Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
محو ہوں میں جو اس ستمگر کا
رازِ وفائےناز
اے قافلۂ شوق
خمیازہ
ایرانی پلاؤ
پیا سا
اتار لفظوں کا اک ذخیرہ غزل کو تازہ خیال دے دے
شعر اور واہ کا رشتہ
کچھ طبیعت ہی ایسی پائی ہے
حقیقتِ غمِ اُلفت
ابھی جذبۂ شوق کامل
اب تو خوشی کا غم ہے
بلونت سنگھ مجیٹھیا
پھسپھسی کہانی
چور
راہبر کی نہ فکر منزل کی
سکون و صبر کا اُمید
دل اب اُس کو ہار رہا ہے
توڑ کے سحر یادِ گزشتہ
ترے بعد جو خلا ہے
جھلّی چلی گئی
مزدوری
اپنی طرف سے مجھ کو وہ برباد کر گیا
دل جس طرف بھی شوق سے
مسائل پر تحمل سے نہ گر یوں
ملنے کے آرہے ہیں اب لوٹ کر زمانے
سائل کو اس وجہ سے میسر نہیں ہے
ہزاروں راز پنہاں ہیں شعور خاک کے اندر
انساں کی اپنے واسطے تنظیم ہے غلط
تقی کاتب
شہرت سے نہ دولت سے نہ کار سے ملنی ہے
مرے سرکارؐ نے جب بھی تبسم کی ردا اوڑھی
ترےؐ در سے محبت ہے یہی میرا اثاثہ ہے
یہ پیچ و تاب میں شبِ غم بے حواسیاں
سچ کے بدلے میں کیا ملا ہو گا
یہ کوئی داستاں نہیں
جو کتابِ زیست کا باب تھا
نام ہنسنے کا ہی خوشی ہے کیا ؟
ایک طوفان ہے ، ٹالا نہیں جا سکتا
مغرور تھا بہت ، اسے مجبور کر دیا
جُستجُو کے کسی جہان میں ہے
جیسا خُدا کا حُکم ہے ویسا سمجھتا ہوں
کبھی نہ لٙوٹ کے آنے کی بات کرتے ہوئے
پتّھروں میں گُلاب دیکھتا ہوں
کیسے ساتھ نبھاؤں گا میں ایسے میں
تجھے یہ وہم کہ چہرے کو کب سمجھتا ہوں
بڑے اصول بڑے ضابطے سے ملتا ہے
دکانِ حبس میں وہ جالیاں بناتا تھا
ایسے بنیاد ہلاتے ہیں مرے شہر کے لوگ
سورج کے رخ پر آ جانا پڑتا ہے
اس کی باتوں سے میں نے پرکھا تھا
چوپال سٹی میگ مشاعرہ
اگر کرنا نہیں ہے پیار ساجن
سورہ الرحمٰن کی روشنی میں ایک ادنٰی کوشش
دو مناظر
انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
آئیے ذرا خود کو بھی ٹٹولیئے
آٹھواں سالانہ نعتیہ مشاعرہ
آنکھ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کوئی جھیل سمجھ
اتنے چاہت بھرے غصے سے لڑا کرتا تھا
بلا کا ضبط کیا، حوصلے سے چال چلی
خیال و خواب کے دفتر جگہ نہیں بنتی
جو دل سے اُکھڑی وہیں بعد میں رکھی گئی تھی
اُسے بھی ایسے ہی دل سے نکال پھینکا ہے
کبھی سنی ہے بھڑکتے الاؤ کی آواز ؟
کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہم
آنکھ کھلتے ہی خواب یاد آیا
پُھولوں کی سازش
ہِلے ہوئے لوگ
ہوئی اک عُمر ترکِ التجا کو
<<
1
...
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
...
140
>>