اردو نظمشعر و شاعریفیصل عجمی

ہجر موجود ہے فسانے میں

فیصل عجمی کی ایک اردو نظم

ہجر موجود ہے فسانے میں

سانپ ہوتا ہے ہر خزانے میں

رات بکھری ہوئی تھی بستر پر

کٹ گئی سلوٹیں اٹھانے میں

رزق نے گھر سنبھال رکھا ہے

عشق رکھا ہے سرد خانے میں

رات بھی ہو گئی ہے دن جیسی

گھر جلانے کے شاخسانے میں

روز آسیب آتے جاتے ہیں

ایسا کیا ہے غریب خانے میں

ہو رہی ہے ملازمت فیصل

رائگانی کے کارخانے میں

فیصل عجمی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button