مرد : درد کا سفیر
ایک اردو افسانہ از پیر انتظار حسین مصور
بستی بھر میں اس کے چرچے تھے۔ وہ چہرہ کیا تھا، گویا ہنستا مسکراتا ایک چنچل سا استعارہ، جس کی شوخی اور رعنائی کا کوئی ثانی نہ تھا۔ قدرت نے اسے حسن سے نوازا تھا اور قسمت نے اسے ایک بڑا افسر بنا دیا تھا۔ مگر اس چمکتے ہوئے افسر کے پیچھے ایک بیوہ ماں کی وہ خاموش مشقت تھی جس نے غربت کے تھپیڑوں میں اسے پالا، برتن دھوئے اور فاقے کاٹ کر اسے اس مقام تک پہنچایا۔
وہ جتنا وجیہہ تھا، اس کا دل اتنا ہی موم کا تھا۔ بچپن کا وہ منظر آج بھی ماں کی آنکھوں میں لہراتا تھا جب صحن میں ایک زخمی پرندہ گرا تھا۔ وہ بچہ، جسے آج سب "بڑا صاحب” کہتے تھے، اس پرندے کو سینے سے لگا کر دھاڑے مار مار کر رو رہا تھا۔ اس کی ہچکیاں بند نہیں ہو رہی تھیں اور وہ بار بار تڑپ کر پوچھتا، "امی! اس معصوم کو کس ظالم نے مارا؟ اسے کتنا درد ہو رہا ہوگا نا؟” اس دن ماں نے جان لیا تھا کہ اس کا بیٹا بہت حساس ہے، یہ کسی کا دکھ برداشت نہیں کر سکتا۔ تبھی تو جب کبھی وہ ذرا سا پریشان ہوتا، ماں اس کا سر گود میں رکھ کر کہتی، "پریشان نہ ہو میرے بچے، میں ہوں نا!” اور جب اسے بخار ہوتا تو ماں کی راتیں اس کے سرہانے جاگ کر کٹتیں۔ اسے زمانے کی ہر تپش سے بچانے والی وہ ماں، اسے زندگی کی ہر تلخی سے دور رکھتی آئی تھی۔
پھر اس کی زندگی میں محبت آئی۔ ایک ایسا سحر جس نے اسے قید کر لیا۔ اس کی شادی ہو گئی، مگر یہ محبت اپنے ساتھ ایک کڑا امتحان لے کر آئی۔ ایک شام، جب وہ تھکا ہارا گھر لوٹا، تو اس کی بیوی نے انا اور ضد کی دیوار کھڑی کر دی:
"یا تو تم اپنی ماں کے ساتھ رہو گے، یا میرے ساتھ۔ آج فیصلہ کر لو، تمہیں کسے رکھنا ہے؟”
اس کے سامنے دو راستے تھے، اور دونوں ہی اس کے وجود کا حصہ تھے۔ ایک طرف وہ ماں تھی جس کی ممتا نے اسے عدم سے وجود بخشا، اور دوسری طرف وہ پیار جس کے بنا اسے جینا محال لگتا تھا۔ اس کے حساس دل پر جیسے آرے چلنے لگے۔ اسے اپنا وہ بچپن یاد آیا، ماں کی وہ لوریاں، وہ بے لوث قربانیاں، اور پھر اسے اپنی بیوی کی وہ بے رخی یاد آئی جو اب شرطیں رکھ رہی تھی۔ وہ کچھ وقت مانگ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس کے اندر ایک طوفان برپا تھا۔ اسے لگا جیسے وہی زخمی پرندہ آج اس کے اپنے سینے کے اندر تڑپ رہا ہے۔ وہی ہچکیاں، وہی کرب، مگر آج وہ بڑا ہو گیا تھا، آج وہ رو بھی نہیں سکتا تھا۔ اس کا حساس دل اس کشمکش کا بوجھ نہ سہہ سکا۔ محبت اور ممتا کی اس جنگ میں اس کے دل کی دھڑکنیں آہستہ ہوئیں اور پھر ہمیشہ کے لیے تھم گئیں۔
کچھ دیر بعد جب بیوی غصے میں بھری کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں ایک ہولناک خاموشی تھی۔ وہ ہنستا مسکراتا چہرہ اب ساکت تھا۔ بیوی دھاڑے مار مار کر رونے لگی، وہی بیوی جو تھوڑی دیر پہلے اسے چھوڑنے کی دھمکیاں دے رہی تھی۔ دوست احباب جمع تھے، جو جانتے تھے کہ وہ کتنا حساس تھا، کسی کو دکھ میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ماں صحن میں بیٹھی پتھر بنی آسمان کو تک رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے، بلکہ ایک عجیب سی سرد مہری تھی۔ وہ بہو کے پاس آئی، جو لاش سے لپٹ کر معافیاں مانگ رہی تھی، اور بڑے کرب سے بولی:
"بیٹی! اسے اب تیرے رونے سے فرق نہیں پڑے گا۔ تو نے تو صرف اس سے ‘گھر’ مانگا تھا نا؟ دیکھ، اس نے تیرے لیے پورا جہاں چھوڑ دیا۔ تو جیت گئی ہے اور میرا بیٹا ہار گیا ہے۔”
آج کی عورت کے لیے اس کہانی میں ایک بہت بڑا سبق چھپا ہے۔ انا اور ضد اکثر ان جذبوں کا خون کر دیتی ہے جو دوبارہ کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔ وہ مرد جو زمانے کی نظر میں ایک ‘بڑا افسر’ تھا، درحقیقت اپنی ماں کی ممتا اور اپنی بیوی کی محبت کے درمیان پسنے والا ایک ایسا سفیر تھا جس نے اپنے حصے کا سارا درد خود پی لیا تاکہ رشتوں کا بھرم رہ سکے، مگر رشتوں نے اس کا بھرم نہ رکھا۔
وہ مرد تھا، جو اپنی جبلت میں تو مضبوط تھا، مگر حقیقت میں وہ "درد کا سفیر” بن کر خاموشی سے رخصت ہو گیا۔
پیر انتظار حسین مصور








