اردو غزلیاتشعر و شاعریقمر جلال آبادی

اس میں کوئی فریب تو اے آسماں نہیں

ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی

اس میں کوئی فریب تو اے آسماں نہیں

بجلی وہاں گری ہے جہاں آشیاں نہیں

صیاد میں اسیر کہوں کس سے حالِ دل

صرف ایک تو ہے وہ بھی مرا ہم زباں نہیں

تم نے دیا ہماری وفاؤں کا کیا جواب

یہ ہم وہاں بتائیں گے تم کو یہاں نہیں

سجدے جو بت کدے میں کیے میری کیا خطا

تم نے کبھی کہا یہ مرا آستاں نہیں؟

گم کردہ راہ کی کہیں مٹی نہ ہو خراب

گرد اس طرف اڑی ہے جدھر کارواں نہیں

کیوں شمع انتظار بجھاتے ہو اے قمرؔ

نالے ہیں یہ کسی کے سحر کی اذاں نہیں

قمر جلال آبادی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button