پاکستان میں دہشت گردی کا ابھار
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
پاکستان اس وقت کسی مبہم خطرے سے نہیں گزر رہا بلکہ ایک کھلی حقیقت کا سامنا کر رہا ہے۔ دہشت گردی واپس آ چکی ہے اور اس بار اس نے نہ کسی دور دراز علاقے کو چنا ہے نہ کسی کمزور لمحے کا انتظار کیا ہے۔ دارالحکومت میں امام بارگاہ پر حملہ اور بلوچستان میں منظم یلغار یہ اعلان ہے کہ ریاست کو براہ راست چیلنج کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں عبادت گاہ کو نشانہ بنانا محض ایک سکیورٹی ناکامی نہیں بلکہ ریاستی رٹ، انٹیلی جنس دعووں اور برسوں سے دی جانے والی تسلیوں پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر دارالحکومت میں یہ سب ممکن ہے تو پھر دور دراز علاقوں کے شہریوں کے لیے ریاست کی ضمانت کیا معنی رکھتی ہے۔
حملہ آور کے افغانستان سے روابط اور وہاں تربیت کے دعوے کوئی نئی کہانی نہیں۔ یہ وہی پرانی حقیقت ہے جسے ہم ہر واقعے کے بعد دہرا کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کب تک ہو گی۔ کیا پاکستان کے پاس سفارتی دباؤ، عالمی فورمز اور ٹھوس حکمت عملی کے سوا صرف بیانات ہی رہ گئے ہیں۔
بلوچستان میں جو کچھ ہوا وہ کسی ایک دن کا واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ تھا۔ مختلف علاقوں میں بیک وقت حملے، ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا اور کچھ دیر کے لیے علاقوں پر کنٹرول
حاصل کرنا واضح پیغام تھا کہ شدت پسند گروہ محض چھپ کر حملے نہیں کر رہے بلکہ طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال محض امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی عمل داری کا امتحان ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے درجنوں دہشت گردوں کی ہلاکت یقیناً ایک بڑی کارروائی ہے لیکن یہاں ایک تلخ سوال کھڑا ہوتا ہے۔ کیا ہر بحران کا حل لاشوں کی گنتی تک محدود رہے گا؟ کیا ہم ہر چند ماہ بعد ایک نئے آپریشن، نئے اعداد و شمار اور نئے دعووں کے ساتھ یہی کہانی دہراتے رہیں گے؟
بھارت اور افغانستان کے کردار کا ذکر حکومتی بیانات میں تو ہوتا ہے مگر قوم کے سامنے کبھی پوری تصویر نہیں رکھی جاتی۔ اگر واقعی پاکستان ایک منظم پراکسی جنگ کا شکار ہے تو پھر قوم کو آدھی سچائی کیوں دی جاتی ہے۔ سفارتی محاذ پر ناکامیوں کو اندرونی بیانات سے چھپایا نہیں جا سکتا۔
اس تمام منظرنامے میں سب سے خطرناک پہلو اندرونی سہولت کار ہیں۔ دہشت گرد سرحد پار سے آ سکتے ہیں لیکن انہیں پناہ، معلومات اور راستے یہاں سے ملتے ہیں۔ یہ وہ سچ ہے جس پر بات کرنا ہمیشہ مشکل سمجھا گیا۔ جب تک اس ناسور کو جڑ سے نہیں کاٹا جائے گا، ہر کامیاب آپریشن عارضی ثابت ہو گا۔
عام شہری اس جنگ کا خاموش شکار ہے۔ وہ جو بازار میں خوف کے ساتھ نکلتا ہے، جو عبادت کے لیے جاتے ہوئے بھی مطمئن نہیں، جو اپنے بچوں کو سکول بھیجتے ہوئے دعا کرتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو سرکاری بریفنگز میں نظر نہیں آتی مگر قوم کی رگوں میں سرایت کر چکی ہے۔
