- Advertisement -

پیرس کا آدمی

ایک افسانہ از دیوندر ستیارتھی

پیرس کا آدمی

’’وہ مردہ سمندر کو ریگستان میں دفن کرکے چلے گئے۔۔۔ وہ پیرس میں پیدا ہوا اور اب دنیا کا سفر کر رہا ہے ۔۔۔‘‘

یہ عبارت آندرے مائیکل کی قبر پر لکھی ہوئی ہے۔

وہ کہتا ہے ’’یہ میں نہیں ہوں، آندرے ہے۔‘‘

’’آندرے کون؟‘‘ میں پوچھتا ہوں۔

وہ دیوار کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں بینک کے پاس چائے والے کی دوکان ہے اور دھوئیں نے ایک تصویر بنا دی ہے۔

’’یہ آندرے کی تصویر ہے۔‘‘ کزان کہتا ہے۔

’’یہ تصویر ہمارا راستہ نہیں روکتی اور ہم آگے بڑھ جاتے ہیں۔‘‘

’’اس روز آندرے نہیں مرا تھا، میں مرا تھا۔‘‘ وہ کہتا ہے۔

’’آندرے کون؟‘‘ میں پھر پوچھتا ہوں اور وہ ہنس کر بات ٹال دیتا ہے۔

ریگستان یہاں سے ڈھائی سو میل ہوگا اور سمندر ہزار میل سے کم نہیں۔ آندھی چلتی ہے تو ریگستان شہر میں پہنچ جاتا ہے اور گھروں میں صفائی کرتی ہوئی عورتوں کی زبان پر جانے کیسی کیسی گالیاں آجاتی ہیں، اور جب بارش ہوتی ہے سب کی نگاہوں میں سمندر گھوم جاتا ہے، لیکن عورتوں کی زبان پھر وہی گالیاں۔

سینما گھروں سے نکلتی ہوئی بھیڑ کبھی آندھی کا سامنا کرتی ہے کبھی بارش کا۔ عجیب جوڑ توڑ کی بھیڑ ہوتی ہے۔ جیسے سب اُٹھائی گیرے ہوں۔

آندھی آتی ہے تو وہ آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔ ’’وہ دیکھو اونٹ پر سوار بوڑھا مسافر آگیا۔‘‘

میں کہتا ہوں ’’کزان، تم۔۔۔ تم ہی ہو یا پھر پیرس ، جہاں فیشن بھی آئیفل ٹاور جتنا بلند اور انقلاب کا جھنڈا بھی لیکن آندرے کون؟‘‘

میں کامائنی کی کہانی سناتا ہوں اور کزان صوفیہ کا قصّہ لے بیٹھتا ہے۔

’’کون صوفیہ؟‘‘ یہ سوال میرے ہونٹوں پر نہیں آتا۔ کس طرح میں سمجھ جاتا ہوں کہ وہ جو اس روز مر گیا صوفیہ کا محبوب تھا۔ ہم سب جیب کترے ہیں یا گھس پیٹھیے۔ کسی کے پاس اپنی بات نہیں۔ یہ سنتے سنتے کان پک گئے کہ تصویر ہزار لفظوں کے برابر ہوتی ہے۔

جو پیرس دیکھ آیا ہے اور وہ بھی تین دن ، وہ ایسے بات کرتا ہے جیسے پیرس میں ہی عمر گذاری ہو اور کزان جو پیرس کا آدمی ہے، پیرس کی تصویر چھپائے رہتا ہے۔

وہ بالزاک کی تعریف کرتا ہے، جو آٹھ گھنٹے بارہ گھنٹے، بیس گھنٹے نان سٹاپ کاغذ پر قلم چلانے کے لیے مشہور تھا۔ بیچ میں قلم کو آرام دیتا تو کالی کافی پینے کے لیے اور کافی وہ اپنے ہاتھ سے تیار کرتا تھا۔ کہتے ہیں وہ قلم کو بھی کافی پلاتا تھا۔

بالزاک کی کھڑکی کہاں سے کھل گئی؟ یہ سوچ کر مجھے غصّہ آتا ہے۔

’’ہوا یہ کہ اس روز آندرے کے ہاتھ میں بالزاک کی ایک کتاب تھی۔ وہ کہتے کہتے رک جاتا ہے۔ اور جھنجھلا کر پوچھتا ہوں۔ ’’کزان تم آندرے کی بات کر رہے ہو یا بالزاک کی کتاب کی؟‘‘

’’ایسے ہوتے ہیں فرینچ لوگ۔ یہ ہے صوفیہ کا تکیہ کلام۔ آندرے نے بالزاک کی جو کتاب اُٹھا رکھی تھی، اس میں سے سرک کر ہی یہ جملہ مجھ تک پہنچا تھا۔ آندرے نے اس کے نیچے لال یا نیلی پنسل سے نہیں، ہری پنسل سے نشان لگا رکھا تھا‘‘ وہ مسکراتا ہے اور میں یہ نہیں پوچھتا کہ آندرے نے ہری پنسل سے نشان لگانا ہی کیوں ضرور ی سمجھا۔

’’یہ ان دنوں کی بات ہے، جب آندرے جیل میں تھا۔ وہ کہتا ہے اور میں جانتا ہوں کہ آندرے جیل میں کیوں تھا۔‘‘

آندرے کی کہانی کو میں اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دینا چاہتا۔ میرے لیے تو کزان ہی کافی ہے۔

ایک کپ کافی پر ہی پورا دن گزر جائے یا کبھی وہ بھی نہ ملے۔ میں حیران ہوکر سوچتا ہوں، کزان کیسی تپسیّا کر رہا ہے۔ سات دن سے نہایا بھی نہیں۔

کبھی یونانی پنیر کی تعریف کرتا ہے، کبھی یونانی گھوڑے کی، کبھی مردہ سمندر کی مچھلیوں کی اور کبھی فارسی شعر سناتا ہے۔

