Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
مہک اٹھے گی ساری راہگزر آہستہ آہستہ
ذرا دیر کی زندگی کے لیے
شاید اس طرح گذشتہ کی تلافی ہو جائے
بے نام اداسی کے ہیں اسباب عجب سے
صدائے شوق ، سکوتِ لبی سے شرمندہ
شکرانہ
میں ایک میاں ہوں
بے ادب سہیلیاں
ستاروں سے آگے
دیودار کے درخت
کوئلہ بھئی نہ راکھ
مقدس ناتا
رضائی
دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں
پیچھے مڑ کے دیکھنا اچھا لگا
یہ سال بھی آخر بیت گیا
تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے؟
بےنظیر
سلیپنگ ود اینیمی
شفافیاں
حوصلہ چھوڑ گئی راہ گزر آخر کار
سب خواب میں ہیں کون سنے گا
عجب خجالتِ جاں ہے نظر تک آئی ہوئی
خوشی سے کرتے ہیں ہر اک کے غم کا ماتم لوگ
اسی قبا میں بسر اک زمانہ کر دیا ہے
تو دکھ اٹھا رہا ہے جسے بھول جانے کا
یہی مسئلہ تجھے ہر جگہ نظر آئے گا
بچپن میں مرے وقت
جیسے راکھ دمک اٹھتی ہے ، جیسے غبار چمکتا ہے
حجرے شکستہ دل ،در و دیوار دم بخود
پھر مجھ کو خامشی میں کسی نے پکارا کیا
یہ کیسا ابر دل پر چھا گیا ہے
قدیم وقت بھی رہتا ہے نوجواں کی طرح
دونوں آنکھوں کی اک اوک بنائی میں نے
لوگ چپ چاپ رواں ہیں ہر سمت
کبھی کبھی مری آنکھوں میں خواب کھلتا ہے
محبوب کے بھی حبیب ہو جاؤ
دل کسی طرح بھی اس بات پہ تیار نہیں
وہ دن گزر گئے ، وہ کیفیت گزرتی نہیں
ابر ملبوسِ آب تھا جیسے
وہ مدتوں کے بعد سرِ راہ مل گیا
بھینس
فیض اور میں
خدا پرستی کا نسخہ
مس چڑیا کی کہانی
پیاری ڈکار
لاکھ ناؤ نہیں کروڑ ناؤ
ذرا ہور اوپر
جنّتی جوڑا
اب اداس پھرتے ہو
دل ِآباد کا برباد بھی ہونا
بس یہی کچھ ہے معجزہ مرے پاس
سفر میں دھوپ رہی سائبان ہوتے ہوئے
تیرے ہونے کا یقیں تجھ کو دلایا تھا کبھی
ایک ذرہ بھی نہ مل پائے
ہواؤں میں دلوں کا کارواں ہے
جرم کی کھو شرمگینی یا رسول
سہولت ہو اذیت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہے
اکیسویں صدی کا عشق
عشق اگر عشق نہیں کارِ ضرورت ہو جائے
کسی کے دل سے یا پھر دیدۂ تر سے نکلنا تھا
تھکن کے ساتھ اسی راستے میں رہنے دے
رشتہ یا خدا
چلو گمان کی حد سے گذر کے دیکھتے ہیں
میری لیلیٰ کو ورغلاتا ہے
ڈاکٹر سے مشورہ
مری آبائی تلواروں کے دستے بیچ ڈالے ہیں
تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے
خدا
خود کشی
<<
1
...
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
...
140
>>