ایسے وقت میں قومی اتحاد کا نعرہ لگانا آسان ہے مگر اتحاد نعروں سے نہیں بنتا۔ اتحاد واضح پالیسی، شفاف مؤقف اور غیر مبہم فیصلوں سے بنتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی مفادات سے آزاد کیے بغیر کوئی کامیابی ممکن نہیں۔
آج پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے۔ یا تو ہم ہر حملے کے بعد مذمت، تحقیقات اور بیانات کے دائرے میں گھومتے رہیں گے یا پھر ایک سنجیدہ، طویل المدتی اور بے رحم حکمت عملی اپنائیں گے۔ تاریخ انتظار نہیں کرتی۔ اگر ہم نے اب بھی خود کو دھوکے میں رکھا تو آنے والا وقت ہم سے کوئی رعایت نہیں برتے گا۔
ہم کہاں غلطی کر رہے ہیں؟
یہ سوال اب محض ایک جملہ نہیں رہا بلکہ ایک قومی چیخ بن چکا ہے۔ یہ سوال پوچھنا ضروری ہے کہ دارالحکومت میں، جہاں سیکیورٹی کا گھیرا سخت ترین ہونا چاہیے، وہاں ایک دہشت گرد کیسے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد لے کر مسجد تک پہنچ سکتا ہے؟ کیا ہماری انٹیلی جنس ناکام ہو گئی؟ کیا ہمارا سیکیورٹی نظام صرف کاغذوں پر ہے؟ یا ہم واقعی اپنے شہریوں کی حفاظت کو سنجیدگی سے نہیں لیتے؟
اسلام آباد جیسے شہر میں، جسے برسوں سے محفوظ ترین قرار دیا جاتا رہا، عبادت گاہ پر حملہ ہونا اس پورے بیانیے کو زمین بوس کر دیتا ہے۔ یہ محض ایک سکیورٹی بریک نہیں بلکہ ریاستی دعووں پر کاری ضرب ہے۔ اگر دارالحکومت میں یہ سب ممکن ہے تو پھر دور دراز علاقوں کے شہریوں کے لیے ریاست کی ضمانت کیا معنی رکھتی ہے۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اور بدقسمتی سے شاید آخری بھی نہیں ہوگا۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کی ایک طویل اور تاریک تاریخ ہے۔ شیعہ برادری خاص طور پر دہشت گردوں کا ہدف رہی ہے۔ کوئٹہ سے کراچی تک، پشاور سے اسلام آباد تک، خون کی ندیاں بہائی گئی ہیں۔ لیکن ہر واقعے کے بعد ہم وہی پرانا ڈرامہ دیکھتے ہیں۔ مذمتی بیانات، عارضی ہنگامہ آرائی، اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے جب تک کہ اگلا حملہ نہ ہو۔
یہ معمول بن جانا دراصل ہماری سب سے بڑی ناکامی ہے۔ ہم نے سانحات کو وقتی خبروں میں بدل دیا ہے اور اجتماعی صدمے کو یادداشت سے نکالنے کی عادت ڈال لی ہے۔ چند دن شور، چند دن سیاسی بیانات اور پھر خاموشی۔ نہ احتساب ہوتا ہے، نہ پالیسی بدلتی ہے، نہ یہ طے کیا جاتا ہے کہ آخر دہشت گردی کا یہ سلسلہ رکتا کیوں نہیں۔
یہ حملہ خلا میں نہیں ہوا۔ یہ ہمارے معاشرے میں موجود نفرت، تعصب اور انتہا پسندی کا نتیجہ ہے۔ دہائیوں سے ہم نے اپنے نوجوانوں کو نفرت کا درس دیا ہے۔ مدرسوں میں، سوشل میڈیا پر، یہاں تک کہ ہمارے گھروں میں بھی، دوسرے فرقوں کے خلاف زہر اگلا جاتا رہا ہے۔ آج اس زہر کا پھل ہم سب کے سامنے ہے۔
