- Advertisement -

Hazrat Hafsa (RA)

An Islamic Mazmoon By Muhammad Mushahid

ام المومنین حضرت حفصہؓ بنت عمر

ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی 

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی ولادت کا تاریخی پس منظر

اللہ تبارک و تعالیٰ کے مقدس گھر خانۂ کعبۂ کی دیواروں میں مختلف موسموں کی وجہ سے جگہ جگہ سوراخ پڑ گئے تھے۔ برسات کے موسم میں جب کبھی سیلاب آتا تو ان سوراخوں میں مزید اضافہ ہو جاتا۔ پچھلے ۳۵؍ سال سے یہی حالات چل رہے تھے۔ مکۂ مکرمہ میں آباد قبیلۂ قریش کے لوگوں نے کئی مرتبہ خانۂ کعبہ کی مرمت کا ارادہ کیا لیکن وہ ڈرتے تھے کہ کہیں اللہ عزوجل ناراض نہ ہو جائے اور ان پر عذاب ٹوٹ پڑے۔
اتفاق سے اسی دوران جدہ کے قریب سمندر میں سخت طوفان آیا اور یاقوم نامی ایک رومی تاجر کی کشتی اس طوفان کا شکار ہو کر ٹوٹ پھوٹ گئی۔ اور وہ جدہ کے ساحل پر آ کر سکونت پذیر ہو گیا۔ اس یاقوم نامی تاجر کو فنِّ تعمیر میں مہارت حاصل تھی، قریش کو جب اس بات کی خبر ملی تو انھوں قریش کے سب سے ذہین شخص ولید بن مغیرہ اور دوسرے چند لوگوں کو اُس تاجر کے پاس بھیجا تاکہ وہ یاقوم کو خانۂ کعبہ کی تعمیر و مرمت کے بارے میں آمادہ کر سکیں۔
چوں کہ کشتی کی تباہی کے ساتھ ساتھ اس کا سارا مالِ تجارت بھی تباہ و برباد ہو گیا تھا۔ اس کے پاس اس وقت روپیہ پیسہ کچھ بھی نہ تھا۔ اس لیے وہ خانۂ کعبہ کی تعمیر و مرمت کے لیے فوراً راضی ہو گیا۔ مکۂ مکرمہ میں رہنے والے ایک قبطی شخص جس کو بڑھئی اور معماری کے کام میں مہارت حاصل تھی یاقوم کی مدد کے لیے تیار کر لیا گیا۔
خانۂ کعبہ کی تعمیر و مرمت سے پہلے قریش کے قبیلوں نے آپس میں یہ طَے کر لیا کہ ہر قبیلہ ایک ایک طرف کی دیوار مسمار کرے لیکن ان میں کسی کو بھی ہمت نہ ہوئی۔ سب ایک دوسرے کا منہ تکتے رہے کہ دیکھیں پہل کون کرتا ہے؟ انھیں شدید خوف اور اندیشہ تھا کہ کعبہ کی دیواروں کو شہید کرنے پر خداوند قدوس سخت ناراض ہو گا اور پھر اُن کا دنیا و آخرت میں کہیں بھی ٹھکانہ نہ رہے گا۔
ہر طرف خوف اور خاموشی طاری تھی۔ ولید بن مغیرہ ڈرتے سہمتے آگے بڑھا آہستہ آہستہ چلتے ہوئے وہ رکن یمانی کے پاس پہنچا اور دھیرے سے رکن یمانی کے ایک حصے کو منہدم کر دیا۔ اس وقت اس کی حالت بڑی غیر تھی۔ خوف کے مارے اُس کی جان نکلی جا رہی تھی اس کو ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ موت کے منہ میں ڈھکیلا جا رہا ہو۔ ولید بن مغیرہ نے جب رکن یمانی کے پاس کے حصے کو مسمار کر دیا تو سب لوگ بُری طرح ڈر گئے اور اس کام کو جوں کا توں روک کر اپنے اپنے گھروں کی طرف چل پڑے۔ لوگوں کو سخت اندیشہ تھا کہ اب ولید کو سخت سزا ملے گی۔
دوسرے دن صبح سویرے تمام لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکلے تاکہ ولید کا حال دریافت کریں کہ اس کے ساتھ رات میں کیا بیتی؟ لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ ولید بن مغیرہ تو صحیح سلامت ہے تو ان کا خوف اور ڈر ایک پل میں دور ہو گیا۔ اب لوگوں کے حوصلے بلند ہو گئے۔ادب کے ساتھ کعبے کی دیواریں شہید کرنے میں مصروف ہو گئے۔ ہر قبیلہ اس کام کو اپنے لیے ایک بڑی خوش نصیبی سمجھ کر بڑے جوش و خروش سے اپنی اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر رہا تھا۔
کعبے کی دیواروں کی مسماری کے بیچ ایک بہت بڑا پتھر نمودار ہوا جس پر کدال اور پھاوڑے کا کچھ بھی اثر نہ ہوا، اس پتھر کو لوگوں نے سنگِ بنیاد قرار دیا۔ مکۂ مکرمہ کے آس پاس کی پہاڑیوں سے نیلے پتھر اکٹھا کر کے کعبے کی تعمیر و مرمت شروع کی گئی۔ جب دیواریں کافی بلند ہو گئیں تو خیال آیا کہ حجر اسود کو اس کی پرانی جگہ پر لگا دیا جائے۔قریش کا ہر قبیلہ اس بات کا خواہش مند تھا کہ حجر اسود کو دوبارہ نصب کرنے کی سعادت اُسے نصیب ہوا۔
ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا قبیلہ بنی عبدالدار اور بنی عدی نے یہ عہد کر لیا کہ ہم کسی دوسرے قبیلے کو حجر اسود لگا نے نہیں دیں گے۔ بنی عبدالدار کا یہ عہد صرف زبانی نہیں تھا بل کہ وہ خون سے بھرا ہوا ایک برتن لائے اور اس میں ہاتھ ڈال کر اپنے عہد کو دہرایا۔ اس واقعہ کے بعد سے عبدالدار کا لقب ’’لعقۃ الدم ‘‘ یعنی خون چاٹنے والا پڑ گیا۔
ہر قبیلے کے لوگوں کے ہاتھوں میں ننگی تلواریں تھیں اور وہ ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ وقت بڑا نازک ہو گیا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ کسی بھی وقت کوئی بہت خطرناک واقعہ پیش آسکتا ہے۔
اس جھگڑے فساد کو ختم کرنے کے لیے قریش کے کئی سرکردہ لوگ اکٹھا ہوئے کہ اس معاملے کو کس طرح حل کیا جائے۔ ابو امیہ بن مغیرہ مخزومی قریش کے تمام قبیلوں میں بڑا اور عقل مند تسلیم کیا جاتا تھا ، اس نے مشورہ دیا کہ :
’’ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اس شخص کو ثالث مانو جو صفا کے دروازے سے کل صبح سویرے سب سے پہلے کعبہ میں داخل ہو۔ ‘‘
ابو امیہ بن مغیرہ مخزومی کی اس تجویز سے قریش کے سب ہی قبائل نے اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ ہی تلواریں نیام میں چلی گئیں اور سب ایک طرف ہٹ کر اس انتظار میں بیٹھ گئے کہ دیکھیں کل صبح سویرے کون شخص ادھر آتا ہے۔
یہ رات قریش کے لوگوں کے لیے ایک بڑی رات ثابت ہو رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ رات گزر ہی نہیں رہی ہے۔ بڑی آہستہ آہستہ رات گزرتی رہی کہ اچانک منہ اندھیرے لوگوں نے دیکھا کہ ایک شخص بڑے وقار اور متانت سے چلا آ رہا ہے اور پھر وہ صفا کے دروازے سے کعبۃ اللہ میں داخل ہوا۔ لوگوں نے دیکھا توبیک زبان چلا اٹھے۔
’’ یہ امین ہے۔ یہ صادق ہے۔ ہم اسے خوشی خوشی اپنا ثالث مانتے ہیں۔ ‘‘
یہ عظیم ہستی ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور کعبۃ اللہ کی تعمیر کا یہ واقعہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پانچ سال پہلے کا ہے۔ قریش کے بزرگوں نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ساری صورتِ حال عرض کی۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سخت انداز کو فوراً بھانپ لیا کہ ان کی مرضی کے خلاف اگر کوئی بھی بات ہو گئی تو دوبارہ تلواریں نیاموں سے نکل آئیں گی۔ آپﷺ نے حالات کی نزاکت کے اعتبار سے فرمایا: ’’ ایک چادر لاؤ۔‘‘
چناں چہ اس وقت لوگوں نے چادر لا کر دے دی۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مقدس ہاتھوں سے حجر اسود کو اٹھایا اور اُس چادر کے بیچوں بیچ رکھ دیا ، پھر ارشاد فرمایا:
’’ ہر قبیلے کے کچھ لوگ اس چادر کا ایک ایک گوشہ پکڑ کر اٹھائیں۔‘‘
سب نے ایسا ہی کیا اور پھر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حجر اسود کو اپنے مبارک ہاتھوں سے اُس کے اصل مقام پر رکھ دیا۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ اتنا صحیح اور دانش مندانہ تھا کہ قریش کے ہر قبیلے کا ایک ایک فرد خوش ہو گیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے حجر اسود کو اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھوں لگوا دیا۔ بعثتِ مبارکہ سے پہلے قریش کے تمام قبیلوں نے آپﷺ کی امانت اور صداقت کی گواہی دی۔
بنی عبدالدار نے اس معاملے میں جو تیور دکھایا وہ بڑا سخت گیر تھا۔ لیکن نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بصیرت افروز اور مدبرانہ فیصلے کی وجہ سے ایک بڑا خونی ٹکراؤ ٹَل گیا۔ اسی دوران نبی عدی کے ایک گھرا نے میں زینب زوجہ عمر بن خطاب نے ایک خوب صورت بچی کو جنم دیا۔ اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آج سے بائیس سال بعد اس بچّی کو اتنا بڑا اعزا ز حاصل ہو گا کہ قیامت تک پیدا ہونے والے مومنوں کی گردنیں اس کے سامنے ادب سے جھک جائیں گی۔ یہ نبیِ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ اور ام المؤمنین کے لقب سے سرفراز ہوں گی۔ اسی بچّی کو اسلامی تاریخ میں حضرت سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کے نام سے جانا جاتا ہے۔

