آپ کا سلاماردو غزلیاتڈاکٹر طارق قمرشعر و شاعری

سوچ رہا ہوں اکثر

ایک اردو غزل از ڈاکٹر طارق قمر

سوچ رہا ہوں اکثر ایسا کیوں ہوتا ہے
اس سے لڑ کر خود سے جھگڑا کیوں ہوتا ہے

جس سے بچھڑ کر اپنی جان پہ بن آتی ہے
کوئی آخر اتنا اپنا کیوں ہوتا ہے

دل نے قسم جب خاموشی کی کھائی ہوئ ہے
اندر اتنا شور شرابہ کیوں ہوتا ہے

جب میری تقدیر اندھیروں سے لکّھی ہے
پھر گھر میں ہر روز سویرا کیوں ہوتا ہے

یارب جنکا ملنا ہی تقدیر نہیں ہے
ان لوگوں سے یاد کا رشتہ کیوں ہوتا ہے

ایک دیے کا جلنا ار نہ جلنا ہی کیا
تیز ہوا کو اتنا صدمہ کیوں ہوتا ہے

طارق قمر

post bar salamurdu

ڈاکٹر طارق قمر

ڈاکٹر طارق قمر سینئر ایسو سی ایٹ ایڈیٹر نیوز 18 اردو لکھنئو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button