Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
ہر شے ہے پر ملال بڑی تیز دھوپ ہے
صبح کو رات میں داخل بھی وہی کرتا ہے
رختِ سفر ہے اِس میں قرینہ بھی چاہیے
رُودادِ محبّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کچھ بھول گئے
بھُولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے
دُکھ درد کی سوغات ہے دُنیا تیری کیا ہے
مری ماں نے مجھ کو الف ِ بے سکھائی
میرے چمن میں بہاروں کے پھُول مہکیں گے
جب سے دیکھا پَری جمالوں کو
میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا
حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے
ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
عداوتوں میں جو خلقِ خدا
ذرا کچھ اور قربت زیر داماں لڑکھڑاتے ہیں
گرانی کی زنجیر پاؤں میں ہے
نظر نظر بے قرار سی ہے، نفس نفس میں شرار سا ہے
چھپائے دل میں غموں کا جہان بیٹھے ہیں
رہبروں کے ضمیر مجرم ہیں
ساغر صدیقی کے مختلف اشعار
باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح
حکمِ صیاد ہے تا ختم تماشائے بہار
وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل
ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے
اس میں کوئی فریب تو اے آسماں نہیں
ہجر موجود ہے فسانے میں
اک چٹائی ہے ،مصّلیٰ ہے ، کتب خانہ ہے
پھونک دیا بجلی نے گلشن
جہاں سے بھی آئے
لے کے قاصد خبر نہیں آتا
وعدۂ وصل کے ایفا سے پشیماں ہو کر
تجھے کیا ناصحا احباب خود سمجھائے جاتے ہیں
ابرو تو دکھا دیجیے شمشیر سے پہلے
نہ آئیں وہ تو کوئی موت کا پیغام آ جائے
جمالِ رخ پہ ٹھہرتی نہیں نظر پھر بھی
آہ سن کے جلے ہوئے دل کی!
حدیثِ عشق یہاں معتبر نہیں رہتی
پھر نہ کہنا ہم کو نالوں سے پریشانی ہوئی
یہ بھی نہیں کہ دستِ دعا تک نہیں گیا
ختم شب قصہ مختصر نہ ہوئی
ٍشامیانوں کی وضاحت تو نہیں
مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا
حُسن کب عشق کا ممنونِ وفا ہوتا ہے
جا ترس آ ہی گیا حشر میں لاچار مجھے
پھر کہو گے تم مقابل کی سزا کے واسطے
اُن پہ ظاہر مرے ارماں کسی عنواں ہوتے
اس کو جانے دے اگر جاتا ہے
وہاں ملو گے یہ مانا جو تم یہاں نہ ملے
میں کھیتوں میں کھیرے کی بیلوں پہ
ان لوگوں میں رہنے سے ہم ، بے گھر اچھے تھے
ہو گئے ان سے ترک پیام
قسمت کے کب جاگے درباں
یاد رکھ دیدۂ تر اشک جو نکلا کوئی
دنیائے وفا نام سے آباد رہے گی
تربت کہاں لوحِ سرِ تربت بھی نہیں ہے
عداوتوں میں جو خلقِ خدا لگی ہوئی ہے
گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتے
جہاں سے بھی آئے
کہاں بچ کے جائیں ٹھکانہ کہاں ہے
یہ کہہ کر دیے میری قسمت میں نالے
کرتے بھی کیا حضور نہ جب اپنے گھر ملے
وہ آغازِ محبت کا زمانہ
دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس
بجز تمہارے کسی سے کوئی سوال نہیں
گلشن کا اعتبار نہیں اس زمانے میں
کچھ خاک چند خارِ مغیلاں لئے ہوئے
کہیں فریاد بھی محتاجِ اثر ہوتی ہے
رحمت ہے جو کچھ
ہے ایک سیلِ ندامت
گزر چلی ہے شبِ دل فگار
<<
1
...
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
...
140
>>