نام و نسب اور والدین

ام المؤمنین حضرت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں جو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے خلیفہ تھے۔ ان کا نام حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما تھا۔ ان کی نسبت قرشیہ عدویہ ہے، اور ان کی والدہ زینب بنت مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح تھیں۔
زمانۂ جاہلیت میں قریش نے مکۂ مکرمہ میں نظم و نسق قائم رکھنے اور انتشار و افتراق کو ختم کرنے کے لیے آپس میں مختلف قبیلوں کو الگ الگ ذمہ داریاں تقسیم کر رکھی تھیں۔ ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے قبیلے بنی عدی کے پاس سفارت کا عہدہ تھا۔ یہ وہ قبیلہ تھا جس کا سلسلۂ نسب دسویں پشت میں لوی پر جا کر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا تھا۔اگر کسی دوسرے قبیلے کو قریش کے ساتھ کوئی سیاسی معاملہ پیش آ جاتا تو بنی عدی کے لوگ ہی بہ حیثیت سفیر معاملات طَے کرتے تھے۔ مکۂ مکرمہ میں ثالثی کے فیصلے اسی قبیلے کو انجام دینا پڑتے تھے، اسلام سے پہلے مکۂ مکرمہ میں ثالثی اور سفارت کا منصب ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے والدِ گرامی امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اندر معاملہ فہمی، دوراندیشی ، تدبر، فصاحت و بلاغت، عدل و انصاف کی خصوصیات کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔ قریش کے تمام قبیلوں میں آپ کی شخصیت سب سے ممتاز تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا شمار قریش کے ان سترہ افراد میں ہوتا تھا۔
جس طرح حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا سلسلہ نسب باپ کی طرف سے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دسیوں پشت پر جا ملتا تھااسی طرح ماں حضرت زینب بنت مظعون کی طرف سے ان کانسب آپﷺ سے کعب میں جا ملتا ہے۔
اُن دنوں یوں تو دینِ ابراہیمی معدوم ہو چکا تھا اور بیت اللہ شریف میں بت پرستی عروج پر تھی۔ کعبۃ اللہ میں تین سو ساٹھ بت نصب تھے۔ ان حالات کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خاندان حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین سے ناواقف نہیں تھا۔ زید بن عمر و بن نفیل جو کہ ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے والدِ محترم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے چچا تھے۔ یہ زمانۂ جاہلیت کے وہ پہلے شخص تھے جن کو کفر و شرک کے اندھیروں میں توحید کی روشنیاں دکھائی دیں اور انھوں نے پکار کرکہا کہ :’’ اے اللہ ! مَیں تجھ کو گواہ کرتا ہوں کہ مَیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مذہب پر ہوں۔‘‘ اور پھر قریش سے یوں مخاطب ہوئے:’’ اے قریش ! اللہ کی قسم میرے سوا تم میں کوئی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر قائم نہیں۔‘‘
وہ بتوں کے نام پر قربان کیے گئے ذبیحے نہیں کھاتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کے بڑے سخت مخالف تھے۔ وہ لوگوں کو بت پرستی ترک کرنے کی تلقین کرتے۔ ان کا چچا خطاب بن نفیل اپنے بھتیجے کے اس رویے سے سخت ناراض تھا اور اس کا دشمن بن گیا تھا۔ اور انھیں طرح طرح کی تکلیفیں پہنچانا شروع کر دی ، یہاں تک کہ جب زید بن عمر و بن نفیل یہ مصائب برداشت نہ کر سکے تو ہجرت کر کے حرا میں جا کر رہنے لگے۔
ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے والد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ انہی زید بن عمر و بن نفیل کے چچا زاد بھائی تھے اس لیے ان کے کانوں میں توحید کی آواز پڑ چکی تھی۔ چوں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فطرت بڑی سلیم تھی اور وہ دور اندیش ، عقل مند اور پڑے لکھے شخص تھے اس لیے وہ راہِ حق پر آ گئے۔ نیک کاموں کی طرف ان کی رغبت بڑھ گئی اور وہ اللہ کی رضا و خوشنودی کے متلاشی رہنے لگے۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ خود نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہوتے اُن کے گھر میں اسلام داخل ہو چکا تھا۔ جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خاندان کے افراد میں سب سے پہلے زید بن عمر و بن نفیل کے بیٹے حضرت سعید بن زید نے اسلام قبول کیا اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا نکاح حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بہن فاطمہ بنت خطاب سے ہوا تو وہ بھی اسلام میں داخل ہو گئیں۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعلانِ نبوت فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ستائیس سال کے تھے۔ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ مرادِ رسول بن کر اسلام کے دامن میں آئے اور اپنے سارے خاندان کے ساتھ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار غلام بن گئے۔