زبانِ یارِ من ترکی و من تُرکی نمی دانم

میں یوں منھ بنا لیتا ہوں۔ جیسے میرا اس شعر سے کوئی واسطہ نہ ہو۔ وہ آنکھیں نچا کر اور ہاتھ لہرا کر اس شعر کا مطلب سمجھاتا ہے کہ میرے یار کی زبان ترکی ہے اور میں ترکی نہیں جانتا۔

’’اُس دن برف گر رہی تھی، وہ کہتا ہے اور میں سمجھ جاتا ہوں کہ یہ اُس دن کی بات ہے۔ جب آندرے مرا تھا۔‘‘

’’کیا وہ اخبار میں کام کرتا تھا؟‘‘ میں پوچھتا ہوں۔

’’تم نے کیسے مان لیا؟‘‘ وہ مسکراتا ہے اور صوفیہ کا قصّہ شروع کر دیتا ہے۔

میں سمجھ جاتا ہوں کہ کزان کو صوفیہ کے ساتھ ایڈجسٹ کرتے زیادہ دیر نہیں لگی۔ جیسے وہ بالزاک کی کوئی کتاب ہو، جسے پہلے وہ پڑھ رہا تھا جو برف کے موسم میں وہ مر گیا اور بعد میں وہ کتاب کزان کے ہاتھ میں آگئی۔

ہم بار بار قسمیں کھاتے ہیں کہ اب کے ہم ووٹ بکنے نہیں دیں گے اور بڈھوں کی حکومت کو ختم کر کے ہی دم لیں گے لیکن جب ووٹ کا موسم آتا ہے تو ہمارے ووٹ پھر بِک جاتے ہیں۔

جب سے وہ یہاں آیا ہے نہ سگریٹ کو ہاتھ لگاتا ہے نہ بیڑی کو۔ ہر وقت چلم لیے رہتا ہے۔ چلم میں تمباکو بھرتے ہوئے چرسی کا نام لیتا ہے۔

شاید اس نے تمباکو کے ساتھ آج پھر کچھ ڈال رکھا ہے۔

بات اَمرتا ، شیرگل کی کسی تصویر کی تو نہیں ہو رہی ہے، نہ بڑے غلام علی خاں کے سنگیت کی میں نے اپنی ایک ٹریجڈی دے کر ایک کہانی لکھی ایک میگزین میں، وہ میگزین گم ہوگیا اور جب وہ ملا تو اسے آدھے سے زیادہ دیمک چاٹ چکی تھی۔

بھئی آنکھیں مت جھپکاؤ۔ کیا چرس کا نشہ شروع ہوگیا۔

ستمبر کے بعد اکتوبر آتا ہے۔ ہر سال یہی چکّر چلتا ہے۔ وہی گالی گفتار، وہی لِزلزی داستان۔ کہنے کو یہی کہا جاتا ہے شہر روم، روم میں تناؤ محسوس کر رہا ہے۔

’’شیطان کی آنکھ ریگستان!‘‘ میں کہتا ہوں۔

وہ کہتا ہے ’’آندرے کسی جنازے کے ساتھ جانا پسند نہیں کرتا تھا لیکن جب بالزاک کی کسی کتاب میں کسی کی موت ہوتے دیکھتا تو ہفتوں اُداس رہتا۔‘‘

’’یہ بات تو میرے بارے میں بھی سچ ہے، کزان ‘‘ میں کہتا ہوں۔

میرے ہاتھ میں چلم تھما کر وہ مجھے یقین دلاتا ہے کہ چار کش لگانے سے پیرس کی آرٹ گیلری میں بالزاک کا بُت نظر آسکتا ہے۔

پیرس سے بور ہور کر وہ بنارس پہنچا اور وہاں سے اُکتا کر یہاں چلا آیا۔

میں سمجھ جاتا ہوں کہ بنارس میں چرسی بابا نے اسے چرس کی لَت لگا دی اور وہ چلم اُٹھا کے یہاں بھاگ آیا۔

داستان کو پھلانگ کر تصویر کے سامنے آکر کھڑے ہو جاتے ہیں اور تصویر سے پیچھا چھوڑا کر پھر داستان میں چلے آتے ہیں۔

اس نے صوفیہ کو خط لکھا کہ پچاس ہزار جھگیاں سرکار نے جلا دیں جیسے جنگل کا قانون لاگو کیا جا رہا ہو۔

میں نے اسے سمجھایا کہ اس طرح کی باتیں صوفیہ کو لکھنے سے کیا حاصل۔ لیکن وہ یہ خط لکھ کر ہی مانا۔ میں نے سوچا صوفیہ کو یہ خط ملے گا تو وہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہوا میں اُچھال دے گی۔ آتش دان میں پھینک دے گی۔ لیکن صوفیہ کا خط آیا تو کزان نے بتایا کہ صوفیہ نے جھگی والوں کے لیے گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

یہ بات ایسی نہیں کہ خود ہی چراغ جلایا اور خود ہی بُجھا دیا۔ گالی گفتار میں ہم شیطان کی عبادت کرتے ہیں۔ خود ہی کیمرہ مین، خود ہی ڈائریکٹر، خود ہی پروڈیوسر، کبھی لونگ شاٹ، کبھی مڈ شاٹ، کبھی کلوزاپ، کبھی ہم گھوڑے کی نقل اُتارتے ہیں، کبھی ہاتھی کی اور کبھی خرگوش کی۔ نقل ہی نقل۔ اصل کا تو محض نام ہے۔

’’وہ جو برف کے موسم میں مرگیا۔ سمجھوتہ کرنے کو غدّاری سمجھتا تھا۔‘‘ کزان میرے ساتھ قدم اُٹھاتے ہوئے کہتا ہے۔

جامع مسجد کا وہ کباڑی بازار دیکھنے کے لیے وہ ہفتہ بھر انتظار کرتا ہے اور پٹری پر بچھی ہوئی کتابوں میں بالزاک کی کوئی کتاب نظر آ جاتی ہے تو خوشی سے چلاّتا ہے۔ بالزاک بالزاک بالزاک۔

