Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
کیسی اُفتاد آپڑی دل پر
وہ باغ میں میرا منتظر تھا
وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
قفس کو چمن سے سوا جانتے ہیں
سفر منزل شب یاد نہیں
ہنر کی بات کسی کم ہنر سے کیا کرتے
مت رو سالگ رام
اشک در اشک بھرے آنکھ سنبھلنے لگی ہے
جنوں تبدیلی موسم کا
تارے جو کبھی اشک فشانی
بس اک رستہ ہے
اے شب ہجر
صبح دم سارے پرندے یار کیوں خاموش ہیں
خواہشوں کی کتاب تھے جب تھے
ہَوا کے پَر کَترنا اب ضروری ہو گیا ہے
بحضور سرورِ کائنات ﷺ
انت بھئے رت بسنت میرو
کر نالہ کشی کب تئیں اوقات
پت جھڑ کی آواز
دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا
کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہے
موجوں کا عکس ہے خطِ جامِ شراب میں
عالم میں کوئی دل کا
گلوں کی جلوہ گری، مہر و مہ کی بوالعجبی
یہ عشق نے دیکھا ہے، یہ عقل سے پنہاں ہے
دل سے شوق رخ
بارے دنیا میں رہو
دست و پا مارے وقت بسمل تک
بدن کی آگ کے دریا کو پار کرتے ہوئے
آلام روزگار کو آساں بنا دیا
ترے جلووں کے آگے ہمت شرح و بیاں رکھ دی
عشووں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہے
حرفِ ندارد
قلندر
ساز ہستی کی صدا غور سے سن
گاجر کا رس
حمید قیصر
ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے
اب فیصلہ کرنے کی
آب و ہوا ہے
کبھی موسم ساتھ نہیں دیتے
تم نے سچ بولنے کی جرأت کی
مرا دل اور مری جان مدینے والے
سچ
وہ جو آئے تھے بہت
کوئی یاد ہی رخت سفر
دست دعا کو کاسۂ سائل
وہ جن کے نقش قدم
نئے سال کی پہلی نظم
یاد تیری یاد ہے نام خدا
الٹی ہر ایک رسم جہان شعور ہے
راہ و رسم خط کتابت ہی سہی
نکلے چلے آتے ہیں تہ خاک سے کھانے
مہربانی بھی ہے عتاب بھی ہے
کبھی تقصیر جس نے کی ہی نہیں
کس لئے پروانہ خاکستر ہوا
رقص کرتے ہوئے سب ہوش بھلا دیتا ہیں
مشرق وسطیٰ
شاید درِ یقین پہ رسائی کا وقت ہے
لا کے کگار پر
عجیب بات یہ ہوئی کہ ساتھ بھی نہیں رہے
عالمِ برزخ سے
آنکھوں سے خواب دل سے تمنا تمام شد
اُس کے نام ۔ جسے تاریکی نگل چکی
گردشِ رنگ
اداس روح رہی خاک دان کے اندر
قربتیں ہوتے ہوئے بھی
پھر جی اٹھے ہیں
ایران، امریکہ کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کاکردار
بدل گیا ہے سبھی
<<
1
...
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
...
140
>>