Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
کنارے پر کوئی آیا تھا
لینڈسکیپ
کتابیں
دیوار ہوا میں، کوئی تصویر نہیں ہے
ابھی تو رات ہے
زاہدہ حنا
عجب طلسم ہے دیوار و در میں رکھا ہوا
کمال ضبط کا یہ آخری ہنر بھی گیا
کچھ بھی ہو ، خوئے یار سے ہٹنے کی خو نہ ہو
عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا
یکتائی کے جنگل میں بھٹکتی تنہائی
اے سروِ بے ثمر
مارگلہ اور تم اور میں
پاک برٹش اینڈ سٹی میگ مشاعرہ
ایک شام ارشاد اعوان کے نام
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اس کی محفل میں گنگنا دینا
دل تو اجڑی ہوئی ریاست ہے
ہیں خواب میں ہنوز
کاش ٹرین کبھی نہ آتی
پہلو میں ترے رات گزاروں میں کسی دن
خرید کر جو پرندے
جو دیکھ سکتے نہ تھے
مرے خلاف عدالت بھی
شور ایسے مچا رہے ہو تم
کہی کے رنگ میں ہوں
غلط کہا تمھیں لوگوں نے
جیسے بھی نام چاہے
عجب مذاق رَوا ہے
بے پَر کی جب سے
شہر کے سارے دادا گیروں سے
میں چھوٹے لوگوں کو پہلے
میں جانتا تھا کہ زیرِ عتاب
یُوں بھی بُھوک مِٹا سکتا ہے
تو بھی مزاق اڑاتا ہے
مرے مُرشد کہا کرتے تھے
کنارِ بازگشت
ایلون رابرٹ کارنیلیس
جس طرح پل ٹھہر جاتے ہیں
جنون لطیفہ
ہوئے مر کے ہم جو رسوا
دست زلیخا
منفرد سا کوئی پیدا وہ فن چاہتی ہے
اب یہ بات مانی ہے
زکوٰۃ
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
حساب ترک تعلق تمام میں نے کیا
نظام شام و سحر سے مفر بھی ہے کہ نہیں
عشق سامان بھی ہے بے سروسامانی بھی
عجب قفس تھا، عجب خوش نوا پرندہ تھا
سفر قیام مرا، خواب جستجو میری
پلٹ کے چاند سیہ رات میں نہیں آیا
یہ لطف سیرِ سماوات میں نہیں آیا
یہ جو نصیبِ عشق ہے ، یہ جو غبارِ عشق ہے
ہریالی کے اتنے رنگ ہیں جتنے رنگ سمندر کے
سریلی قمریاں حق سرہ گردان کرتی ہیں
آنکھ کھلتے ہی خواب بھول گیا
رات اور دن کی بیابانی
آ اور میرے وجود میں اُتر
کچھ اور عشق کا حاصل نہ عشق کا مقصود
آنکھوں میں تیری بزمِ تماشا لئے ہوئے
نہ یہ شیشہ نہ یہ ساغر نہ یہ پیمانہ بنے
ویرانی
خواب
ستم کے بعد اب ان کی پشیمانی نہیں جاتی
پھر میں نظر آیا، نہ تماشا نظر آیا
یہاں تو کچھ بھی ممکن ہے
ویرا
وابستگی
ہے ایک ہی جلوہ
<<
1
...
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
...
140
>>