کباڑی بازار کی بھیڑ میں مجھے ہمیشہ بطخوں کی قیں قیں سنائی دیتی ہے۔ چیز بکتی کم ہے۔ بھاؤ تاؤ زیادہ ہوتا ہے، لگتا ہے ہر لمحہ آوازیں لمبی ہوتی جارہی ہیں اور چہرے گڈمڈ ہوئے بنا نہیں رہتے۔

’’آندرے نے اپنے آخری خط میں صوفیہ کو لکھا تھا کہ یہ بات میں نے بالزاک سے سیکھی کہ انسان وہی ہے جو اپنے آدرش کے ساتھ بے وفائی نہیں کرتا۔ کزان مسکراتا ہے اور ہمارے سامنے پیڑ آ جاتا ہے جس پر بجلی گر چکی ہے۔ تھوڑی خاموشی کے بعد وہ پھر کہتا ہے ’’آندرے کی موت کے بعد میں صوفیہ کو اس بات پر راضی کرنے میں کامیاب رہا کہ وہ مجھے اپنے محبوب کا دوست سمجھ کر میرے ساتھ ایڈجسٹ کر لے۔ وہ مان گئی لیکن میں بے وفا نکلا کہ اُسے چھوڑ کر چلا آیا اور سچ تو یہ ہے کہ ’’وہ کہتے کہتے رُک جاتا ہے۔‘‘

وہ بالزاک کی لاش کے پاس کھڑے ہوکر وکٹر ہیوگو نے پہلی بار بالزاک کے لیے عظیم لفظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا۔ ’’آج ایک عظیم ادیب مر گیا۔‘‘ اور پھر گویا اپنی ہی بتائی ہوئی بات پر جھنجھلا کر کزان کہتا ہے۔ ’’اِٹ اِز آل ایبسرڈ۔‘‘

وہ کالی کافی پیتا ہے اور بالزاک کی بات شروع کر دیتا ہے، جسے نہ تمباکو سے الفت تھی نہ شراب سے۔ وہ تو بغیر دودھ کی کالی کافی کا رسیا تھا ’’کالی کافی دیوتاؤں کا وَردان ہے‘‘یہ تھا بالزاک کا تکیہ کلام۔ ناشتے کی پلیٹ لے کر نوکر اس کے کمرے میں اسی وقت داخل ہوتا جب گھنٹی بجتی ٹھیک صبح کے آٹھ بجے اسے ہدایت تھی کہ وہ ناشتے کی پلیٹ میز پر رکھ کر چاندی کے شمع دان سے ساتوں موم بتیاں بجھائے، پھر تینوں کھڑکیاں کھولے۔ تب بالزاک کاغذ سے سر اُٹھا کر نوکر سے کہتا ہے۔ ’’ہیلو۔۔۔ نوکر کو ہدایت تھی کہ وہ آداب بجالانے کی زحمت نہ اُٹھائے۔‘‘

جب کزان غصّے میں ہوتا ہے تو بالزاک کو بھی فراڈ کہہ ڈالتا ہے اور جب خوش ہوتا ہے تو چلم کے چار کش لے کر کہتا ہے ’’پیرس کا سر ڈھول کی طرح بجتا ہے۔‘‘

میں کہتا ہوں ’’کزان کچھ نہ ہونے کا احساس گلے میں کانٹے کی طرح چُبھتا ہے۔‘‘

’’اٹ از آل ایبسرڈ!‘‘ وہ کھلکھلا کر ہنستا ہے۔

ہم ہر بات کو اول جلول سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہ آج کل فیشن ہے۔ لیکن بڑے غلام علی تو سنگیت کو اول جلول نہیں سمجھتے تھے۔ یہ اَمِرتا شیر گل کینوس پر برش چلاتے ہوئے تصویر کو اول جلول سمجھتی تھی۔

نومبر کے بعد دسمبر آتا ہے۔ راستہ وہی مسافر وہی۔

’’آندرے اور صوفیہ کی بات چھوڑو‘‘ وہ میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے ’’بالزاک کی ہی بات تھی کسی لڑکی کو بانہوں میں بھر کر کہتا ہے ڈارلنگ! میں تیزی سے لکھتا ہوں کہ جملے ادھورے چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہوں۔ اکثر یہ کمپوزیٹر اپنی طرف سے میرے ادھورے جملوں کو پورا کر ڈالتا ہے۔ اس لیے یہ میرا بیٹا بھی ہے، دوست بھی اور گورو بھی ۔۔۔ اور وہ لڑکی کمپوزیٹر کے ہونٹ چوم لیتی۔۔۔‘‘

جیب سے آئینہ نکال کر وہ اپنا چہرہ دیکھتا ہے، کندھوں پر لٹکتے ہوئے بال اور لمبوتری داڑھی، جس کا وجود محض ٹھوڑی پر ہے۔

میں کہتا ہوں ’’آندرے مر گیا۔ صوفیہ کہاں ہے؟‘‘

وہ چلتے چلتے کہتا ہے۔

’’صوفیہ پیرس کے ٹیلی ویژن میں کام کرتی ہے۔ اس کے کندھوں پر سنہرے بال لہراتے ہیں۔ چہرے پر دو نیلی جھیلیں ہیں جن میں مچھلیاں تیرتی ہیں۔ کوئی ان مچھلیوں کی تصویر نہیں بنا سکتا۔‘‘

کچھ پتہ نہیں چلتا کہ دن بھر میں ہم کتنا راستہ طے کر لیتے ہیں، پیرس، پیرس پیرس، اس کی زبان پر پیرس کا نام رہتا ہے۔

’’قصہ یوں ہوا کہ اس دن آندرے بالزاک کی ایک کتاب پڑھ رہا تھا‘‘ وہ کہتا ہے۔

میرے سامنے بالزاک کی وہ کتاب کھل جاتی ہے جس میں بوڑھا باپ اپنی دونوں بیٹیوں کو دیکھنے کے لیے ترس جاتا ہے جو اپنے اپنے شہروں کے پاس رہتی ہیں۔

وہ کہتا ہے بالزاک کی طرح آندرے کو بھی کسی نے زندگی میں عظیم نہیں کہا تھا۔ اور جب وہ مرا تو اس کی لاش کے پاس کھڑے ہو کر ایک اداکار نے کہا۔ ’’آج ایک عظیم کرانتی کاری مرگیا۔‘‘

