- Advertisement -

جدائی

ایک افسانہ از اختر شیرانی

جدائی

بسا اوقات، غروبِ آفتاب کے وقت، اِس غمگین اور افسُردہ دل کوہسار پر ایک سالخوردہ شاہ بلوط کے درخت کی چھاؤں میں بیٹھ جاتا ہوں اور وہاں سے۔۔۔۔ اِس وسبع وسرسبز وادی کی طرف، جس کا فانی اور بے ثبات منظر، میرے قدموں میں بچھا ہوتا ہے۔۔۔۔ نظر دوڑاتا ہوں۔
________________
یہاں ایک طوفانی آبشار، اپنی کف آلود موجوں کے ساتھ لہراتا، بل کھاتا اور شور مچاتا ہوا اپنا پیچ در پیچ راستہ طے کرنے میں مصروف رہتا ہے۔۔۔۔ اور ایک گہری اور دوردست تاریکی کے پردوں میں گم ہو کر دور۔۔۔۔ میدانی سطح پرجا کر ایک چھوٹاسادریابن جاتا ہے۔۔۔۔ جس کے خاموش پانی کی حسین سطح سے طلائی ستارے اُبھرکرآسمان کی لاجوردی چادر پر طلوع ہوتے ہیں۔
________________
ابھی غروب ہوتے ہوئے آفتاب کی آخری شعاعیں اِس کوہسارکی چوٹیوں اور ٹیکریوں پر، جو گھنیرے درختوں اور جنگلوں کے زمرّدیں تاج پہنے نظر آتی ہیں۔۔۔۔ چمک رہی ہیں۔۔۔۔ اور ملکۂ ظلمات کی غبار آلودسواری، اِن مقامات پرآہستہ آہستہ بلند ہو رہی ہے اور اُفق کے دامنوں کو بتدریج روشن اور تابناک بناتی چلی جاتی ہے۔
_______________
اِس عالم میں ایک مذہبی زمزمہ، تمام فضاؤں پرپھیل جاتا ہے۔ مسافراور راہ نورد ٹھہر جاتے ہیں اور دیہاتی چرچ کے ناقوس کی صدا دن کی آخری آواز میں ڈوب کر ایک مقدّس آہنگ سا پیدا کر دیتی ہے۔
_______________
مگر، میری بے پروا اور محرومِ آرزو روح، اِن تمام حسین و رنگین مناظر کی موجودگی میں ہر طرح کے جذبے اور ہیجان سے خالی ہے۔۔۔۔ زمین، مجھے ایک گھومتا ہوا پریشان ساسایہ نظر آتی ہے۔۔۔۔ ہاں، زندوں کا آفتاب مُردوں کو حرارت نہیں بخشتا۔
_______________
میں، بے ضرورت طلوعِ صبح سے لے کر غروبِ شام تک، شمال سے جنوب اور ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی پر، اپنی حیرت زدہ اور خاموش نگاہیں لُٹاتا رہتا ہوں اور اِس وسیع وادی کے تمام حصّوں کی پیمائش میں مصروف۔۔۔۔ بالآخر چلّا اُٹھتا ہوں۔
میرے لیے جہاں میں کہیں بھی خوشی نہیں
یہ وادیاں اور چشمے ! یہ مکانات اور محلّات اور یہ جھونپڑیاں۔۔۔۔ یہ سب بیہودہ اور بیکار چیزیں۔۔۔۔ جن میں سے کسی کے حُسن کا بھی مجھ پر ایک شمہ بھر اثر باقی نہیں رہا۔۔۔۔ میرے کس کام کی!
اے خوب صورت چشمو! موّاج آبشارو! اونچی چٹانو! سرسبزجنگلو! گل پوش وادیو! اورحسین خلوت گاہو! تمھاری فضاؤں میں صرف ایک متنفّس کی کمی واقع ہوئی ہے۔۔۔۔ مگراِسی ایک کمی نے تم سب کو ویران اور سنسان کر دیا ہے !
_______________
آفتاب کے طلوع سے لے کر غروب تک، اُس کی اُبھرتی اور ڈھلتی پھرتی چھاؤں کا ایک بے حس و حرکتِ نظرسے مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔۔۔۔ یہ آفتاب، جو تاریک یا شفاف آسمان پر چمکتا ہے اور چھپتا رہتا ہے۔ میرے لیے کیا دل چسپی رکھتا ہے ؟ میرے لیے تواِس لیل و نہار کی بستی میں کوئی آرزو اور انتظار ہی نہیں رہا۔
_______________
جب ماہتاب، اپنی وسیع جولانگاہ کو طے کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔ اُس وقت بھی میری نگاہیں ہر طرف ایک خلا سا محسوس کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔ میں اِس تمام کائنات میں جو مہتاب کی روشنی سے لبریز نظر آتی ہے۔۔۔۔ کسی طرف سے کوئی بھی اُمید کی کرن پھوٹتی نہیں دیکھتا ۔۔۔۔ میرے دل میں اِس وسیع کائنات اور غیر متناہی موجودات کی طرف سے کوئی مقصد اور ارمان پیدا نہیں ہوتا۔
_______________
اگر ممکن ہوتا کہ میں اِس دائرۂنوروسرورکوآسمان سے چھین کر زمین پر اُٹھا لاتا۔۔۔۔ تو شاید میں اپنے اُس پیکرِ رنگ و بُو کا، جس کے متعلق میں ہمیشہ سوچتاہوں اور عام خیال میں پرستش کرتا ہوں۔۔۔۔ دُور۔۔۔۔ اُفق کے اُس پار، اِس دنیا کی فضاؤں کے کنارے سے ماورا، اُن مقامات میں، جوکسی اور ہی آسمان کے حقیقی ماہتاب کی کرنوں کا گہوارہ ہیں۔۔۔۔ مشاہدہ کر سکتا۔
_______________
اُن مقامات میں۔۔۔۔ میں اُن سرچشموں سے، جن کا میں اِس قدر شیفتہ و مشتاق ہوں۔ شرابِ لعل فام پیوں گا اورسرمست وسرشارہو جاؤں گا۔۔۔۔ اُن مقامات میں، مجھے امیدوارِ عشق کی دولت حاصل ہو گی۔۔۔۔ اور ساتھ ہی وہ ایک وہمی اور تصوری متاعِ عزیز،۔۔۔۔ جس کی تمام روحیں آرزومند رہتی ہیں اور جس کا ہماری فانی سر زمین پر کوئی نام نہیں۔۔۔۔ !
اے میری تمام آرزوؤں اور اُمیدوں کے تنہا۔ مگر مبہم مطلوب و منتہا! میر ی بے بسی کے لیے ممکن نہیں کہ نسیمِسحرکی آغوش میں سما جاؤں اور وہ مجھے تجھ تک پہنچا دے ! آہ میں کیوں اب تک، اِس سر زمین پر، جو فراق کا نشیمن اور جُدائی کا مسکن ہے۔۔۔۔ زندہ اور موجود ہوں۔ درحالیکہ مجھ میں اور زمین میں کوئی ربط و تعلق نہیں رہا ہے !
_______________
جس وقت درختوں کے پتّے، سبزہ زار کے دامن میں، گرتے ہیں۔۔۔۔ تونسیم شبانہ گاہی چلتی ہے اور اِن کو وادیوں کے اور درّوں کے آغوش سے زبردستی چھین کر دور پھینک آتی ہے۔ !
شمال کی طوفانی ہواؤ! تم بھی مجھے اِن پتّوں کی طرح اُٹھا لو اور اپنے ساتھ لے چلو :۔

(لامارٹین)

اختر شیرانی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک افسانہ از اختر شیرانی