ادا جعفریاردو غزلیاتشعر و شاعری

اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا

ادا جعفری کی ایک غزل

اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا

ہمیشہ ہو ستارا ہم سفر آساں نہیں ہوتا

جو آنکھوں اوٹ ہے چہرہ اسی کو دیکھ کر جینا

یہ سوچا تھا کہ آساں ہے مگر آساں نہیں ہوتا

بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں

سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا

اندھیری کاسنی راتیں یہیں سے ہو کے گزریں گی

جلا رکھنا کوئی داغ جگر آساں نہیں ہوتا

کسی درد آشنا لمحے کے نقش پا سجا لینا

اکیلے گھر کو کہنا اپنا گھر آساں نہیں ہوتا

جو ٹپکے کاسۂ دل میں تو عالم ہی بدل جائے

وہ اک آنسو مگر اے چشم تر آساں نہیں ہوتا

گماں تو کیا یقیں بھی وسوسوں کی زد میں ہوتا ہے

سمجھنا سنگ در کو سنگ در آساں نہیں ہوتا

نہ بہلاوا نہ سمجھوتا جدائی سی جدائی ہے

اداؔ سوچو تو خوشبو کا سفر آساں نہیں ہوتا

ادا جعفری

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button