- Advertisement -

Tere Jalwoon Ke Aagay

An Urdu Ghazal By Asghar Gondvi

ترے جلووں کے آگے ہمت شرح و بیاں رکھ دی
زبان بے نگہ رکھ دی نگاہ بے زبان رکھ دی

مٹی جاتی تھی بلبل جلوہ گل ہائے رنگیں پر
چھپا کر کس نے ان پردوں میں برق آشیاں رکھ دی

نیاز عشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظ ناداں !
ہزاروں بن گئے کعبے جبیں میں نے جہاں رکھ دی

قفس کی یاد میں یہ اضطراب دل، معاذ اللہ !
کہ میں نے توڑ کر ایک ایک شاخ آشیاں رکھ دی

کرشمے حسن کے پنہاں تھے شاید رقص بسمل میں
بہت کچھ سوچ کر ظالم نے تیغ خوں فشاں رکھ دی

الٰہی ! کیا کیا تو نے کہ عالم میں تلاطم ہے
غضب کی ایک مشت خاک زیر آسماں رکھ دی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Ghazal By Asghar Gondvi