سینکڑوں آوازیں آپس میں گڈمڈ ہونے لگتی ہیں۔ کتاب کے ہر صفحہ پر عورت چاہیے اور ہر تصویر میں عورت کی گومائیاں۔ چھاپنے والا بھی یہی چاہتا ہے اور پڑھنے والا بھی۔

ہر آدمی بِک رہا ہے۔ کوئی اونچے داموں، کوئی نیچے داموں۔

دولت کی طلب، عزت کی طلب، طاقت کی طلب، شہرت کی طلب، ہر طلب سمجھوتہ کرنے پر مجبور کرتی ہے اور جو سمجھوتہ کرتا ہے وہ سینے پر گولی نہیں کھانا چاہتا۔

وہ کہتا ہے۔ ’’جو پیرس میں مر گیا اس روز اس نے سینے پر گولی کھائی تھی۔ صوفیہ نے اسے تحریک میں حصّہ لینے سے روکا لیکن آندرے کب روکنے والا تھا۔‘‘

میں کہتا ہوں۔ ’’کزان کوئی سینے پر گولی نہیں کھانا چاہتا لیکن زمین خون مانگتی ہے۔ اس روز جب پچاس ہزار جھگیاں جلائی جا رہی تھیں اور جھگی والوں کو ٹرکوں میں لاد لاد کر راجدھانی سے بیس میل کے فاصلے پر کھلی زمین میں چھوڑنے کے لیے جایا جا رہا تھا۔ اگر ہزار آدمی بھی سامنا کرنے پر تُل جاتے تو گولی چل جاتی لیکن لوگوں نے یہ اتیاچار برداشت کرلیا۔ اسے کیا کہوگے؟‘‘

وہ چلم کا کش لے کر ایک میگزین کے اوراق پلٹتا ہے اور میری نظریں گیلری کی تصویروں پر جم جاتی ہیں۔

بہت سے بُت کھڑے ہیں ان میں بالزاک کا بُت بھی ہے جس نے پیرس کو لالچ، سازش اور نفرت کا جنگل کہا تھا۔

کیا بُت تراش نے پیرس کی تنقید کرنے والے سے انتقام لیا ہے؟ یہ انتقام نہ لیا ہوتا تو اس کا پیٹ اتنا بڑھا ہوا کیوں دِکھاتا؟ لگتا ہے پیرس کی تنقید کرنے والا پیرس کو دیکھتے ہوئے اسی طرح کھڑا رہے گا۔ بڑی بڑی مونچھیں اور چہرے پر بڑھاپے کے آثار۔ آنکھوں میں پاگل پن کو چھوتی ہوئی تیز نظر۔ جیسے وہ بلیڈ سے کاغذ کاٹنے کی طرح ہر چیز کو کاٹ کر رکھ سکتا ہو۔

بالزاک نے کتنا کچھ لکھا۔ دن کو سوتا تھا۔ رات کو لکھتا تھا۔ پریس والے اس سے تنگ تھے۔ کیونکہ وہ سولہویں دفعہ پڑھے ہوئے پروفوں میں بھی اتنی تبدیلیاں کر ڈالتا تھا کہ اکثر پورے میٹر کو پھر سے کمپوز کرنا پڑ جاتا، اور پریس کو کئی گنا دام دینے پڑتے۔

’’اِٹ اِز آل ایبسرڈ‘‘ وہ ہنستا ہے۔

قلعے کے سامنے والے میدان میں بچوں کو بطخوں کے پیچھے دوڑتے دیکھ کر وہ کہتا ہے۔ ’’ان بچوں کو کھانے کے لیے پنیر ملنا چاہیے۔ لیکن ان سے پوچھو۔ کیا بڑے ہوکر تم بھی بوڑھوں کو ہی ووٹ ڈالتے رہوگے۔‘‘

کبھی آندھی سے ٹوٹ کر گرا ہوا پیڑ سڑک کے کنارے اپنی کہانی سناتا ہے، کبھی رشوت کے الزام میں کرسی سے اُٹھائے ہوئے آدمی کی تصویر سامنے آجاتی ہے۔

’’چہرہ فرشتے کا، عادتیں بھک منگوں کی۔ ایسی ہی ہماری سرکار، یہ الفاظ کئی بار میری زبان پر آتے ہیں اور ہم کندھے سے کندھا بھڑائے کھڑے رہتے ہیں۔

وہ کاغذ پر اُلٹی سیدھی لکیریں کھینچ کر نیچے لکھ دیتا ہے، یُدھ کا خوف۔

’’آندرے یُدھ کے خلاف تھا اور صوفیہ کی نیلی جھیلوں میں اکثر وہ کہتے کہتے رک جاتا ہے اور چلتے چلتے میرا کندھا تھپتھپاتا ہے۔

ہر چوراہے پر پولس کے سپاہی کی طرح یدھ کا خوف کھڑا رہتا ہے۔ خود ہی کیمرہ مین، خود ہی ڈائریکٹر، خود ہی پروڈیوسر۔ ایسے میں یہ بات ذرا بھی دلچسپ نہیں لگتی۔ بالزاک سولہویں دفعہ پڑھے ہوئے پروفوں میں بھی تبدیلیاں کر ڈالتا تھا یا یہ کہ چرسی بابا نے تین شادیاں کیں اور پھر دنیا سے منھ موڑ کر اشومیدھ گھاٹ کی پہلی سیڑھی اپنا لی اور چرس کے نشے میں اس کی آنکھیں جوان لڑکیوں کی طرف اُٹھ جاتی تھیں۔

’’صوفیہ کی بیٹی گریٹا کا چہرہ آندرے کی طرح لمبوترا ہے وہ کہتا ہے اور میں ہوں ہاں نہیں کرتا۔ وہ آتا ہے تو پاس سے آتی ہوئی بطخوں کی قیں قیں اس کی ہنسی میں ڈوب جاتی ہے۔