تعلیم و تربیت

ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی پیدایش جس گھریلو ماحول میں ہوئی۔ اس نے ان کے اَخلاق و کردار اور طبیعت و مزاج کو بڑا نکھارا۔ اُن کے اندر بے خوفی اور بے لوثی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ والدِ گرامی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خصوصی طور پر ان کی تربیت فرمائی۔ انھیں اس زمانے کے اعتبار سے ضروری علوم و فنون سکھائے۔ چوں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود ایک ایسے تعلیم یافتہ مدبر اور دانش ور شخص تھے جن کو زمانۂ جاہلیت میں سفارت کا عہدہ حاصل تھا۔ وہ قریش کے سترہ پڑھے لکھے افراد میں سے ایک اہم شخص تھے۔ اس لحاظ سے بھی انھوں نے اپنی اولاد کی بڑی خوش اسلوبی سے تربیت فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے اندر صاف گوئی اور یک رنگی نمایاں تھی۔ جرأت و بے باکی آپ کے ایک ایک انداز سے ظاہر ہوتی تھی۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اعلانِ نبوت کے چھٹے سال میں اسلام قبول کیا۔ انھوں نے تنہا اسلام نہیں لایا بل کہ اسی دن اپنے پورے خاندان کو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں دے دیا تھا۔ اُس وقت ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی عمر دس سال تھی۔ چناں چہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی تربیت دائرۂ اسلام میں آنے کے بعد مزید تیزی سے اور احسن طریقے سے ہوئی۔ حتیٰ کہ آپ نے پڑھنا لکھنا بھی سیکھا۔

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح

بنو سہم میں سے ایک صحابی حضرت خنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ تھے۔ اسلام کی طرف سبقت کرنے والوں میں سے تھے۔ دوسرے مسلمانوں کی طرح انھیں بھی کفار و مشرکین نے طرح طرح کی تکلیفیں اور اذیتیں دیں ، لیکن حق کے اس جاں نثار نے ان مصائب و آلام کو ہنس کر برداشت کیا۔ لیکن جب دوسری مرتبہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبش کی طرف ہجرت کی اجازت عطا فرما دی تو یہ بھی اُن مہاجرین میں شامل ہو گئے۔ یہ مہاجرین وہاں آزادی سے اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے بڑے سکون سے دن گزارتے رہے اور پھر کچھ عرصہ بعد واپس مکۂ مکرمہ آ گئے۔
اُن دنوں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی عمر اتنی ہو چکی تھی کہ اب اُن کی شادی کر دینی چاہیے تھی۔ چناں چہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کے لیے حضرت خنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا۔ دونوں کی شادی کر دی گئی اور وہ ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگے۔

مدینۂ منورہ ہجرت

اعلانِ نبوت کے بعد مکۂ مکرمہ کے کفار و مشرکین نے مسلمانوں کو طرح طرح سے ستانا شروع کیا۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ جاں نثار غلام اُن دشمنانِ اسلام کے ہر ستم کو ہنس ہنس کر گوارا کرتے رہے اور اُف بھی نہ کی۔ اللہ عزوجل کے حکم پر جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے تیرہویں سال اپنے جاں نثاروں کو مکۂ مکرمہ سے مدینۂ منورہ ہجرت کر جانے کی اجازت عطا فرمائی تو تب صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنا وطن چھوڑا۔ اس دوران بھی مکہ کے کفار و مشرکین نے ہجرت کے راستے میں حائل ہونے کی کوشش کی۔ چناں چہ مسلمان عام راستے سے ہٹ کر مدینے کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن جب ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے والد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو بڑی شان و شوکت سے مکۂ مکرمہ کو خیرباد کیا۔ گلے میں تلوار لٹکا لی، اپنے پہلو میں نیزہ باندھا ، پیٹھ پر ترکش لگایا، ہاتھ میں کمان لی اور گھوڑے پر سوار ہو کر سیدھے خانۂ کعبہ کی طرف گئے۔ اس وقت کفار و مشرکین کا جتھا وہاں الگ الگ گروہوں کی شکل میں موجود تھا۔
ہجرت کے سفر پر روانہ ہوتے وقت ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے والد حضرت عمر فاروق بن خطاب رضی اللہ عنہ سب سے پہلے بیت اللہ میں داخل ہوئے اور خانۂ کعبہ کا سات بار طواف کیا۔ پھر مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ اس کے بعد کفار و مشرکین کی طرف لپکے اور ببانگ دہل یہ خطاب فرمایا:
’’ تمہارے چہرے مسخ ہو جائیں ، تمہاری ناک خاک آلود ہو ، جو شخص چاہتا ہے کہ اپنی ماں کو اپنے پیچھے روتا ہوا چھوڑے۔ اپنی بیوی کو بیوہ بنائے اور اپنے بچوں کو یتیم ہونے دے وہ حرم کے باہر آ کر مجھ سے جنگ کر لے۔ مَیں ہجرت کر کے مدینہ جا رہا ہوں۔ اگر کسی میں دم خم ہو تو مجھے روک کر دکھائے۔ ‘‘
اتنا خطبہ ارشاد فرما نے کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے آس پاس نظر ڈالی۔ جہاں مختلف گروہوں میں کفار و مشرکین بیٹھے ہوئے تھے۔ مگر ان میں کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ اپنی زبان سے کوئی جملہ نکالے یا آگے بڑھ کر انھیں روکنے کی جرأت کر سکے۔ ایسا لگتا تھا جیسے انھیں سانپ سونگھ گیا ہے۔
پھر آپ رضی اللہ عنہ حرم شریف سے باہر تشریف لائے۔ اسی دوران مکہ میں ٹھہرے ہوئے مسلمانوں کو اس بات کا علم ہو چکا تھا کہ آج حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے ہیں۔ لہٰذا ایسے کمزور مسلمان جو کفار و مشرکین کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔ وہ سب بھی ام ا لمؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے والد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہجرت کی غرض سے آ کر مل گئے۔ ان مہاجرین کی تعداد بیس ہو گئی۔ ان لوگوں میں ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ ، ان کے شوہر حضرت خنیس بن خذافہ ، ان کے چچا حضرت زید بن خطاب اور پھوپھا حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہم جیسی بلند مرتبہ شخصیات بھی تھیں۔
یہ مختصر ساقافلہ مدینۂ منورہ کی طرف رخصت ہوا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے رعب و جلال اور ہیبت و دبدبہ کا وہ عالم تھا کہ کفار و مشرکین خاموشی سے انھیں جاتے دیکھتے رہے کسی میں کوئی ہمت و جرأت نہ ہوئی کہ انھیں روک سکے۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہ نورانی قافلہ سفر کی مشکلات اور پریشانیوں کو سہتا ہوا بعض جگہوں پر قیام کرتے ہوئے چلتا رہا۔ چند دنوں کے بعد یہ لوگ مدینۂ منورہ کے قریب قبا میں پہنچے اور وہیں رہنے لگے۔

