ابنِ انشاءاردو نظمشعر و شاعری

الوداع

ابن انشاء کی ایک اردو نظم

ہونے والا ہوں جدا تیرے نواحات سے آج
اے کہ موجیں ہیں تری شاہ سمندر کا خراج
اب نہ آؤں گا کبھی سیر کو ساحل پہ ترے
الوداع اے جوئے سرداب ہمیشہ کے لیے
لاکھ ضو ریز ہوں خورشید ترے پانی پر
عکس افگن ہو اس آئینے میں سو بار قمر
پر نہ آؤں گاسیر کو ساحل پہ ترے
الوداع اے جوئے سرداب ہمیشہ کے لیے
پھر اراروٹ پہ کشتی کوئی آ کر ٹھہری

پھر اراروٹ پہ کشتی کوئی آ کر ٹھہری
کوئی طوفاں متلاطم سر جودی آیا
سینٹ برنارڈ کے کتوں نے جو نہ خوشبو پائی
برف نے لا شئر آدم بہ زمیں دفنایا
سینگ بدلے ہیں زمیں گاؤ نے حیراں ہو کر
یا مہا دیو غضبناک ہوا چلا یا
بطن اٹناسے ابلتے ہوئے لاوے کا خروش
صرصر موت نے ہر چار جہت پہنچا یا
پمپیائی کے جھروکے ہوئے یکسر مسدور
آل قابیل نے دنیا کا قبالہ پایا

ابن انشاء

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button