Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
دم بخود ہیں دیکھ کر سارے قلندر کی دھمال
ابھی روشنی حاملہ ہو رہی ہے
پُرخطر وادی سے میرا راستہ رکھا گیا
یہ سچ ہے میں نے
اُسے اپنی نگاہوں میں بڑا رہنے دیا ہوتا
یہ وحشت ناک منظر کی جھلک محسوس ہوتی ہے
نئی تعبیر کے بدلے پرانے خواب بِکتے ہیں
بڑی مشکل سے اُٹھ کر جا رہا ہوں
دل میں لے کر بھڑاس پھرتے ہیں
کسی مجبور کی آنکھوں کے اندر دیکھ لیتا ہوں
ڈاکٹر عزیز فیصل کے اعزاز میں ایک شام
گمشدہ سائے
عقل داڑھ
ایک قبر کی فریاد
کل پاکستان مشاعرہ – پاک برٹش آرٹس+ یارانِ سُخن
محبتوں كی سفیر شاعرہ
جوتےکی نوک پر
شہزاد نیر ایک آفاقی شاعر
بَلوا
خاموش ہو کیوں، دادِ جفا کیوں نہیں دیتے
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
ہے یہ بازار جھوٹ کا بازار
ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے
ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
شاید مجھے کسی سے محبت
مرجھا کے کالی جھیل میں
جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
عمر کی سیڑھیاں
سر جھکاؤگے تو پتھر دیوتا ہوجائے گا
نثار میں تری گلیوں کے
ایک کمرہٴ امتحان میں
اُن جھیل سی گہری آنکھوں میں
آ جائے کسی دِن، تُو ایسا بھی نہیں لگتا
محبت ذات ہوتی ہے
کالا جادو
دائروں کا سفر
وقت بھی کتنا ظالم ہے
اگر کبھی میری یاد آئے
گلاب چہرے پہ مسکراہٹ
محبت کی طبیعت میں یہ کیسا بچپنا
عشقیہ کہانی
عِشق حقیقی
عزت کے لیے
صاحب کرامت
شیرو
شیر آیا شیر آیا دوڑنا
شیدا
باردہ شمالی
بادشاہت کا خاتمہ
مولانا الطاف حسین حالی
قبضہ ہو دلوں پر کیا
یا رب نگاہ بد سے چمن کو بچائیو
ایکٹریس کی آنکھ
بجلی پہلوان
باسط
بچنی
آشیانہ
ابابیل
کھدر کا کفن
نیلی ساڑھی
آخری آدمی
دیوار کے پہلو سے بجھے دیپ اٹھا دیں
پاؤں میں ہجر کی زنجیر نظر آتی ہے
صدائے منجمد
غم کے مارے جو بغاوت پہ اُتر آتے ہیں
چاند سی ہو بہو تری صورت
اپنے حالات سے ڈر جاتا ہوں
جی چاہتے ہوئے بھی پکارا نہیں گیا
کام ضروری آن پڑا ہے
نئی رتیں ہیں زمانے بدلنے والے ہیں
<<
1
...
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
...
140
>>