وہ میرے کندھے پر اپنا سر ٹکا دیتا ہے اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ بالزاک کے بارے میں پھر وہی بور کرنے والا قصہ نہ شروع کردے کہ وہ بیسویں بار پڑھے ہوئے پروفوں کو بھی چاقو یا قینچی سے کاٹ کر آگے پیچھے چپکانے لگتا تھا۔

’’ایسے ہوتے ہیں فرینچ لوگ ۔‘‘ میں کہتا ہوں۔ ’’کمال کا چہرہ، نیلی آنکھیں، لمبی ناک، کندھوں پہ لہراتے بال، ارے اگر تم یہ ٹھوڑی کا جنگل صاف کر ڈالو بلیڈ سے تو پتہ ہی نہ چل سکے کہ تم لڑکا ہو یا لڑکی۔‘‘

وہ تیوری چڑھا کر غصہ ظاہر کرتا ہے۔

میں کہتا ہوں۔ ’’الّو کی دُم فاختہ‘‘ سڑک سے بھیڑوں کی لمبی قطار گزرتی ہے تو پانچ منٹ کے لیے راستہ رُک جاتا ہے۔ وہ ہنس کر کہتا ہے۔ ’’اب ہماری مصیبت یہی ہے کہ ہم کسی گڈریے کی بھیڑ میں نہیں بن سکتے۔‘‘

’’ایسے ہوتے ہیں فرینچ لوگ ۔‘‘ میں اس کے کندھے پر ہاتھ مار کرکہتا ہوں۔ ’’کزان میرا جی کیسے لگے گا جب تم مجھے چھوڑ کر چلے جاؤگے، جیسے تم چرسی بابا کو چھوڑ آئے۔‘‘

’’اِٹ اِزآل ایبسرڈ!‘‘ وہ مسکراتا ہے، جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ لگاؤ سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔‘‘

کسی کی کسی میں دل چسپی نہیں، ہر آدمی آپادھاپی کا شکار ہے۔ نہ پیار کا کوئی ارتھ ہے، نہ ہمدردی کا، نہ کوئی کسی کا ہم سفر ہے، نہ ہم صنم، چار یاری چنڈال چوکڑی ہے۔

وہ کہتا ہے۔ ’’فرانس میں بلبل نہیں ہوتی۔ لیکن آندرے صوفیہ کو بلبل کہا کرتا تھا۔ حالانکہ صوفیہ کو بلبل کہنا غلط ہے۔ کیونکہ وہ گاتی کم ہے اور قسمیں زیادہ کھاتی ہے۔ جب آندرے زندہ تھا تو اس کی دیکھا دیکھی صوفیہ کی بیٹی گریٹا کہہ اٹھتی تھی ممّی، ڈیڈی ٹھیک کہتے ہیں تم اتنی قسمیں نہ کھایا کرو اور کبھی مجھ سے کہتی انکل کزان ممّی کو قسمیں کھانے سے روکو۔‘‘

اپنی بات اپنے ہی ڈھنگ سے کہی جانی چاہیے۔ اس پر ہم دونوں کی ایک رائے ہے۔

چپکے سے بالزاک کا نام آجاتا ہے۔ اس نے یہی لکھا ہے۔ ’’ایسے ہوتے ہیں فرینچ لوگ جو اپنی بات اپنی ہی زبان میں یہی نہیں اپنے ڈھنگ سے کہنے کے لیے نسل در نسل لڑسکتے ہیں۔‘‘

بالزاک نے یہ بات کس کتاب میں لکھی ہے۔ وہ کچھ اتہ پتہ نہیں بتاتا۔ میں بھی زیادہ پوچھ تاچھ نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ چلتے چلتے میں بیس سال آگے بڑھ کر من ہی میں کہتا ہوں۔ ’’اب میں زندگی کو نہ تو واقعات کا سلسلہ مانتا ہوں اور نہ چہروں کا البم۔ اب نہ لفظوں کے چہرے چونکاتے ہیں، نہ ان کی آواز ، نہ ان کے معنی سب اول جلول ہے۔ کوئی سلسلہ نہیں سب ایبسرڈ ہے۔ نہ پیرس اور یونانی پنیر میں کوئی رشتہ ہے، نہ کزان اور چرسی بابا میں، نہ صوفیہ اور آندرے میں، نہ بڑے غلام علی خاں کے سنگیت اور امرتا شیرگل کی تصویروں میں۔ اب پیرس سے آیا ہوا آدمی مجھے اپنے ساتھ جامع مسجد کے کباڑی بازار کے چکر نہیں لگوا سکتا۔‘‘

سڑک کی بجلی آف ہو جاتی ہے تو بلیک آوٹ کا نقشہ سامنے آجاتا ہے۔ جیسے واقعی ہر چوراہے پر یُدھ کا خوف کھڑا ہوا اور پھر سڑک کی بتیاں جل اُٹھتی ہیں۔

’’جب آندرے زندہ تھا ایک رات پیر س کی بجلی تین گھنٹے تک آف رہی۔ صوفیہ اور گریٹا ہمارے ساتھ تھیں‘‘ اور وہ کہتے تھے رک رک کرکہتا ہے ’’پیرس کی قسم۔ صوفیہ کو ہر چوک میں یدھ کا خوف کھڑا نظر آتا ہے۔‘‘

یہ ان دنوں کا قصّہ ہے جب صوفیہ کی بیٹی گریٹا اپنی سہیلی للی کے ٹیلی ویژن پر اپنی ممّی کو ہر روز خبریں پڑھ کر سناتے دیکھا کرتی تھی۔ ان کا ٹیلی ویژن خراب ہوگیا تھا۔ ایک روز للی سے گریٹا کا جھگڑا ہوگیا تو گریٹا نے صوفیہ سے کہا۔’’ ممّی! تم سب کے ٹیلی ویژن پر خبریں پڑھ کر سنانا لیکن للی کے ٹیلی ویژن پر کبھی نہیں۔‘‘

