سے غالباً کوئی عورت کبھی نہیں تھک سکتی۔۔۔۔۔ کم از کم میں تو کبھی نہیں تھکی۔۔۔۔۔ !
لیکن۔۔۔۔۔ اِس آئینے کے، اِس شفاف آئینے کے سامنے۔۔۔۔۔ میرے اپنے آئینے کے سامنے۔۔۔۔۔ آج یہ مجھے کیا یاد آ رہا ہے۔۔۔۔۔ ؟ وہ چیزیں جن کو میں بھُلانا نہیں چاہتی، مگر جو اپنی عنایت سے مجھے بھُلا چکی ہیں۔۔۔۔۔ کیا یہ مجھے اِس لیے یاد آ رہی ہیں کہ میں اپنے آپ کو یہاں بے نقاب دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔ !
اِس قدِّ آدم شاندار آئینے کے سامنے، سروَ قد ایستادہ، با ایں ہمہ کیف و نخوت ضمیر کی ہلکی سی بھی شرمندگی محسوس کرنا ناقابلِ برداشت ہے !۔۔۔۔۔ مگر زندگی۔ وہ زندگی جسے دنیا تلخ و بے کیف کہنے کی عادی ہے۔۔۔۔۔ میرے لیے اِس قدر شیریں و سرشار بن چکی ہے کہ میں اِس خلش۔ اِس ہلکی سی خلش کی مطلقاً پروا نہیں کروں گی۔۔۔۔۔ میں اِسے فراموش کر دوں گی۔۔۔۔۔ میری زندگی ایک عظیم الشان لذّت ہے۔۔۔۔۔ اور اِس لذّت کے کیف و نشاط میں۔۔۔۔۔ ضمیر، دل یا روح کی ندامتوں کے لیے ذرّہ بھر گنجائش نہیں!
یہ خوبصورت اور دلکش آئینہ بتا رہا ہے کہ میں بھی خوب صورت ہوں۔ اور دلکش!۔۔۔۔۔ کم از کم دُنیا کی نظریں مجھے بے حد حسین سمجھتی ہیں۔۔۔۔۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ یہ غازہ و گلگونہ کی مہربانی تو نہیں۔۔۔۔۔ ؟ لیکن پِندارِ حُسن کی ایک خاموش آواز کہتی ہے۔۔۔۔۔ “نہیں! “میں واقعی حسین ہوں۔۔۔۔۔ مگر کچھ زیادہ مشہور ہو گئی ہوں۔۔۔۔۔ ! یہ میری ہر دل عزیزی ہے !۔۔۔۔۔ غالباً۔۔۔۔۔ نہیں یقیناً ! !
میرا اعلیٰ درجہ کی مغنّیہ ہونا، نُورٌ علیٰ نُور،۔۔۔۔۔ سمجھنا چاہئے !۔۔۔۔۔ دُنیا ایسا سمجھتی ہے۔۔۔۔۔ فلم کے پردے پر میرا سراپا نغمہ و رقص بن کر نمودار ہونا۔ تماشائیوں کے سینے میں ہنگامۂ حشر برپا کر دیتا ہے۔۔۔۔۔ مجھے اپنی اِس کامیابی کا احساس ہے !۔۔۔۔۔ میں اپنی قیمت اچھی طرح جان گئی ہوں! ! کیونکہ اب میں وہ بھولی بھالی لڑکی نہیں ہوں، جو آج سے چند سال پہلے دُنیا، اور دُنیا کی دلچسپیوں سے واقف نہ تھی۔۔۔۔۔ ایک نادان دوشیزہ! انجان اور معصوم بھی۔۔۔۔۔ !
