- Advertisement -

کب کسی کے ہاتھ پر جاتا ہوں میں

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

کب کسی کے ہاتھ پر جاتا ہوں میں
شاخ پر کھل کر بکھر جاتا ہوں میں

درد کی شدت سے بھر جاتا ہوں میں
سانس لیتا ہوں کہ مر جاتا ہوں میں

رات کی صورت گزر جاتا ہے تو
خواب کی صورت بکھر جاتا ہوں میں

یہ در و دیوار جو خاموش ہیں
ان کی آوازوں سے ڈر جاتا ہوں میں

مسکرا کر دیکھتا ہے وہ مجھے
اور پھر خوابوں سے بھر جاتا ہوں میں

اس کے رستے پر قدم پڑتا نہیں
اپنی حد سے تو گزر جاتا ہوں میں

جس طرف سے آ رہی ہے یہ ہوا
اب دیا لیکر ادھر جاتا ہوں میں

ارشاد نیازی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از ارشاد نیازی