ہر لطیفے کی اپنی آنکھ ہوتی ہے۔ جیسے آندھی طوفان کی۔ میری نظریں بالزاک کے بُت پر جم جاتی ہیں۔ وہ ہلکے سبز رنگ کے کاغذ پر لکھنے کا شوقین تھا۔ رات کو جب لکھنے بیٹھتا تو سفید رنگ کا ڈھیلا ڈاھلا چغہ پہن کر کمر میں سونے کی زنجیر کس لیتا ہے۔ جس سے صلیب کی بجائے قینچی اور چاقو لٹکتے رہتے ہیں۔

’’اِٹ اِز آل ایبسرڈ!‘‘ وہ مسکراتا ہے۔

وہ بنارس میں ڈیڑھ سال گزار آیا ہے اور گنگا کی تعریف کرتا ہے۔

لیکن یہ بات اسے عجیب لگتی ہے کہ لوگ مرنے کے لیے بنارس جاتے ہیں۔

میں کہتا ہوں۔ کزان یہ تو ایسے ہی ہے جیسے بوڑھا ہاتھی مرنے کے لیے موت کی وادی میں آکر بیٹھ رہتا ہے۔ جس طرح عیسیٰ کی نشانیاں مردہ سمندر کی تہہ میں پڑی ہیں۔۔۔ باہر نکلنے کے انتظار میں۔

کامائنی کے دروازے پر ہم دستک دیتے ہیں تو وہ ہمارا سواگت کرتی ہے اور ہماری آنکھوں میں بالزاک کی محبوبہ کا چہرہ گھوم جاتا ہے۔

کٹ گلاس کے پیالوں میں کالی کافی انڈیلتے ہوئے کامائنی اس رات کا قصّہ شروع کر دیتی ہے جب اُسے رت جگا کرنا پڑا۔ رات بھر کوئی دستک دیتا رہا۔ وہ دروازہ کھول کر باہر نکلتی تو یہ آواز رُک جاتی۔ اس آواز کے پیچھے کبھی وہ ہوٹل کے پچھواڑے جاتی کبھی سمندر کے کنارے پھر واپس آکر لیٹ رہتی اور دروازے پر برابر دستک ہوتی رہتی۔

’’اس رات میں نے تین دفعہ کالی کافی پی تھی۔‘‘ کامائنی مسکراتی ہے۔

وہ کالی کافی کی چسکی لے کر کہتا ہے۔ ’’اس رات آندرے نے بھی تین بار کالی کافی پی تھی جو برف کے موسم میں مارا گیا سینے پر گولی کھاکر۔۔۔‘‘

’’آندرے کون؟‘‘

’’وہ میں۔۔۔‘‘

’’آپ تو یہاں موجود ہیں۔‘‘

’’نہیں یہ میں نہیں ہوں آندرے ہے۔‘‘ وہ ہنستا ہے۔

سامنے کی دیوار پر ایک آئل پیٹنگ نے بہت سی جگہ گھیر رکھی ہے۔

’’اس رات، جب میں ایک پل کے لیے بھی سو نہیں سکی۔ یہ تصویر کوئی میرے کمرے میں چھوڑ گیا۔ کامائنی مسکراتی ہے۔

’’یہ وہی ہوگا۔‘‘ وہ چلا جاتا ہے۔

ہم اُٹھ کر تصویر کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

کامائنی کہتی ہے۔ ’’ایک راستہ پہاڑ کو جاتا ہے جہاں جنگل ہے۔ دوسرا راستہ شہر کو جاتا ہے۔ تیسرا راستہ سمندر کو اور چوتھا راستہ۔۔۔‘‘

’’چوتھا راستہ، وہ چلاّتا ہے اور صوفے پر پان59و پھیلائے بیٹھا چلم پیتا رہتا ہے۔‘‘

کامائنی مسکرا کر کہتی ہے۔

’’جہاں چاروں راستے آکر ملتے ہیں وہاں جانے کس کا مقبرہ ہے۔ مقبرہ پہلے تیار کر لیا جاتا تھا۔ قبر بعد میں بنتی تھی۔ اس مقبرے میں کسی کی قبر نہیں ہے۔‘‘

کزان کی نظریں تصویر پر جم جاتی ہیں۔ جیسے وہ اس مقبرے میں اپنی قبر کی کلپنا کر رہا ہو۔

کامائنی پیرس کی بات شروع کر دیتی ہے۔ ’’دیکھیے جب میں پہاڑ جنگل اور سمندر والے شہر کی یاترا کے بعد پیرس پہنچی تو اندولن چل رہا تھا اور پولس کو ہفتے میں پچاس بار آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔‘‘

وہ ہوں ہاں نہیں کرتا، مسکراتا رہتا ہے۔

کامائنی اُٹھ کر اندر جاتی ہے تو میں کزان کے کان میں کہتا ہوں۔ ’’گرمی کے موسم میں کامائنی دن میں بیس بار نہاتی ہے اور سردی کے موسم میں دس بار ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جتنی بار کامائنی خود نہاتی ہے۔ اُتنی ہی بار اپنے کتّے کو بھی نہلاتی ہے۔‘‘

سیڑھیوں سے کتے کے بھونکنے کی آواز آتی ہے۔ جیسے وہ ہماری بات سمجھ رہا ہو۔

ہوں ہاں نہیں کرتا، شبد تھرتھراتے ہیں۔ ارتھ اپنی بات نہیں کہہ پاتے۔

کامائنی واپس آکر اپنی جگہ بیٹھ جاتی ہے اور مسکرا کر کہتی ہے ’’میں آئیفل ٹاور دیکھنے گئی تو بلندی سے تصویر کی طرح نظر آرہا ہے۔ جس کو دیکھتے ہوئے میں نے سات بار اپنے جسم کی چٹکی لے کر اپنے آپ سے کہا، یہ میں ہی ہوں جو آئیفل ٹاور کی بلندی پیرس کا چہرہ دیکھ رہی ہوں۔‘‘

وہ کچھ نہیں کہتا چِلم کے چار کش لگا کر دھوئیں کی لکیروں کو دیکھتا رہتا ہے۔

کامائنی لوچ دار آواز میں کہتی ہے۔ ’’جب سے واپس آئی ہوں، میں تو یہی سوچتی رہتی ہوں کہ میں اپنی زبان وہاں کیوں چھوڑ آئی۔‘‘