مجھے وہ زمانہ اچھی طرح یاد نہیں رہا۔ اِس لیے نہیں کہ میں اُسے یاد رکھنا نہیں چاہتی۔ بلکہ اِس لیے کہ نہ بھُولنے والی چیزیں، جلد بھُول جاتی ہیں !۔۔۔۔۔ لکھنؤ کے چوک کی کسی گلی میں۔۔۔۔۔ ہمارا گھر تھا۔۔۔۔۔ ایک ٹوٹا پھوٹا مکان جو۔۔۔۔۔ شاید آصف الدّولہ کے عہد میں بنا تھا۔۔۔۔۔ گھرکی مالکہ نے مجھے یہی بتایا تھا۔۔۔۔۔ ! اپنے موجودہ شان دار مکان کا اُس سے مقابلہ کرتی ہوں تو انقلابِ زمانہ کی تصویر آنکھوں میں پھر جاتی ہے۔۔۔۔۔ ! !
ہمارے گھرکے مکین، صرف دو تھے۔۔۔۔۔ ! ! میں اور میری والدہ۔۔۔۔۔ جن کی شفقت نے مجھے اپنے موجودہ عروج اور شہرت و مقبولیت کے درجہ تک پہنچایا ہے۔۔۔۔۔ میں اپنی تمام تر ترقی کے لیے شاید سب سے زیادہ اُن ہی مرحومہ کی ممنون ہوں۔۔۔۔۔ لیکن اِس کے باوجود، ایک معاملے میں ہمیشہ اُن کی شاکی بھی رہی۔ اُنھوں نے کبھی مجھے میرے والد کے نام سے آگاہ نہیں کیا! !۔۔۔۔۔ آج۔۔۔۔۔ اِس طویل و وسیع آئینہ کے سامنے اپنی سروِ تمثال ہستی کا مقابلہ۔ اُس یازدہ سالہ۔ درمیانہ پیکر سے کرتی ہوں جو لکھنؤ کے “میکدے بے خروش “میں اپنے والد کے متعلق استفسار کرنے پر اکثر اپنی والدہ کو ناراض کر لیا کرتی تھی۔۔۔۔۔ تو مجھے بے اختیار ہنسی آ جاتی ہے۔
آج مجھے اُن مرحومہ کی خاموشی کا مطلب اچھی طرح معلوم ہے۔۔۔۔۔ لیکن اُس وقت۔۔۔۔۔ اُس وقت میں بے وقوف تھی۔ مجھے اُن سے ایسا سوال نہ کرنا چاہئیے تھا۔۔۔۔۔ ایسا سوال۔۔۔۔۔ جو آج میں خوب سمجھتی ہوں کہ کسی “چوک “میں رہنے والی عورت کی کسی لڑکی نے اپنی ماں سے نہ کیا ہو گا۔۔۔۔۔ !
ہمارے گھر پر بہت کم لوگ آتے تھے۔۔۔۔۔ ایک بوڑھا گویّا رحمت خاں جو میری والدہ کا بھی اُستاد تھا۔ مجھے موسیقی کی تعلیم دینے آیا کرتا تھا ایک ادھیڑ عمر کا طبلچی جو اُستاد کے ساتھ ہوتا تھا اور تعلیم کے دوران میں طبلہ بجایا کرتا تھا۔۔۔۔۔ تین چار اور بوڑھے آدمی۔۔۔۔۔ جن کے متعلق مجھے ایک ہمسائی نے بتایا تھا کہ وہ میری والدہ کے بہت پرانے دوست ہیں۔۔۔۔۔ اُن شریف آدمیوں کے سوا میں نے کسی کو اپنے گھر آتے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔ کم از کم کسی نوجوان کو ہر گز نہ دیکھا۔۔۔۔۔ در حالیکہ ہماری نوجوان پڑوسنوں کے بڑے بڑے مکانوں پر شہر کے شریف نوجوانوں کا جمگھٹ لگا رہتا تھا۔۔۔۔۔۔ ! موسیقی کے محشر انگیز ہنگامے، ماکولات و مشروبات کی افراط، نوکروں کی آمدو رفت، زیورات کی جھنکار اور ریشمیں و مخملیں ملبوسات کی سرسراہٹیں! !

اختر شیرانی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک افسانہ از اختر شیرانی