Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
لب ترے کی دل کشی سے ملتا ہے
یہ صحرا کی صر صر صبا تو نہیں ہے
ترے سوا کسی سے رابطہ نہیں سائیں
بیت رہی ہے زندگی اسی انتظار میں
صحت سب کے لیے
سگریٹ اور فاؤنٹین پن
سفید چولے میں لپٹے سیاہ کاروں نے
جلتے سینے میں ابھی سوختنی ہے کیا کچھ
آسماں تک ملی زمیں آباد
وزیرستان
محاصرہ
سنو مسافر! سرائے جاں کو تمہاری یادیں جلا چکی ہیں
جس طرف چاہوں پہنچ جاؤں مسافت کیسی
حیات و کائنات پر کتاب لکھ رہے تھے ہم
اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک رہے تھے
سورج اٹھائے ڈھونڈو گے ہم کو گلی گلی
داستاں میں آج شب اک ایسا منظر آگیا
ہر اک منظر بھگونا چاہتی ہے
میں دسترس سے تمہاری نکل بھی سکتا ہوں
جیسے جیسے کر رہا ہوں عمرِ رفتہ کا حساب
تب کہیں جھکایا ہے سر غرورِ شاہی نے
اس نے تراشا ایک نیا عذرِ لنگ پھر
کچھ رہ جانے والی باتیں
راتیں سمیٹ لوں گا سحر چھوڑ جاوْں گا
کھردری گرد کی کھال
سودا بیچنے والی
سو کینڈل پاور کا بلب
سوراج کے لیے
یہ شب و روز جو اک بے کلی رکھی ہوئی ہے
اسے دل سے بھلا دینا ضروری ہو گیا ہے
شاہد ذکی کی شاعری
پھر کسی حادثے کا در کھولے
کاغذ قلم دوات کے اندر رک جاتا ہے
یوں تو شیرازۂ جاں کر کے بہم اٹھتے ہیں
اب کہاں اور کسی چیز کی جا رکھی ہے
ایک زاہدہ، ایک فاحشہ
بُڈّھا کھوسٹ
بدصورتی
راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے
ہر اِک لمحہ نیا اِک امتحاں ہے
کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی
بدن کی سرزمین پر تو حکمران اور ہے
یہ گئے دنوں کا ملال ہے
بی زمانی بیگم
بیمار
چوہے دان
حافظ حسین دین
حسن کی تخلیق
حجامت
سرکنڈوں کے پیچھے
عورت اور محبت
کڑوی مسری
زخم
ڈھکا چہرہ
ٹرانجٹ کی زندگی
پرگتی
بس اسٹینڈ
پانچ دن
ان کا کیا مقابلہ
پردہ فاش
اکیچ بات ہے
بے نام
دفن
اُڑان
کوئی عزت مآب مانگے گا
ہمیں راس آئی نہیں زندگی
دل کو کسی سے کوئی سروکار اب نہیں
گھر کا رستہ بھولنے والے کی خیر
بےسبب ہی بڑھائی بات اس نے
وقت کی رفتار سے آگے نکل
<<
1
...
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
...
140
>>