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے شوہر حضرت خنیس رضی اللہ عنہ کی شہادت

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اعلانِ نبوت کے تیرہویں سال ۲۷؍ صفر کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رات کے اندھیرے میں اپنے پیارے دوست حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکۂ معظمہ سے مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کے لیے روانہ ہوئے۔ غارِ ثور میں تین دن قیام فرما نے کے بعد ۱؍ ربیع الاول بروز اتوار رات میں مدینہ جانے کے لیے نکلے۔ اور ۹؍ ربیع الاول پیر کے روز قبا تشریف لائے۔ جہاں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن قیام فرمایا اور پھر مدینہ کی جانب روانہ ہوئے۔جمعہ کے روز نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینۂ منورہ میں داخل ہوئے یہ دن مدینہ کے لوگوں کے لیے کسی عید سے کم نہ تھا۔ وہاں کے لوگ خوشی و مسرت کے ترا نے گنگنا رہے تھے ، وجد کر رہے تھے، بنو نجار کی لڑکیاں دف بجا بجا کر استقبالیہ گیت گارہی تھیں۔ ہجرت کے بعد اسلام کا یہ نیا انقلابی دور شروع ہوا۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت سے ہجرت تک قریش کے لوگوں نے پوری شد ومد کے ساتھ اسلام کی مخالفت کی توحید و رسالت کے متوالوں اور شیدائیوں کو مارا پیٹا ستایا اور طرح طرح کی اذیتیں دیں۔ مدینۂ منورہ کے یہودیوں نے جب اسلام کی مقبولیت دیکھی تو وہ بھی چراغ پا ہو گئے اور اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچا نے کی ترکیبیں سوچنے لگے۔
امنِ عالم کے داعی رحمتِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی جنگ و جدال اور خوں ریزی سے اجتناب برتا۔ ہاں ! جب کبھی موقع پیش آیا اور مخالفین کو سبق سکھا نا ضروری معلوم ہوا تو اس وقت آپ نے جنگ کی۔
مکۂ مکرمہ کے کفار و مشرکین نے ایک لشکر تیار کر کے مدینے کی طرف چڑھائی کی۔یہاں بھی مسلمانوں نے اپنا ایک مختصر فوجی دستہ تیار کر لیا تھا۔ چناں چہ اسلامی تاریخ کی پہلی جنگ میدانِ بدر میں ہوئی جسے جنگِ بدر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ رمضان المبارک کی سترہ تاریخ اور سنہ ہجری دو تھا جب معرکۂ بدر پیش ہوا۔ ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے شوہر حضرت خنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ بھی اس مقدس معرکے میں شریک ہوئے۔ بڑی جرأت و بہادری کو مظاہرہ کیا۔ دشمنوں کے چھکے چھڑا دیے ، خو ب جم کر لڑے۔ دشمنوں کو مارا بھی اور خود بھی زخم کھائے آخر کار زخموں سے چور چور ہو گئے۔ اسی حالت میں انھیں مدینۂ منورہ واپس لایا گیا جہاں انھوں نے غزوۂ بدر کے زخموں کی وجہ سے شہادت کا جام نوش کیا۔ اس وقت حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی عمر اکیس سال تھی۔
غزوۂ بدر ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے قبیلے بنی عدی کے لیے بڑے اعزاز و اکرام اور خصوصیت کا سبب بنا۔ جیسے:
٭ جنگ سے پہلے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سفیر بنا کر مشرکوں کے پاس بات چیت کے لیے بھیجا گیا تاکہ جنگ سے پہلے حجت قائم ہو جائے۔ انھوں نے جا کر کہا :’’ تمہارے ساتھ ہماری خونی رشتے داریاں اور تعلقات ہیں۔ تمہارا ہمارے ساتھ لڑنا غیر مناسب ہے۔ بہتر ہے کہ تم واپس چلے جاؤ۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بات سُن کر ابوجہل نے کہا :’’ یہ بات ہمیں قطعی منظور نہیں۔ ہم تم سے ضرور بدلہ لیں گے۔‘‘ اس کے بعد جنگ کا آغاز ہوا۔
٭ دشمنوں کی فوج میں مکہ کے ہر قبیلے کے نمائندے شامل تھے لیکن ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے قبیلے کا کوئی بھی فرد اُس میں نہیں تھا جس نے مسلمانوں کے خلاف جنگ کی ہو۔
٭ مسلمانوں کی طرف مہاجرین میں ہر قبیلے کے افراد موجود تھے۔ اُن میں بنی عدی کے لیے یہ امتیاز تھا کہ اس قبیلے کے چودہ افراد تھے جنھوں نے ہمت و بہادری اور جرأت و جواں مردی کا جو مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ تھا۔
٭ جنگِ بدر میں جس مسلمان مجاہد کا سب سے خون بہا وہ حضرت مہجع رضی اللہ عنہ تھے۔ جن کا تعلق بھی ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے قبیلے بنی عدی سے تھا۔
٭ اسی معرکۂ بدر میں ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے شوہر حضرت خنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے جامِ شہادت پیا اور بارگاہِ خداوندی میں مقبولیت حاصل کی۔

