فیصل عجمی
فیصل عجمی کی تمام اردو شاعری
-

جہاں سے بھی آئے
فیصل عجمی کی ایک اردو نظم
-

گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتے
فیصل عجمی کی ایک اردو غزل
-

عداوتوں میں جو خلقِ خدا لگی ہوئی ہے
فیصل عجمی کی ایک اردو غزل
-

ان لوگوں میں رہنے سے ہم ، بے گھر اچھے تھے
فیصل عجمی کی ایک اردو غزل
-

میں کھیتوں میں کھیرے کی بیلوں پہ
فیصل عجمی کی ایک اردو نظم
-

اس کو جانے دے اگر جاتا ہے
فیصل عجمی کی ایک اردو غزل
-

مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا
فیصل عجمی کی ایک اردو غزل
-

ٍشامیانوں کی وضاحت تو نہیں
فیصل عجمی کی ایک اردو غزل
-

یہ بھی نہیں کہ دستِ دعا تک نہیں گیا
فیصل عجمی کی ایک اردو غزل
-

جہاں سے بھی آئے
فیصل عجمی کی ایک اردو نظم
-

اک چٹائی ہے ،مصّلیٰ ہے ، کتب خانہ ہے
فیصل عجمی کی ایک اردو غزل
-

ہجر موجود ہے فسانے میں
فیصل عجمی کی ایک اردو نظم
-

ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے
فیصل عجمی کی ایک اردو نظم
-

حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے
فیصل عجمی کی ایک اردو نظم
-

میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا
فیصل عجمی کی ایک اردو نظم
-

مری ماں نے مجھ کو الف ِ بے سکھائی
فیصل عجمی کی ایک اردو نظم
-

رختِ سفر ہے اِس میں قرینہ بھی چاہیے
فیصل عجمی کی ایک اردو غزل
-

صبح کو رات میں داخل بھی وہی کرتا ہے
فیصل عجمی کی ایک اردو نظم