مقابلے کی دوڑ میں کھوئی ہوئی نسل
ایک اردو تحریر از زاہد خان
کبھی سوچا ہے کہ ہمارے گھروں کی خاموش دیواروں کے پیچھے کتنی دبی ہوئی چیخیں اور بے آواز آنسو چھپے ہیں؟
وہ بچے، جو صبح اسکول کے لیے مسکراتے ہوئے نکلتے ہیں، دراصل اندر سے خوف، دباؤ اور احساسِ ناکامی کا بوجھ اٹھائے ہوتے ہیں۔
وہ والدین، جو ان کے روشن مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، نادانستہ طور پر ان کے معصوم ذہنوں پر ایسا بوجھ ڈال دیتے ہیں جو شاید ان کے اپنے کندھے بھی برداشت نہ کر سکیں۔
حال ہی میں دو واقعات نے پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
حافظ آباد کی 17 سالہ طیبہ، جس نے صرف امتحان میں ناکامی کے باعث تیزاب پی لیا، اور اپر دیر کی 15 سالہ انمول، جس نے 1200 میں 1010 نمبر حاصل کرنے کے باوجود خود کو ناکام سمجھا اور زندگی کا چراغ گل کر دیا۔ یہ دونوں واقعات محض خبریں نہیں، یہ ہماری سماجی بے حسی کا ماتم ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ کیا صرف اس لیے کہ ہم نے کامیابی کو گریڈز، نمبروں اور سرٹیفکیٹس تک محدود کر دیا ہے؟ ہم نے انسان کو مشین بنا دیا جو اگر ذرا سا پیچھے رہ جائے تو ناکام، ناکارہ اور کم تر سمجھا جاتا ہے۔
ایک باپ، جو صبح سے شام تک بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے محنت کرتا ہے، اور ایک ماں، جو دن رات ان کے خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے دعائیں کرتی ہے ۔ وہ یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ محبت کے نام پر وہ انہیں مقابلے کے شکنجے میں جکڑ رہے ہیں۔
بچے جیتنے نہیں، صرف بچنے کے لیے پڑھتے ہیں۔ ہر امتحان ان کے لیے میدانِ جنگ بن جاتا ہے،یہ دور کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ اب بچے اپنی کامیابی سے زیادہ ناکامی کے خوف میں جیتے ہیں۔ ان کے ذہن اور دل میں یہ احساس بیٹھ چکا ہے کہ اگر وہ نمبر میں پیچھے رہ گئے تو وہ زندگی میں بھی ناکام ہیں۔ یہ سوچ ان کے خوابوں کو نہیں، زندگیوں کو دفن کر رہی ہے۔
والدین سے گزارش ہے اپنے بچوں کی رہنمائی ضرور کریں، مگر ان پر مقابلے کا بوجھ مت ڈالیں۔ انہیں جیتنا سکھائیں، مگر کسی دوسرے کو روند کر نہیں۔ انہیں محنت کرنا سکھائیں، مگر اپنی خوشیوں کی قربانی دے کر نہیں۔ انہیں وہ مضامین پڑھنے دیں جن میں وہ دلچسپی رکھتے ہیں، کیونکہ کامیابی صرف وہاں جنم لیتی ہے جہاں محبت ہوتی ہے۔ہمارے تعلیمی اداروں اور والدین دونوں کو سوچنا ہوگا —
ہم بچوں کو کتابوں کا بوجھ تو اٹھانا سکھاتے ہیں، مگر زندگی کا بوجھ اٹھانے کا حوصلہ نہیں دیتے۔
یہ وقت ہے کہ ہم اپنے رویے بدلیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھیں جہاں بچے نمبر نہیں، کردار سے پہچانے جائیں۔
جہاں امتحان ان کے خوف نہیں، اعتماد کو بڑھائیں۔ جہاں کامیابی کا مطلب صرف گریڈ نہیں بلکہ سکونِ دل اور انسانیت ہو۔
آئیں، اس رویے کو بدلیں۔ اپنے گھروں کو مقابلے کا میدان نہیں، محبت کا سایہ بنائیں۔ تاکہ کوئی طیبہ، کوئی انمول، پھر کسی دن اپنی ناکامی سے پہلے خود کو ختم نہ کرے۔
زاہد محمود خان








