اردو غزلیاتسیّد اقبال عظیمشعر و شاعری

وہ یوں ملا کے بظاہر خفا خفا سا لگا

سیّد اقبال عظیم کی ایک اردو غزل

وہ یوں ملا کے بظاہر خفا خفا سا لگا
وہ دوسروں سے مگر مجھ کو کچھ جدا سا لگا

مزاج اُس نے نہ پوچھا مگر سلام لیا
یہ بے رخی کا سلیقہ بھی کچھ بھلا سا لگا

وہ جس کی کم سُخنی کو غرور سمجھا گیا
میری نگاہ کو وہ پیکرِ حیا سا لگا

میں اپنے کرب کی روداد اُس سے کیا کہتا
خود اُس کا دل بھی مجھے کچھ دُکھا دُکھا سا لگا

غبارِ وقت نے کچھ یوں بدل دیئے چہرے
خود اپنا شہر بھی مجھ کو نیا نیا سا لگا

گھُٹی گھُٹی سی لگی رات انجمن کی فِضا
چراغ جو بھی جلا کچھ بجھا بجھا سا لگا

جو ہم پہ گزری ہے شائد سبھی پہ گزری ہے
فسانہ جو بھی سُنا کچھ سُنا سُنا سا لگا

میں گھر سے چل کے اکیلا یہاں تک آیا ہوں
جو ہمسفر بھی ملا ، کچھ تھکا تھکا سا لگا

کچھ اس خلوص سے اُس نے مجھے کہا اقبال
خود اپنا نام بھی مجھ کو بہت بڑا سا لگا

سیّد اقبال عظیم

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button