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حفصہ سے نکاح

غزوۂ بدر میں حضرت حفصہ بنت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے پہلے شوہر حضرت خنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ اس وقت حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی عمر شریف اکیس سال تھی۔ جب عدت کی مدت ختم ہو گئی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہا کو اپنی جوان بیٹی کے نکاح کی فکر ہونے لگی۔ وہ چاہتے تھے کہ جلد سے جلد حضرت حفصہ(رضی اللہ عنہا) کا گھر دوبارہ آباد ہو جائے۔ چناں چہ اپنی جوان اور بیوہ بیٹی کے لیے نیک اور صالح اور خوش سلیقہ شوہر کی تلاش شروع کر دی۔ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما چکی تھیں۔ لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خیال حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف گیا۔ اس خیال سے انھیں یک گونہ مسرت اور تسکین حاصل ہوئی اور وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملنے ان کے گھر تشریف لے گئے۔ یہاں پہنچ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ :’’ مَیں آپ کے پاس ایک مقصد کے لیے آیا ہوں۔ ‘‘
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کہا :’’ کہو!‘‘
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس پر کہنا شروع کیا:’’ تم جانتے ہو کہ میری بیٹی حفصہ بیوہ ہو چکی ہے۔ مَیں چاہتا ہوں کہ تم اس سے نکاح کر لو۔‘‘
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ :’’ مَیں کچھ دن سوچ کر جواب دوں گا۔‘‘
کچھ دنوں کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ انھیں اپنے ساتھی پورا بھروسہ تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس رشتے کو قبول کر لیں گے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب اُن سے پوچھا کہ :’’ کیا سوچا ہے تم نے حفصہ (رضی اللہ عنہا) کے بارے میں ؟‘‘ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ :’’ میرا فی الحال شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘‘
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا یہ جواب سُن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ملال ہوا۔ انھیں یہی فکر تھی کہ جلد سے جلد حضرت حفصہ (رضی اللہ عنہا) کا گھر دوبارہ بس جائے۔ ان ہی سوچوں میں محو تھے کہ انھیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خیال آیا اور وہ اُن کے مکان پر پہنچ گئے۔ یہاں بھی پہنچ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے آنے کا مقصد بتایا اور کہا کہ :’’ تم تو جانتے ہو کہ حفصہ بیوہ ہو چکی ہے اس لیے اس سے شادی کر لو‘‘۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اُن کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش رہے۔ اسی طرح خاموشی میں کچھ لمحے گذر گئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ اپنی بیوہ اور جوان بیٹی کی فکر لیے ہوئے آخر کار ایک دن اُس بارگاہِ عظمت نشان میں پہنچے جہاں ہر دکھی دل کی نہ صرف سنی جاتی ہے بل کہ اُس کی بگڑی بھی بنائی جاتی ہے۔ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عریضہ پیش کیا :’’ یارسول اللہﷺ ! مَیں نے حفصہ(رضی اللہ عنہا) سے شادی کے لیے عثمان(رضی اللہ عنہا) سے کہا تو انھوں نے صاف انکار کر دیا۔ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے اس سلسلے میں بات چیت کی تو وہ خاموش ہی رہے۔‘‘
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس طرح جوان بیوہ بیٹی کے لیے فکر مند دیکھ کر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ فکر نہ کرو! حفصہ(رضی اللہ عنہا) کی شادی اس شخص کے ساتھ ہو گی جو (حضرت) ابوبکر اور (حضرت) عثمان غنی(رضی اللہ عنہم) سے افضل ہے اور عثمان (رضی اللہ عنہ) کی شادی اس خاتون سے ہو گی جو حفصہ(رضی اللہ عنہا) سے بہتر ہے۔‘‘
آقائے کائنات مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سُن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بے قرار دل کو سکون حاصل ہو گیا۔ پھر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس جاں نثار صحابی سے فرمایا :’’ اے عمر ! تم اپنی بیٹی کی شادی میرے ساتھ کر دو۔‘‘
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خوشیوں اور مسرتوں کا ستارا اوجِ ثریا پر پہنچ گیا۔اس کے چند روز بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی شادی نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار سو درہم مہر کے بدلے کر دیا۔ اس طرح حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ بن کر ام المؤمنین کے لقب سے سرفراز ہوئیں۔ یہ نکاح شعبان المعظم کے مہینے ۳ھ میں ہوا۔ اس وقت حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی عمر تقریباً ۲۲؍ سال تھی۔
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی نبیِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دوست حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور کہا : ’’ اے عمر! جب تم نے اپنی بیٹی حفصہ (رضی اللہ عنہا) کا رشتہ پیش کیا تو عثمان (رضی اللہ عنہ) کے انکار اور میری خاموشی پر یقیناً تمہیں دکھ پہنچا ہو گا۔‘‘
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا :’’ ہاں !‘‘ اور پھر بولے:’’ مجھے عثمان (رضی اللہ عنہ) کے انکار پر اتنا رنج نہیں پہنچا جتنا تمہاری خاموشی پر۔‘‘
اس بات پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ :’’ اے عمر ! اگر تم کو حقیقت کا پتا چلے گا تو تمہاری خوشیوں کی کوئی انتہا نہ رہے گی۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے سامنے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حفصہ (رضی اللہ عنہا) کا ذکر کیا تھا اگر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے نکاح کرنے کا ارادہ نہ فرماتے تو مَیں اس کے لیے تیار تھا۔‘‘ یہ بات سُن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرطِ مسرت سے جھوم اٹھے۔

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کاشانۂ نبوت میں

جب حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ ام المؤمنین کے شرف سے سرفراز ہو کر کاشانۂ نبوت میں داخل ہوئیں تو اس وقت دو ازواجِ مطہرات پہلے سے موجود تھیں۔ ایک حضرت سیدہ سودہ بنت زمعہ اور دوسری سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہن۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک جاں نثار صحابی حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کے کئی مکانات بالکل مسجد نبوی سے لگ کر تھے۔ جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی خاتون سے نکاح فرماتے تو یہ جاں نثار صحابی اپنا مکان خالی کر دیتے اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نذر کر دیتے۔ اس طرح انھوں نے ایک کے بعد ایک اپنے تمام مکانات سیدِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نچھ اور کر دیے۔ ان مکانات میں چار مکان کچی اینٹوں کے بنے ہوئے تھے اور پانچ مکان گارے اور کھجور کی شاخوں کے تھے۔ شادی کے بعد حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو جس مکان میں رکھا گیا وہ مشرقی جانب تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے درمیان جو باہمی محبت و الفت تھی ، اُس کی وجہ سے حضرت عائشہ صدیقہ بنت ابوبکر اور حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہم کے آپس میں بڑے محبت آمیز رویے تھے اور وہ دونوں ایک دوسرے سے بے حد قریب تھیں۔
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سات سال کے لگ بھگ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں رہیں۔ آپ چوں کہ غیظ المنافقین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں اس وجہ سے بھی آپ کے مزاج میں جسارت بھی تھی اور نکتہ سنجی و نکتہ آفرینی بھی۔ساتھ ہی کسی سے سوال کرنے اور بات کا جواب دینے سے ہچکچاتی بھی نہیں تھیں۔آپ بڑے ذوق و شوق سے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنتی تھیں۔ انھیں سمجھتیں اور اپنے دل و دماغ میں محفوظ کر لیتی تھیں۔ کبھی کسی مسئلہ میں کوئی مشکل پیش آتی تو اس کو دور کرنے میں دلیری نہیں دکھاتی تھیں۔ بل کہ اس کو پہلے تو صحیح طور پر سمجھنے کی کوشش کرتیں اگر نہ سمجھ پاتیں تو بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں اس مشکل کا اظہار کر دیتیں تاکہ وضاحت ہو جائے اور کسی بھی طرح کا کوئی شک باقی نہ رہے۔
حضرت ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ :’’مَیں حفصہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس بیٹھی تھی، اسی دوران نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ ان شآء اللہ جو اہل ایمان غزوۂ بدر میں شریک تھے اور جنھوں نے مجھ سے (حدیبیہ کے موقع پر) درخت کے نیچے بیعت کی وہ جہنم میں نہیں جائیں گے۔‘‘
یہ سن کر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو تعجب ہوا اُن کے ذہن میں طرح طرح کے سوالات ابھرنے لگے۔ اپنی عادتِ کریمہ کے مطابق پہلے تو کافی غور و خوض کیا ، لیکن جب اس فرمان کی تشریح نہ کر سکیں تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھ کر سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا (یعنی : اور تم میں ایسا کوئی نہیں جس کا گذر دوزخ پر نہ ہو ، سورۂ مریم آیت۷۱) جب اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے تو آپ نے یہ کیسے فرما دیا کہ درخت کے نیچے حدیبیہ کے موقع پر بیعت کرنے والے دوزخ میں نہ جائیں گے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے آگے یہ بھی تو فرمایا ہے ثُمَّ نُنَجِّیْ الَّذِیْنَ اتَّقُوْا وَ نَذَرُالظَّا لِمِیْنَ فِیْھَاجِثِیًّا(یعنی: پھر ہم ڈر والوں کو بچا لیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے،سورۂ مریم آیت۷۲) اس آیت میں پل صراط کا ذکر ہے جو دوزخ کی پشت پر قائم ہے۔ سب کو اس پر سے گزرنا ہو گا۔ پرہیز گار اور نیک بندے اپنے اعمال کے لحاظ سے جلدی یا آرام سے پل صراط سے گذر کر جنت میں پہنچ جائیں گے اور کافر کٹ کٹ کر اس میں ہمیشہ کے لیے گر جائیں گے اور پار نہ ہوسکیں گے۔ اسی طرح وہ مسلمان جو اپنے گناہوں کی وجہ سے اس میں گریں گے اُن کو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر جنت میں بھیجے گا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا اس طرح سوال کرنا بھی حکمت سے خالی نہیں ہے۔

