اردو غزلیاتسعود عثمانیشعر و شاعری

زنجیر جب پگھلتی ہے سینے کی ہوک سے

سعود عثمانی کی ایک اردو غزل

زنجیر جب پگھلتی ہے سینے کی ہوک سے

سلمان یثرب آتے ہیں ارضِ ملوک سے

نادم کھڑے ہیں شہرِ مدینہ میں چند لوگ

آقاؐ پلٹ رہے ہیں جہادِ تبوک سے

آقاؐ ہمیں بھی راہ دکھا دیجئیے کہ ہم

صدیوں کے فاصلے پہ ہیں لمحوں کی چوک سے

آقاؐ ہمیں بھی دوست عطا کیجئیے کہ ہم

تنگ آ چکے ہیں سلسلہِ گرگ و خوک سے

مثلِ فضالہ مجھ کو بھی تسکین دیجئیے

دنیا نے بھر دیا مرا سینہ شکوک سے

سعود عثمانی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button