Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
روتی آنکھوں سے جو گُل باری ہے
شبِ ہجراں میں غمِ دل کا تعدّد کَیا ہے؟
مری خطا کہ تجھے بار بار سوچا تھا
لوگ تَو شہر کی سڑکوں پہ سُلائے گئے ہیں
ہمارے ظرف کے جتنا کوئی وبال تَو ہَو
مصر فرعون کی تحویل میں آیا ہوا ہے
خواب،تعبیر سفر میرے سہارے کب تھے
جڑ کو خود کاٹنا پاتال پہ گریہ کرنا
درد جب صبر کے دھاروں سے نکل آئے تھے
چاند کے ساتھ جب وہ چلتا تھا
یہ حقیقت ہے مری ذات کا نقصان کیا
ملاح ڈر نہ جائیں روانی کو دیکھ کر
عقل کے بٹو ئے بناۓ ہیں مرے یاروں نے
جسم کو اسم کی تشکیلِ فنا کا دکھ ہے
<<
1
...
138
139
140
141
142
143
144
145
146
147
148
...
701
>>