اردو غزلیاتشعر و شاعریفرزانہ نیناں

اک وراثت کی طرح گاؤں کی گڑ سی باتیں

فرزانہ نیناں کی اردو غزل

اک وراثت کی طرح گاؤں کی گڑ سی باتیں
گٹھڑیاں باندھ کے اس دل کے نگر آتی ہیں

جتنا بھی چاہوں درِ یار سے بچ کر نکلوں
تہمتیں اتنی زیادہ مرے سَر آتی ہیں

اتنی سی بات پہ اچھی نہیں شوریدہ سری
شام کو چڑیاں تو سب اپنے ہی گھر آتی ہیں

شرم سے الجھے دوپٹے کی جو کھولوں گر ہیں
دل کی نیناں رگیں سب کھلتی نظر آتی ہیں

فرزانہ نیناں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button