اردو غزلیاتاکرام عارفیشعر و شاعری

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

اکرام عارفی کی ایک اردو غزل

یہ مرے گھر کے تین چار درخت
ہیں دساور کے تین چار درخت

پھر ہوا شاخ شاخ سے لپٹی
آشنا کر کے تین چار درخت

جیسے کاغذ کی ایک دو کلیاں
جیسے پتھر کے تین چار درخت

دشت درپیش ہے سو چلتا ہوں
آنکھ میں بھر کے تین چار درخت

شاہ نے باغ میں اگائے ہیں
سنگ مرمر کے تین چار درخت

دشت دل اس قدر پھلا پھولا
دیکھے مر مر کے تین چار درخت

آخری وقت بس ہوائیں تھیں
اور صنوبر کے تین چار درخت

اکرام عارفی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button