- Advertisement -

Koi Yaad Hi Rakht-E-Safar

An Urdu Ghazal By Saleem Kausar

کوئی یاد ہی رخت سفر ٹھہرے کوئی راہ گزر انجانی ہو

جب تک مری عمر جوان رہے اور یہ تصویر پرانی ہو

کوئی ناؤ کہیں منجدھار میں ڈوبے چاند سے الجھے اور ادھر

موجوں کی وہی حلقہ بندی دریا کی وہی طغیانی ہو

اسی رات اور دن کے میلے میں ترا ہاتھ چھٹے مرے ہاتھوں سے

ترے ساتھ تری تنہائی ہو مرے ساتھ مری ویرانی ہو

یوں خانۂ دل میں اک خوشبو آباد ہے اور لو دیتی ہے

جو باد شمال کے پہرے میں کوئی تنہا رات کی رانی ہو

کیا ڈھونڈتے ہیں کیا کھو بیٹھے کس عجلت میں ہیں لوگ یہاں

سر راہ کچھ ایسے ملتے ہیں جیسے کوئی رسم نبھانی ہو

ہم کب تک اپنے ہاتھوں سے خود اپنے لیے دیوار چنیں

کبھی تجھ سے حکم عدولی ہو کبھی مجھ سے نافرمانی ہو

کچھ یادیں اور کتابیں ہوں مرا عشق ہو اور یارانے ہوں

اسی آب و ہوا میں رہنا ہو اور ساری عمر بتانی ہو

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Ghazal By Saleem Kausar