Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
محبت کی ہرگز نہیں ہار ہوگی
بجھانے میں ہواؤں کی
یہ میز یہ کتاب یہ دیوار اور میں
سو لینے دو اپنا اپنا کام کرو چپ ہو جاؤ
سارا باغ الجھ جاتا ہے ایسی بے ترتیبی سے
صحراؤں کے دوست تھے ہم خود آرائی سے ختم ہوئے
یوم کشمیر اور ہمارا کردار
زخم کھلتے ہی چلے جاتے ہیں اظہار کے ساتھ
کب کسی کے ہاتھ پر جاتا ہوں میں
چشمِ نم تیری حیرت میں
ہوا کے ساتھ کوئی حرفِ چشمِ تر جائے
کب سوچتا ہوں پاؤں بھنور کرنے سے پہلے
خواب کا رنج پہن صبر کو حیران بھی کر
جس گھڑی عشق سربریدہ ہو
<<
1
...
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
...
701
>>