Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
سوبھاوِک تھا
خود کی پہچان
پریم چند مرتے کیوں نہیں؟
پڑھے کلمہ
ریت پر خون
شروعات
پسینہ
سب سے بڑا گناہ
ایک بیوقوف عورت
گھر کا پتہ
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
ہم دیکھیں گے
پریشانی کا سبب
حرفِ تسلی
پھاہا
پیرن
تانگے والے کا بھائی
رشتۂ جسم و جاں بھی ہوتا ہے
بیگو
سلگ اٹھی ہے کوئی آگ سی ہواؤں میں
شاخ بے نمو پر بھی عکس گل جواں رکھنا
راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہے
پھر ایک داغ چراغ سفر بناتے ہوئے
موڑ موڑ گھبرایا گام گام دہلا میں
گزر گیا جو مرے دل پہ سانحہ بن کر
آب و گل کی سلطنت اپنی زبانی حمد ہے
نہ ترا خدا کوئی اور ہے
ربِّ گل! ربِّ رنگ! ربِّ بہار
یہ تو نہیں فرہاد سے یاری نہیں رکھتے
یہ ہم کو کون سی دنیا کی دھن آوارہ رکھتی ہے
یہ ہم جو ہجر میں اس کا خیال باندھتے ہیں
وہ کون ہے جو پس چشم تر نہیں آتا
وہ آنے والا نہیں پھر بھی آنا چاہتا ہے
باعثِ ننگِ محّبت کی پذیرائی ہے
کچھ جو انہیں مجھ سے
دنیا کی راویات سے
ساقی نظر سے پنہاں
اب وہ خود محوِ علاج
جب کبھی ہم ترے کوچے
پھوجا حرام دا
ام المومنین حضرت حفصہؓ بنت عمر
یوگا کی شرعی حیثیت
خنک شہرِ ایران
اخبار میں ضرورت ہے
دوست کے نام
بچے
اب اور تب
کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں
رونا رُلانا
غمِ دوراں سےفرصت کا کوئی لمحہ چرالینا
ہیبت ناک افسانے
کاغذی روپیہ
سر محمد اقبال
ٹوٹ جانے میں کھلونوں کی طرح ہوتا ہے
اب ایسے چاک پر کوزہ گری
بنتے بنتے اپنے پیچ و خم بنے
وقت پر سے نقاب اُٹھا دیا ہے
کچھ بھی نہ جب دکھائی دے
چشمِ دِگر برس اُٹھی
سیاہی گرتی رہے
ساعتِ صبر کرم لگتی ہے
یہ الگ بات کہاں ہم ہیں تمہارے لائق
وہ اپنی سوچ میں ترمیم کرنے والا تھا
سیاہ رات کا طے کر لیا سفر آدھا
مجھے تو اپنی حفاظت میں رکھ خدا میرے
یہ نہیں راستہ نہیں معلوم
میرے پاس تم ہو
جینے والی قضا
مرے ہم نفس، مرے ہم نوا
خاک اُڑتی ہے اس جہان میں کیا
<<
1
...
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
...
140
>>