23 مارچ : قراردادِ پاکستان سے آج تک کا سفر
مصنف: نعمان علی بھٹی
23 مارچ پاکستان کی تاریخ کا وہ سنہری دن ہے جب ایک خواب کو باقاعدہ شکل دی گئی۔ 1940 میں منظور ہونے والی قراردادِ پاکستان دراصل برصغیر کے مسلمانوں کی اُس دیرینہ خواہش کی ترجمان تھی جس میں وہ ایک ایسی ریاست کے طلبگار تھے جہاں وہ اپنی مذہبی، سماجی اور ثقافتی اقدار کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔
یہ دن صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک عزم اور ایک جدوجہد کی علامت ہے۔ ہمارے بزرگوں نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، وہ محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک ایسا معاشرہ تھا جہاں انصاف، برابری اور اسلامی اصولوں کی حکمرانی ہو۔
آج جب ہم 23 مارچ مناتے ہیں تو ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی اُس راستے پر گامزن ہیں جس کی بنیاد اس قرارداد میں رکھی گئی تھی؟ کیا ہم نے اپنے معاشرے کو وہی شکل دی ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا؟
بدقسمتی سے آج ہمارا معاشرہ کئی چیلنجز کا شکار ہے۔
خاص طور پر نوجوان نسل ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں اسے شناخت کے بحران، بے روزگاری، تعلیمی مسائل اور اخلاقی زوال جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جو نہ صرف فرد کو متاثر کرتے ہیں بلکہ قومی ترقی کو بھی سست کر دیتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے نوجوانوں کی سوچ اور طرزِ زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ جہاں یہ پلیٹ فارمز معلومات اور اظہارِ رائے کا ذریعہ ہیں، وہیں ان کا غلط استعمال نوجوانوں کو حقیقت سے دور بھی کر رہا ہے۔
ایسے میں ضروری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی رہنمائی کریں، انہیں صحیح سمت دکھائیں اور ان میں یہ شعور پیدا کریں کہ وہ اپنے کردار، علم اور عمل کے ذریعے اس ملک کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
اسی مقصد کے تحت مختلف علمی و ادبی پلیٹ فارمز اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سلام اردو ویب سائٹ بھی ان میں سے ایک ہے جہاں معاشرتی، فکری اور اصلاحی موضوعات پر معیاری تحریریں پیش کی جا رہی ہیں۔ ایسے پلیٹ فارمز نہ صرف لکھنے والوں کو اظہار کا موقع دیتے ہیں بلکہ قارئین کو بھی سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ان پلیٹ فارمز سے جڑیں، مثبت سوچ کو فروغ دیں اور اپنے اردگرد کے ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ کیونکہ ایک مضبوط معاشرہ ہی ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد بنتا ہے۔
23 مارچ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر نیت صاف ہو، عزم مضبوط ہو اور جدوجہد مسلسل ہو تو کوئی بھی خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی سوچ کو اپنائیں اور اپنے ملک کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کریں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، ایک امانت ہے جو ہمیں سنبھالنی ہے۔ اگر ہم نے آج اپنا کردار درست کر لیا تو آنے والی نسلیں ایک بہتر پاکستان دیکھ سکیں گی۔
نعمان علی بھٹی








