- Advertisement -

Yeh Hum Jo Hijar Mein

An Urdu Ghazal By Abbas Tabish

یہ ہم جو ہجر میں اس کا خیال باندھتے ہیں

ہوا کی شاخ سے بوئے وصال باندھتے ہیں

ہمارے بس میں کہاں زیست کو سخن کرنا

یہ قافیہ فقط اہل کمال باندھتے ہیں

یہ عہد جیب تراشاں کو اب ہوا معلوم

یہاں کے لوگ گرہ میں سوال باندھتے ہیں

وہ خوب جانتے ہیں ہم دعا نہادوں کو

ہمارے ساتھ بوقت زوال باندھتے ہیں

سبھی کو شوق اسیری ہے اپنی اپنی جگہ

وہ ہم کو اور ہم ان کا خیال باندھتے ہیں

تمہیں پتہ ہو کہ ہم ساحلوں کے پروردہ

محبتوں میں بھی مضبوط جال باندھتے ہیں

پھر اس کے بعد کہیں بھی وہ جا نہیں سکتا

جسے بھی باندھتے ہیں ہم کمال باندھتے ہیں

عباس تابش

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Ghazal By Abbas Tabish