’’پیرس کو تو کسی تصویر کی ضرورت نہیں ہوتی‘‘ وہ چلاّتا ہے ’’تم نے اپنی تصویر کہاں چھوڑی؟‘‘

’’پیرس کے پاگل خانے میں‘‘

’’پاگل خانے میں کس کے پاس؟‘‘

’’ایک بڑھیا کے پاس؟‘‘

’’کون بڑھیا؟‘‘

’’جو کہتی تھی، میرا بیٹا اخبار میں کام کرتا ہے۔‘‘

’’اور کیا کہتی تھی؟‘‘

’’کہتی تھی بڈھوں کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے میرا بیٹا بڑی بڑی خبریں چھاپتا ہے۔‘‘

’’اور بھی کچھ کہتی تھی بڑھیا؟‘‘

’’کہتی تھی مردہ سمندر میں عیسیٰ کی ایک ایک نشانی ویسی کی ویسی موجود ہے اور جب مردہ سمندر سوکھ جائے گا تو ایک ایک کر کے عیسیٰ کی سبھی نشانیاں دنیا کے ہاتھ آجائیں گی۔‘‘

’’کیا بڑھیا نے کہا تھا کہ مردہ سمندر کب تک سوکھ جائے گا؟‘‘

’’بڑھیا نے کہا تھا جب تک بڈھوں کی حکومت ختم نہیں ہوتی مردہ سمندر کے سوکھنے کی کوئی امید نہیں۔ لیکن بڑھیا نے میری تصویر لے لی۔ بولی میں اسے مردہ سمندر میں پھینک دوں گی تا کہ عیسیٰ کی نشانیوں کے ساتھ یہ تصویر بھی نکلے۔‘‘

’’بالزاک کی ایک ناول کی بڑھیا بھی یہی کہتی ہے۔‘‘ وہ کش لگا کر دُھواں چھوڑتا ہے۔

کامائنی اس فلم کا ذکر کرتی ہے جس میں دکھایا گیا تھا کانٹوں کا تاج پہنانے کے بعد۔۔۔ جب عیسیٰ کو صلیب پر لٹکایا گیا تو اس کے بعد اس کی سبھی نشانیاں جارڈی ندی میں بہا دی گئیں جو بہتے بہتے مردہ سمندر میں جا پہنچیں۔

وہ کہتا ہے ’’میں دیکھ رہا ہوں پاگل خانے میں بڑھیا تالیاں بجا رہی ہے۔ بڈھوں کی حکومت کمزور پڑتی جا رہی ہے اور مردہ سمندر خشک ہو رہا ہے۔‘‘

’’مردہ سمندر کیسے خشک ہوسکتا ہے؟‘‘ کامائنی مسکراتی ہے۔

’’کیا بڑھیا نے کچھ اور بھی کہا تھا؟‘‘ ’’وہ پوچھتا ہے۔‘‘

’’اس نے کہا تھا، میری عمر سات اوپر اسی سال کی ہے اور تین سال بعد میں دس کم سو کی ہو جاؤں گی۔‘‘

وہ بڑبڑاتا ہے ’’نیند میں بڑھیا مردہ سمندر کے کنارے گھومتی ہے اس انتظار میں کہ مردہ سمندر سوکھ جائے گا اور عیسیٰ کی نشانیوں کے ساتھ اس کی اپنی تصویر بھی نکلے گی جو اس نے سولہ سال کی عمر میں پھینکی تھی۔ اس کا پاگل پن تو در اصل اسی دن شروع ہوگیا تھا، جب اس نے اپنی تصویر مردہ سمندر میں پھینکی۔‘‘

کامائنی کبھی تصویر کی طرف دیکھتی ہے کبھی کزان کی طرف۔‘‘

’’تم یہاں بیٹھو کزان! میں چلتا ہوں۔‘‘ میں کہتا ہوں۔

’’مجھے تو خوشی ہوگی اگر کزان یہیں ٹھہر جائے۔۔۔ کامائنی مسکراتی ہے۔‘‘

’’تم بھی یہیں رہ جاؤ نا‘‘ وہ کہتا ہے۔

’’نہیں، کزان! مجھے جانا ہوگا۔‘‘

اس کے کندھوں پر لٹکتے ہوئے بال اور ٹھوڑی سے شروع ہونے والی لمبوتری داڑھی، نیلی آنکھیں اور ہاتھ میں چلم۔ یہ سب اسے ایک فرشتے کے روپ میں پیش کرتے ہیں۔

وہ بات نہیں کرتا، مسکراتا ہے۔

’’آپ بھی رہ جائیے نا۔‘‘ کامائنی کہتی ہے۔

’’میں تو اب چلوں گا‘‘ میں اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہو جاتا ہوں۔

کامائنی میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روکتی ہے۔ ’’تھوڑا اور رُکیے نا، کزان کو لے جانا چاہیں تو بھی مجھے اعتراض نہیں۔ یہ رہنا چاہے تو یہ گھر اس کا ہے۔ یا تو مردہ سمندر سوکھ بھی کیوں نہ جائے۔ اس میں سے میری یا بڑھیا کی تصویر لینے کی بات تو دور عیسیٰ کی نشانیاں بھی ہرگز نہیں ملیں گی۔ اور یہ تصویر چوتھے راستے کا بھید نہیں بتاتی۔‘‘

صوفے سے اُٹھ کر وہ تصویر کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے اور پھر تصویر کی طرف پیٹھ کر کے کہتا ہے۔ ہوا یہ کہ اس رات صوفیہ نے گریٹا کو بتایا کہ تمھارا ڈیڈی آندرے دنیا کا سفر نہ کرسکا۔ وہ دنیا کے سفر کو مردہ سمندر کا سفر کہا کرتا تھا اور وہ کہتا تھا کہ ہمارا دماغ مردہ سمندر ہے جس میں نہ جانے کتنے لمحوں کی کتنی نشانیاں قائم رہتی ہیں، اور اسی رات میں نے صوفیہ کو بتائے بغیر مردہ سمندر کا سفر شروع کر دیا۔

