Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
بیعت کی صدی
دل میں رکھے ہوئے
کوئی فکر لو نہیں دے رہی
کیسی دو رنگ ہے
حوصلہ خود ہتھیار
اس کی نظر میں سب تھے
طواف کرتا ہوا
ہر روز امتحاں سے گزارا
ہاتھ بڑھتا ہے فون کی جانب
اپنے آپ میں گم سم
مٹّی میری ، آسمان میرا
ہے درد سِوا اِس آن میرا
بچھڑ گیا ہے تو اب
دیوار پہ رکھا ہوا مٹی کا دیا
طلسمی گیت جیسا
نظر کے بھید سب اہل نظر
بلند ہاتھ میں کاسہ ہے
یہ خوش نظری خوش نظر آنے
غمِ شکوہ حال تک نہ آیا
حسابِ ترکِ تعلق تمام
اسی لیے مجھے اک
24 جنوری
کس محبت میں پڑ گیا میں بھی
رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے
نیم خاک و نیم آب
ہچکیوں نے کسی دیوار میں در رکھا تھا
کیا تھا ترکِ محبت کا تجربہ میں نے
رحمتِ دو جہاں اے حبیبِؐ خدا
اے خاصہ ء خاصانِ رسل شاہِ مدینہ
میرے نبیﷺ کی بات نہ پوچھو
سرکارﷺ کے روضے کو ترستی ہیں یہ آنکھیں
اِسی کو مانو خدا کے
لو آ گئے لو آ گئے سر کارﷺ آ گئے
ہو جائے گا جس کو بھی دیدار محمدﷺ کا
باتیں کریں
کربِ آگہی
دلفریب نعروں کے دن
جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا
تصویریں بناؤں گا ، سخن کاری کروں گا
ہر آدمی کا خوشی ہی اگر مقدر ہو
جو تو نہیں تو مری
گذر چلی ہے شبِ دل فگار آخری بار
کوئی فکر لو نہیں دے رہی
بیعت کی صدی لمحۂ انکار سے کم ہے
کیسی دو رنگ ہے یہ شناسائی میرے ساتھ
سوگیا تھک کے چراغوں کو جگانے والا
ہے ایک سیلِ ندامت اس آبگینے میں
تصورات کو تجسیمِ صوت و نور کیا
زنجیر جب پگھلتی ہے سینے کی ہوک سے
یہ رہا تیرا تخت و تاج میاں
وہ روشنی ہے سو اس کا حوالہ ایک نہیں
ایک مخلوق نے اس کی تخلیق کی
نہروں میں وہی آبِ خنک جاری کروں گا
اپنا سمجھیں ، نہ پرایا سمجھیں
جو دل قریب ہو پہلے نشانہ بنتا ہے
اس خامشی میں مجھ کو کسی نے پکارا کیا
وہی ہے گیت ، جزیرے میں جل پری وہی ہے
جھلمل ہے دل میں آج بھی روشن ستارہ کی
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری
جھوٹن
رنگ برنگے لوگ
کس طرح رہے بھرم ہمارا
سوگیا تھک کے چراغوں کو جگانے والا
چشمِ بے خواب پہ خوابوں کا اثر لگتا ہے
کبھی سراب کرے گا،کبھی غبار کرے گا
بکھرے ہوئے رنگ ہیں دھنک کے
اس ایک پل سے گذرنا محال تھا میرا
بچھڑ گیا ہے تو اب اس سے کچھ گلا بھی نہیں
تمہی تو ہو جو مرے دل کا آئنہ خانہ
<<
1
...
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
...
140
>>