اردو غزلیاتشعر و شاعریعمران عامی

میں چھوٹے لوگوں کو پہلے

عمران عامی کی ایک اردو غزل

مَیں چھوٹے لوگوں کو پہلے بَڑا بناتا تھا
پھر اس کے بعد انھیں آئنہ دِکھاتا تھا

اِسی لئے تو درختوں کے حافظے میں ہوں
مَیں روشنی کےلئے لکڑیاں جلاتا تھا

تجھے کہا تھا کہ سائے کا اعتبار نہيں
کہاں گیا جو ترے ساتھ آتا جاتا تھا

یہ شاعری تو بہت بعد کا معاملہ ہے
مَیں اِس سے پہلے یہاں بکریاں چَراتا تھا

گَڑا ہوا تھا کہیں سنگِ میل کی صورت
ہر ایک شخص مجھے دیکھنے کو آتا تھا

وہ ایک زخم کی بھی تاب لا نہيں پایا
جو دوسروں کےلئے بَرچھیاں بناتا تھا

زمین پاؤں پکڑتی تھی آتے جاتے ہوئے
اور آسماں مجھے اپنی طرف اُڑاتا تھا

پھر ایک دن مجھے دریا نے آ لیا , عامی
مَیں کاغذوں سے بہت کشتیاں بناتا تھا

عمران عامی 

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button