اردو غزلیاتشعر و شاعریفیصل عجمی

ان لوگوں میں رہنے سے ہم ، بے گھر اچھے تھے

فیصل عجمی کی ایک اردو غزل

ان لوگوں میں رہنے سے ہم ، بے گھر اچھے تھے

کچھ دن پہلے تک تو سب ک تیور اچھے تھے

دیکھ رہا ہے جس حیرت سے پاگل کر دے گا

آئینے سے دار لگتا ہے ، پتھر اچھے تھے

نادیدہ آزار بدن کو غارت کر دے گا

زخم جو دل میں جا اترے ہیں ، باہر اچھے تھے

رات ستاروں والی تھی اور دھوپ بھرا تھا دن

جب تک آنکھیں دیکھ رہی تھی ، منظر اچھے تھے

آخر کیوں احسان کیا ہے زندہ رکھنے کا

ہم جو مر جاتے تو، بندہ پرور ، اچھے تھے

آنکھیں بھر آئ ہیں فیصل ، ڈوب گئے ہیں لوگ

ان میں کچھ ظالم تھے لیکن اکثر اچھے تھے

فیصل عجمی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button