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی خصوصی تربیت اور قرآن لکھنا

حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کی جو تربیت فرمائی اس کی ایک ہلکی سی جھلک پیچھے گذر چکی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے خاندان کو عرب کے قبیلوں میں یہ امتیازی حیثیت حاصل تھی کہ یہ خاندان بڑا دور اندیش ، معاملہ فہم، نکتہ آفریں ، زورِ خطابت اور فصاحت و بلاغت میں مشہور تھا۔ یہ خصوصیات ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ورثے میں پائیں۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے واقف تھے اس لیے انھوں نے ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے کاشانۂ نبوت میں آنے کے بعد اُن کی مزید تعلیم و تربیت کا خصوصی انتظام فرمایا۔ مسند احمد بن حنبل کی روایت کے مطابق نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابیہ حضرت شفا بن عبداللہ عدویہ رضی اللہ عنہا کو جو لکھنا پڑھنا جانتی تھیں اس بات پر مامور فرمایا کہ وہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو لکھنا پڑھنا سکھائیں۔ چناں حضرت شفا رضی اللہ عنہا نے انھیں لکھنا پڑھنا سکھایا اور زہریلے کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے کا دم بھی بتایا۔ بہت جلد حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے میں مہارت حاصل کر لی۔
ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا دین میں بڑی مخلص ، ایمان و یقین میں پختہ ، زہد و ریاضت میں ہمہ وقت مصروف ، محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوبی ہوئیں ، وفا شعار ، اطاعت گزار ، شب بیدار ، کثرت سے روزے رکھنے والی اور دین کے احکام کو پورے اہتمام کے ساتھ مکمل کرنے والی خاتون تھیں۔
چوں کہ آپ نے پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تھا ایک مرتبہ حضرت یوسف علیہ السلام کے قصوں پر مشتمل کوئی کتاب کہیں سے مل گئی تو وہ اس کتاب کو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھنے لگیں۔ اس پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’
’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرے موجود ہوتے ہوئے بھی تم میں حضرت یوسف علیہ السلام آ جائیں تو تم مجھے چھوڑ کر ان کے پیچھے لگ جاؤ گے اور گمراہی کا راستہ اختیار کر لو گے۔ حال آں کہ مَیں تمام نبیوں میں سے تمہارا نبی ہوں اور تمام امتوں میں سے تم میری اُمت ہو۔‘‘
جب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند فرمایا ہے کہ وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے پڑھیں تو کتاب فوراً چھوڑ دی اور عرض کیا :’’یارسول اللہ! مَیں آپ کو ناراض نہیں دیکھ سکتی۔‘‘
بعض محدثین اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ دراصل بات یہ تھی کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعات پر مشتمل جو کتابیں بھی اس زمانے میں ملتی تھیں وہ سب یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف سے گھڑی ہوئی تھیں۔ اللہ جل شانہٗ نے سورۂ یوسف نازل فرما کر اُمت کی صحیح رہنمائی فرما دی۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم انبیائے سابقہ علیہم السلام سے متعلق جو بھی باتیں اور واقعات پڑھنا چاہیں تو وہ قرآن کریم کی مستند تفسیروں سے ہی پڑھیں تاکہ غلط سلط روایات سے ہم دور رہیں۔

ازواجِ مطہرات کے ذریعے معاشرتی اصلاح

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو بھی نکاح ہوئے وہ سب حکمت و موعظت سے خالی نہیں تھے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن عورتوں کے ساتھ شادی فرمائی اُن کے ذریعے سے عرب معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کو دور کرنے کا درس بھی دیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے امت کی عورتوں کے مسائل ہمیں معلوم ہوئے۔اسی طرح دوسری ازواجِ مطہرات کے ذریعے بھی اصلاحِ نسواں کے باتیں ہم تک پہنچیں۔
دورِ جاہلیت میں عرب کے معاشرے نے مردوں اور عورتوں کے درمیان جن امتیازی رویوں کو جنم دیا تھا ان کو دور کرنے کے لیے کافی وقت درکار تھا۔ اور اس کے لیے نبیِ کریم ہادیِ برحق رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی رہنمائی اور تربیت کی ضرورت تھی۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ معاشرے کی اصلاح جتنی ایک عورت کے ذریعہ ہوسکتی ہے وہ مرد سے نہیں ہوسکتی کیوں کہ مرد اکیلے اپنی زندگی میں انقلاب پیدا کر سکتا ہے جب کہ عورت اپنے پورے خاندان کی اصلاح کر سکتی ہے۔ اس لیے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرے کی عورتوں کی اصلاح کے لیے خصوصی طور پر امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی تعلیم و تربیت کی۔ عورتوں کے مسائل کے سلسلے میں امہات المؤمنین نے بھی اپنی ذمہ داری نبھائی اور جو نہ سمجھ سکیں وہ اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کرتیں۔ اسلام نے عورتوں کو بلند درجہ دیا۔ قرآن پاک میں ان کے لیے کئی آیتیں نازل ہوئیں۔ یہ اسلام ہی کی برکتیں ہیں کہ بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کی فرسودہ اور ظالمانہ روایت ختم ہوئی۔ جب قرآن پاک نازل ہوا تو لوگوں کو عورتوں کی قدر و منزلت کا پتا چلا۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حقوق و تحفظ کی خاطر بے شمار اصلاحات فرمائیں۔ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مکان میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے حُسنِ سلوک کا ایک منفرد اور مثالی معیار قائم فرمایا۔ انھیں اپنی رائے کے اظہار کا پورا پورا حق دیا۔ یہی وجہ ہے کہ کتابوں میں بعض ایسی روایتیں ملتی ہیں جن میں وہ اپنی ضروریات اور اپنے مطالبات پوری بے باکی اور بے تکلفی سے رسولِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیا کرتی تھیں اور معاشرتی اور دیگر معاملات میں اپنی رائے کا اظہار بلا تکلف کر دیا کرتی تھیں۔
ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے مزاج میں قدرے جسارت تھی۔ لہٰذا بعض مرتبہ گھریلو ماحول میں ہلکی سی تلخی پیدا ہو جاتی تھی لیکن اس مبارک و مسعود اور مثالی گھر میں جلد ہی یہ صورت حال محبت و الفت اور نرمی و ملائمت کی مٹھاس میں بدل جایا کرتی تھی۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :’’ اللہ کی قسم! ہم جاہلیت کے زمانے میں عورتوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے ، انھیں دبا کر رکھتے تھے۔ جب ہم مدینہ آئے تو ہمیں یہاں ایسے لوگ بھی ملے جن پر ان کی بیویاں غالب تھیں اور یہی سبق ہماری عورتیں ان سے سیکھنے لگیں۔ ایک دفعہ کسی کام کے بارے میں مَیں کسی سے مشورہ کر رہا تھا۔ میری بیوی کہنے لگی :’’ ایسا اور ایسا کر لو۔‘‘
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اِس پر مَیں نے کہا:’’ تمہیں اس بات سے کیا تعلق؟‘‘ … بیوی نے جواب دیا:’’ تعجب ہے کہ آپ اپنے کام میں کسی کی مداخلت گوارا نہیں کرتے۔ حال آں کہ آپ کی بیٹی نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تکرار کرتی ہے جو آپﷺ کے لیے دکھ کا سبب بنتی ہے۔‘‘
فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہ اپنی بیوی کی یہ بات سُن کر مَیں نے چادر سنبھالی اور سیدہ حفصہ (رضی اللہ عنہا) کے مکان پر گیا۔ وہ مجھے دیکھ کر خوش ہوئی۔ مَیں نے پوچھا :’’ بیٹی ! کیا تم نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تکرار کرتی اور انھیں جواب دیتی ہو جو ان کے رنج کا سبب بنتا ہے؟‘‘
بیٹی نے جواب دیا :’’ ہاں !‘‘
’ ’ کیا تم اللہ اور اس کے رسولﷺ کے غضب سے نہیں ڈرتی ہو جو ایسا کرتی ہو؟‘‘ اور پھر مَیں نے اس سے کہا:’’ اللہ کے رسولﷺ سے کبھی کوئی ایسی بات نہ کرنا جو اُن کی طبیعت پر گراں گذرے اور نہ ان سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا۔‘‘
ایک دن مسلمان مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز کے لیے جمع تھے لیکن کافی انتظار کرنے کے باوجود بھی جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لائے تو مسلمان بے چین ہو اٹھے۔ چناں چہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اجازت لے کر کاشانۂ نبوت میں حاضر ہوئے، آپ رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی اجازت طلب کی اور وہ بھی بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے۔ دیکھا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن جمع ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تشریف فرما ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ مجھے ایسی کوئی بات کرنی چاہیے جس سے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا نے لگیں۔
چناںچہ انھوں نے عرض کیا :’’ یارسول اللہ! اگر مَیں اپنی بیوی کو دیکھوں کہ وہ مجھ سے نفقہ مانگتی ہے تو مَیں اس کی گردن پر دھول ماردوں۔ ‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات سُن کر نبیِ مکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ سب یہی چیز مانگ رہی ہیں۔ ‘‘
اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ڈانٹا اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی بیٹی کو ڈانٹ پلائی۔