میں کہتا ہوں۔ ’’بالزاک کی نظر میں پیرس لالچ، سازش اور نفرت کا جنگل تھا تو ہماری نظر میں یہ شہر کیا ہے۔‘‘

کزان کی نظریں کامائنی کے چہرے پر جمی رہتی ہیں۔ جیسے بغاوت اور پاگل پن کی سبھی آوازیں دب گئی ہوں۔‘‘

’’میں چرسی بابا کی باتیں سننا چاہتا ہوں۔ کون!‘‘ میں کہتا ہوں۔

’’چرسی بابا کون؟ کامائنی پوچھتی ہے۔‘‘

’’جو بھیرو سنتے ہو، گھاٹ کی پہلی سیڑھی پر گھنٹوں روتے رہتے ہیں۔‘‘ میں کہتا ہوں۔

’’مجبوری کا نام چرسی بابا۔‘‘ وہ ہنستا ہے۔

’’ہم سب بہروپیے ہیں۔‘‘ میں کہتا ہوں۔

تو کیا بالزاک بھی بہروپیا تھا جس نے لالچ، نفرت اور سازش کا جنگل کہا تھا؟ اِٹ اِز آل ایبسرڈ!‘‘ وہ مسکراتا ہے۔

’’لفظوں کے چہرے گھائل ہیں۔ میں کہتا ہوں۔‘‘

وہ ہنس پڑتا ہے، کامائنی مسکراتی ہے۔ جیسے وہ ہم دونوں کا مذاق اُڑا رہی ہو۔

کوئی سنے یا نہ سنے۔ ہم اپنی بات سنانے پر بضد رہتے ہیں۔

’’وہ جو پیرس میں مارا گیا۔ برف کے موسم میں کرسی خالی کر گیا جس پر وہ اخبار کے دفتر میں بیٹھا کرتا تھا۔ لیکن کرسی خالی نہیں رہتی۔ اس پر کوئی اور آبیٹھا۔ ‘‘میں کہتا ہوں۔

چلم چھوڑ کر وہ کہتا ہے۔ ’’مرنے سے پہلے آندرے نے اپنے آخری خط میں مجھے لکھا تھا۔ برف پڑ رہی ہے۔ آج پچیس دسمبر ہے۔ کرسمس کی رات صوفیہ سے پہلی ملاقات کو آج نو سال ہوئے۔۔۔ آج بھی اس کے ہونٹ اتنے ہی موٹے ہیں جتنی میری ماں پاگل ہے۔ وہ گلی کے بچوں سے کہتی ہے۔ دیکھو بیٹا! تم میرے آندرے کے پیچھے مت چلنا۔ ورنہ تم بھی صوفیہ کی نیلی جھیلوں میں ڈوب جاؤگے۔ وہ میرے گالوں پر ہاتھ پھیرتے پوچھتی ہے بیٹا! تمھیں صوفیہ کے ہاتھ اچھے لگتے ہیں یا میرے۔‘‘

کامائنی اس تصویر کی بات کرتی ہے جو اس رات کوئی اس کے کمرے میں چھوڑ گیا تھا۔

میں کبھی بالزاک کے بڑھے ہوئے پیٹ والے بُت کی تصویر دیکھتا ہوں۔ میگزین کے پورے صفحے پراور کبھی ایسا لگتا ہے کہ راہ چلتے کوئی اسمگلر میرے کان میں کہتا ہے۔ کیا یہ سونے کی گھڑی خریدوگے۔ ایسی اِمپورٹیڈ گھڑی ساری مارکیٹ میں نہیں ملے گی۔

کچن سے چینی کا برتن ٹوٹنے کی آواز آتی ہے اور کالی کافی کا دوسرا دور شروع ہو جاتا ہے۔ وہی کٹ گلاس کے پیالے، وہی کالی کافی۔

بات پھر وہیں آجاتی ہے کہ سرکار نے پچاس ہزار جھگیاں جلادیں۔ جیسے شرابی بچے پرندوں کے گھونسلے توڑ ڈالتے ہیں۔

کوئی نہیں جانتا کہ فاختہ پَر کیوں پھڑپھڑاتی ہے۔

کوئی نہیں جانتا کہ مردہ سمندر کب خشک ہوگا۔

صاحب بی بی غلام کے بوڑھے گھڑی بابو کی طرح میں قہقہہ لگا کر کہتا ہوں۔ سب بدل جائے گا۔‘‘

’’آج کل پیرس کچھ زیادہ تیز ہو رہا ہے۔ آج کا اخبار تو یہی کہتا ہے۔‘‘ کامائنی مسکراتی ہے۔

’’آندرے ہوتا تو پیرس کا رنگ دوسرا ہوتا۔‘‘

’’آندرے کون؟‘‘

’’وہی جو اپنی تصویر کسی کے کمرے میں چھوڑ جاتا ہے۔‘‘

اتنے میں آندھی آجاتی ہے۔ کامائنی کھڑکیاں بند کرتے ہوئے کہتی ہے ’’آج تو آندھی کا رنگ کالا پیلا ہے۔ ہر سال ریگستان شہر پر حملہ کرتا ہے لیکن انہی قدموں پر واپس چلا جاتا ہے۔ ریگستان شہر کو کیسے دفن کر سکتا ہے؟‘‘

’’اور خون کا داغ بھی برف کے نیچے کیسے دب سکتا ہے؟‘‘ کزان بڑبڑاتا ہے۔ اِٹ اِز آل ایبسرڈ۔ برف گر چکی ہے سب کچھ سفید ہوگیا۔ لیکن ایک جگہ خون نظر آتا ہے۔ ریلوے اسٹیشن کے پاس۔ یہ اسی کا خون ہے ۔ اسے پولس اٹھا لے گئی۔ برف پھر پڑے گی اور خون کا داغ برف کے نیچے دب جائے گا۔ لیکن خون کا داغ، خون کا داغ برف کے نیچے کیسے دب سکتا ہے؟‘‘

دیوندر ستیارتھی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک افسانہ از دیوندر ستیارتھی