اردو غزلیاتحسرت موہانیشعر و شاعری

نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا

حسرت موہانی کی ایک اردو غزل

نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا

محبت کا یہ بھی ہے کوئی قرینا

وہ کیا قدر جانیں دلِ عاشقاں کی

نہ عالم، نہ فاضل، نہ دانا، نہ بینا

وہیں سے یہ آنسو رواں ہیں، جو دل میں

تمنا کا پوشیدہ ہے اک خزینا

یہ کیا قہر ہے ہم پہ یارب کہ بے مے

گزر جائے ساون کا یوں ہی مہینا

بہار آئی سب شادماں ہیں مگر ہم

یہ دن کیسے کاٹیں گے بے جام و مینا

حسرت موہانی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button