اردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ

نصف سے دیکھ ذرا کم نہ زیادہ آدھا

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

نصف سے دیکھ ذرا کم نہ زیادہ آدھا
بانٹ لیتے ہیں محبت تجھے آدھا آدھا

مہرباں عشق مجھے کاٹ دیا جائے گا
ہونے والا ہے مرا دست کشادہ آدھا

چوک میں دیکھنے والے تھے تماشہ اس کا
جس کو غربت میں میسر تھا لبادہ آدھا

میرے بے حس میں تجھے ملنے نہیں آؤں گی
آج تقسیم ہوا میرا ارادہ آدھا

کوزہ گر مجھ کو بکھرنا ہے بکھر جانے دے
میری تجسیم میں شامل ہے برادہ آدھا

تیری دنیا بھی مری طرح اجڑ جائے گی
رہ گیا مجھ میں اگر صبر کا مادہ آدھا

باقی آدھی تو کسی اور کی مٹھی میں دبی
پشت پر میں نے تجھے زیست ہے لادا آدھا

کومل جوئیہ

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button