ازواجِ مطہرات کی باہمی محبت

نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جملہ ازواجِ مطہرات میں جو باہمی محبت و الفت تھی وہ تاریخ کا ایک روشن حصہ ہے۔ دراصل نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھرانہ دنیا بھر کے لیے ایک آئیڈیل اور رہنما تھا۔ اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نکاح فرمائے وہ امت کی اصلاح اور سبق ہی کے لیے تھا۔ آپ نے ازواجِ مطہرات سے جیسا برتاؤ رکھا اس کے ہوتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویاں آپس میں بڑی شیر و شکر تھیں ، اُن کے درمیان جو خلوص و محبت تھا وہ ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کی تکلیف اور دکھ درد پر بے چین ہو جایا کرتی تھیں۔ آپس میں بیٹھ کر باتیں کرتی تھیں۔ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عقیدت میں تمام ازواجِ مطہرات سرشار تھیں۔ انسانی فطرت کے مطابق کبھی کبھار ایسا ہوتا کہ آپس میں معمولی شکر رنجی ہو جاتی لیکن جلد ہی وہ آپس میں گھل مل جاتیں۔ دل سے بھی اُن باتوں کو بھلا دیتیں۔
ایک دن نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا رو رہی ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت سے پوچھا : ’’ کیا ہوا؟‘‘
’’ حفصہ(رضی اللہ عنہا) نے مجھے یہودی کی بیٹی کہا ہے۔‘‘ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کی تو آپﷺ نے حضرت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا کہ :’’ اے حفصہ ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔‘‘
ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما نے حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے کہا کہ :’’ ہم نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تم سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہیں کیوں کہ ہم آپﷺ کی بیوی تو ہیں ساتھ ہی چچازاد بہن بھی ہیں۔ ‘‘
اس بات سے بھی حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا رنجیدہ ہو گئیں ، انھوں نے نبیِ مکر م صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی جس پر آقائے کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’ اے صفیہ ! تم نے یوں کیوں نہیں کہہ دیا کہ تم مجھ سے زیادہ پسندیدہ کیوں کر ہوسکتی ہو میرے شوہر (حضرت) محمد (ﷺ) ، میرے باپ حضرت ہارون علیہ السلام اور میرے چچا حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔‘ ‘

ایک واقعہ

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقدس گھر ایسا تھا جس کی کوئی مثال اب تک نہیں پیش کی جا سکتی۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں عام عورتوں کی طرح نہ تھیں ، بل کہ وہ تمام مومنوں کی مائیں ہیں۔ ان مقدس خواتین نے امتِ مسلمہ کی عورتوں سے متعلق ایسے ایسے مسائل حل کیے جو ان کے علاوہ اور کوئی حل کر ہی نہیں سکتا۔ اسی پر بس نہیں بل کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے رخصت فرما نے کے بعد اِن مقدس ماؤں نے امت کی روحانی بیٹیوں اور بیٹوں کی جس طرح سے تعلیم و تربیت فرمائی کوئی دوسرا کر ہی نہیں سکتا تھا۔
ایک مرتبہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھیں ، ساربان اونٹوں کو تیز تیز ہانک رہے تھے ، اس پر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ دیکھو! یہ نازک شیشیاں ہیں۔ ‘‘ اس ایک جملے سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کا کیا مقام و مرتبہ تھا۔
تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن بھی نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت و الفت اور عقیدت رکھتی تھیں۔ان کی خواہش یہی رہا کرتی تھی کہ ان کو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ سے زیادہ قبت نصیب ہو اور وہ اس کے لیے محبت کے ہاتھوں مجبور بھی تھیں۔ لہٰذا کبھی کبھار کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا جو بہ ظاہر اُن کی شان کے لائق نہ ہوتا تھا۔
واقعہ یوں ہوا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھا بہت پسند تھا۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس کہیں سے شہد آیا۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہا ں شہد کا شربت پیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے اُن کے حجرے میں معمول سے کچھ زیادہ وقت لگ جایا کرتا تھا۔ لیکن اس دیر کی وجہ دوسری ازواجِ مطہرات کو نہ تھی۔ امہات المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ، حضرت سودہ ، حضرت صفیہ بنت حیی اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہن نے آپس میں مشورہ کیا کہ جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائیں تو وہ کہا کریں کہ :’’ یارسول اللہ! آپ کے منہ سے مغافیر کی بُو آتی ہے۔‘‘ (مغافیر : ایک قسم کا گوند ہوتا ہے بعض نے کہا ہے کہ درخت کا پھل ہوتا ہے)
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے حجروں میں تشریف لے گئے اور سب سے ملاقات فرما نے کے بعد جب آپﷺ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں آئے تو دیگر ازواجِ مطہرات کی طرح انھوں نے بھی وہی بات دہرائی جو مشورے میں طَے ہوئی تھی۔
اس پر نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ اے حفصہ! مَیں نے زینب بنت جحش(رضی اللہ عنہا) کے یہاں شہد پیا ہے۔مَیں نے مغافیر نہیں کھایا۔‘‘
چوں کہ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہایت نفاست پسند بل کہ نفاستوں کی بھی آبرو تھے۔ آپ کے جسمِ مبارک سے کسی بھی قسم کی بُو وغیرہ نہیں آتی تھی۔ جب ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی باتیں سنیں تو فرمایا کہ:’’ اے حفصہ! اب مَیں آیندہ شہد کا شربت نہیں پیوں گا ، لیکن تم اس کا ذکر کسی سے نہ کرنا۔ ‘‘
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے اس لیے منع فرمایا تھا تاکہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو دکھ نہ پہنچے، کیوں کہ نبیِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات سے کبھی کسی کو دکھ اور تکلیف نہیں پہنچتی تھی۔
یہ باہمی مشورہ جو امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن نے کیا تھا وہ اُن کی شان کے لائق نہ تھا جس کی وجہ سے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو ایک حلال چیز کھا نے سے روک لیا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۂ تحریم کی آیت نازل فرما دی کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک زوجہ کو راز کی بات بتا دی اور وہ اس نے دوسری کو بتا دی۔ اس پر آیت اس لیے نازل ہوئی کہ اول تو وہ اس عظیم المرتبت رسول کی بیوی تھیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے انتہائی ذمہ داری کا کام سونپا تھا ، دوم اگر کوئی بات راز نہ رہے تو تبلیغ و اشاعتِ دین جیسے بڑے مقصد کو نقصان پہنچ سکتا تھا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرما کر راستہ روشن فرما دیا کہ آیندہ کوئی ایسی بات نہ ہو۔

