اردو غزلیاتشعر و شاعریعلامہ طالب جوہری

آج بھی آپ گئے ملنے اس کے گھر

علامہ طالب جوہری کی اردو غزل

آج بھی آپ گئے ملنے اس کے گھر، پھر کل جائیں گے
طالب صاحب آگ سے مت کھیلیں، بالآخر جل جائیں گے

وہ اپنے گھر کی رونق بن جائے تو ہم وعدہ کرتے ہیں
اپنے گھر واپس جا کر گھر کے ماحول میں ڈھل جائیں گے

رسی جل گئی لیکن اس کے بل شعلوں پر خندہ زن ہیں
جب خاکستر بن کے اڑے گی تب رسی کے بل جائیں گے

حدِ نظارہ تک خشخاش کے نیلے پودے تھے اور میں تھا
دل نے کہا تھا آنکھ جھکا لے ورنہ پودے جل جائیں گے

ذہن کے سب کھڑکی دروازے کھول کے اندر جھاڑو دے دو
کب سے حجرہ بند پڑا ہے اس میں بچھو پل جائیں گے

اُس نے مجھ سے عذر تراشے یعنی وہ یہ جان رہا تھا
ایک یہی دوکان ہے جس پر کھوٹے سکے چل جائیں گے

علامہ طالب جوہری

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button