احسان دانشاردو غزلیاتشعر و شاعری

جبیں کی دھول ، جگر کی جلن چھپائے گا

ایک اردو غزل از احسان دانش

جبیں کی دھول ، جگر کی جلن چھپائے گا
شروع عشق ہے وہ فطرتاً چھپائے گا

دمک رہا ہے جو نس نس کی تشنگی سے بدن
اس آگ کو نہ تیرا پیرہن چھپائے گا

ترا علاج شفاگاہ عصر نو میں نہیں
خرد کے گھاؤ تو دیوانہ پن چھپائے گا

حصار ضبط ہے ابر رواں کی پرچھائیں
ملال روح کو کب تک بدن چھپائے گا

نظر کا فرد عمل سے ہے سلسلہ درکار
یقیں نہ کر ، یہ سیاہی کفن چھپائے گا

کسے خبر تھی کہ یہ دور خود غرض اک دن
جنوں سے قیمت دار و رسن چھپائے گا

ترا غبار زمیں پر اترنے والا ہے
کہاں تک اب یہ بگولا تھکن چھپائے گا

احسان دانش

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button