واقعۂ طلاق اور رجوع – جنت میں اہلیہ ہونے کا اعزاز

حضرت قیس بن زید رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تھی۔ جب اُن کے دونوں ماموں (قدامہ و عثمان) اُن کے پاس آئے تو انھوں نے روتے ہوئے کہا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی دشمنی اور عیب کی وجہ سے طلاق نہیں دی ہے ، یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے پردہ کر لیا۔ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :’’ مجھے جبریل امین (علیہ السلام) نے نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ حفصہ کو اپنے نکاح ہی میں رکھیے اور جبریلِ امین کہتے ہیں کہ یہ انتہائی عبادت گزار اور کثرت سے روزے رکھنے والی ہے اور جنت میں بھی آپ کی اہلیہ ہوں گی۔
علامہ ابن عبدالبر نے حضرت عمار بن یاسر سے روایت کردہ حدیث نقل کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو حضرت جبریل امین علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اسے طلاق مت دو اس لیے کہ یہ انتہائی زہد و تقویٰ والی اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر سختی سے عمل کرنے والی ، عبادت گزار ، کثرت سے روزے رکھنے والی اور جنت میں بھی آپ کی اہلیہ ہوں گی۔
بعض شارحینِ حدیث کہتے ہیں کہ ممکن ہے نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق نہ دی ہو بل کہ صرف ارادہ ہی فرمایا ہو اور معاملہ جو بھی رہا ہو گا اُس کو دیکھ کر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اور دیگر حضرات نے یہ سمجھ لیا ہو کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی۔ جیسا کہ اوپر درج کی گئی روایت میں بیان ہو ا ہے۔ جبریل امین علیہ السلام نے نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا حکم سنا دیا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کہا کہ یہ جنت میں بھی آپﷺ کی بیوی ہوں گی تو لوگوں نے سمجھا ہو گا کہ اب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع فرما لی۔ واللہ اعلم بالصواب۔

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اور روایتِ حدیث

ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں۔ آپ بہت ذہین اور اعلیٰ قوتِ حافظہ کی حامل تھیں۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے والد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جو سنتیں اسے یاد کر لیا کرتی تھیں۔ حدیث کی کتابوں میں آپ سے ساٹھ حدیثیں منقول ہیں۔ جن میں چار متفق علیہ ہیں۔ چھ صرف صحیح مسلم شریف میں ہیں اور باقی پچاس حدیثیں حدیث کی دوسری کتابوں میں ہیں۔علمِ حدیث میں بہت سے صحابہ و تابعین ان کے شاگردوں کی فہرست میں نظر آتے ہیں جن میں خود ان کے بھائی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بہت مشہور ہیں۔
آپ سے روایت کردہ چند حدیثیں ذیل میں نقل کی جاتی ہیں۔ام المؤمنین حضرت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
(۱) مؤذن اذان دے کر بیٹھ جاتا تھا اور صبح شروع ہو جاتی تھی تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ با جماعت سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
(۲) نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جاندار ایسے ہیں جن کے ہلاک کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں (۱) کوا (۲) چیل (۳) چوہا(۴) بچھو(۵) کاٹنے والا کتّا۔
(۳)حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ مَیں نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کی : ’’ یارسول اللہ! کیا بات ہے کہ لوگوں نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے احرام نہیں کھولا؟‘‘
تو آپﷺ نے فرمایا: ’’ مَیں نے اپنے سر کے بالوں کو خطمی وغیرہ سے جمالیا ہے اور اپنے قربانی کے جانور کے گلے میں قلاوہ ڈال رکھا ہے اس لیے مَیں جب تک قربانی نہ کر لوں احرام نہیں کھول سکتا۔‘‘
(۴) نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ سے کھاتے پیتے تھے ، اور لباس بھی پہلے دائیں سمت سے پہنتے تھے۔

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی وفات

ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے شعبان المعظم کے مہینے ۴۵ھ میں مدینۂ منورہ کے اندر وفات پائی۔جب کہ آپ کی عمر شریف ۶۰یا ۶۳ برس کی تھی۔ اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کا زمانہ تھا اور مروان بن حکم مدینے کا حاکم تھا اسی نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور کچھ دور تک ان کے جنازے کو بھی اٹھایا ، پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قبر تک جنازہ کو کاندھا دیے چلتے رہے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے دونوں بھائی حضرت عبداللہ بن عمر و حضرت عاصم بن عمر رضی اللہ عنہم اور ان کے تین بھتیجے حضرت سالم بن عبداللہ و حضرت عبداللہ بن عبداللہ اور حضرت حمزہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہم نے ان کو قبر میں اتارا اور انھیں جنت البقیع میں دیگر ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ (زرقانی جلد ۳ص ۲۳۸)
ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن گھریلو کام کاج کے علاوہ عبادت و ریاضت اور روزے کثرت سے رکھا کرتی تھیں۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے پڑھنا لکھنا سیکھا اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کیا کرتیں اور آپﷺ جو جوابات دیتے ان کو یاد کر لیتیں۔ اس طرح آپ نے امت کی روحانی ماں کی حیثیت سے ہمارے لیے بہت ساری حدیثوں کو یاد کیا۔ یہی نہیں بل کہ انھوں نے صحابہ و تابعین کو علمِ حدیث سکھایا۔ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہم کی زندگی کو اپنے لیے نمونۂ عمل بنانا ہمارے لیے بے حد ضروری اور دونوں جہاں میں کامیابی کا وسیلہ ہے۔
٭٭٭

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Islamic Mazmoon On Yoga