آپ کا سلاماردو غزلیاتبہنام احمدشعر و شاعری

باغ میں تُو اگر نہیں آتا

بہنام احمد کی ایک اردو غزل

باغ میں تُو اگر نہیں آتا
اِس برس بھی ثمر نہیں آتا

میں تُجھے صاف دیکھ سکتا ہوں
میں تُجھے کیوں نظر نہیں آتا ؟

میرے ہاتھوں میں صرف رستہ ہے
اِن لکیروں میں گھر نہیں آتا

دوست! آرام سے رہو، کوئی
اجنبی شخص اِدھر نہیں آتا

روشنی ، بارہا نہیں ملتی
وقت ، بارِ دگر نہیں آتا

ایسا کیا بھید ہے کہانی میں ؟
کیوں کوئی لوٹ کر نہیں آتا ؟

بہنام احمد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button