ریاست اور معاشرہ دونوں اس زہر کو پنپنے دیتے رہے۔ کبھی اسے اظہار رائے کا نام دیا گیا، کبھی مذہبی آزادی کا لبادہ اوڑھا دیا گیا، اور کبھی سیاسی مصلحت کے تحت آنکھیں بند کر لی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نفرت نے جڑ پکڑ لی اور تشدد ایک جائز راستہ بنتا چلا گیا۔
حکومتی سطح پر بھی ہماری ترجیحات غلط رہی ہیں۔ ہم نے کبھی سنجیدگی سے انتہا پسند نظریات کا قلع قمع نہیں کیا۔ کبھی اچھے طالبان اور برے طالبان میں فرق کیا گیا، کبھی کچھ گروہوں کو اپنے وقتی سیاسی یا تزویراتی مقاصد کے لیے برداشت کیا گیا۔ آج وہی عفریت ہمارے شہروں، ہماری عبادت گاہوں اور ہمارے بچوں تک پہنچ چکا ہے۔
اسلام آباد کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ اب سرحدوں یا قبائلی علاقوں تک محدود نہیں رہا۔ یہ ایک مکمل داخلی بحران بن چکا ہے جس میں بیرونی ہاتھ بھی ہے اور اندرونی سہولت کاری بھی۔ افغانستان سے آنے والے روابط پر بات ہوتی ہے مگر یہ سوال کم ہی اٹھایا جاتا ہے کہ یہاں انہیں سہولت کون فراہم کرتا ہے، راستے کون دکھاتا ہے اور خاموشی سے کون مدد کرتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سنجیدگی سے سوچیں۔ صرف مذمتی بیانات اور کارروائی کے وعدے کافی نہیں ہیں۔ ہمیں ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جو کئی محاذوں پر بیک وقت کام کرے۔
انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کو محض ردعمل دینے کے بجائے پیشگی کارروائی کے قابل بنانا ہوگا۔ خاص طور پر عبادت گاہوں، مذہبی اقلیتوں اور کمزور اہداف کی حفاظت کو ترجیح دینی ہوگی۔ نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ زہر اگلنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ چاہے وہ مسجد کے منبر سے ہو، سوشل میڈیا پر ہو یا کسی اور پلیٹ فارم پر۔ قانون کا اطلاق یکساں ہونا چاہیے۔
نصاب میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو نفرت نہیں بلکہ رواداری، انسانیت اور بقائے باہمی کا درس دینا ہوگا۔ سماجی سطح پر مکالمے کی فضا پیدا کرنا ہوگی۔ مختلف فرقوں اور مسالک کے علماء اور دانشوروں کو ایک دوسرے کے سامنے بٹھانا ہوگا تاکہ نفرت کی دیواریں گرانے کا عمل شروع ہو سکے۔
آج جو خاندان ماتم کر رہے ہیں، جو بچے یتیم ہو گئے ہیں، جو زخمی ہسپتالوں میں تڑپ رہے ہیں، وہ ہم سب سے ایک سوال پوچھ رہے ہیں۔ کیا ہماری جان کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا ہم محفوظ زندگی گزارنے کے حقدار نہیں؟
یہ صرف شیعہ برادری کا مسئلہ نہیں ہے۔ آج ان کی باری ہے، کل کسی اور کی ہو سکتی ہے۔ دہشت گردی کسی فرقے، مذہب یا قومیت کو نہیں دیکھتی۔ یہ انسانیت کے خلاف جنگ ہے اور اس جنگ میں خاموشی بھی جرم ہے۔
اسلام آباد کی اس سیاہ صبح نے ہمیں ایک بار پھر چیلنج کیا ہے۔ کیا ہم بیدار ہوں گے یا پھر سے سو جائیں گے؟ کیا ہم واقعی تبدیلی لائیں گے یا پرانے، ناکام طریقوں پر ہی چلتے رہیں گے؟ جواب ہم سب کو مل کر دینا ہے کیونکہ تاریخ خاموش قوموں کو معاف نہیں کرتی۔
یوسف صدیقی







