اردو نظمشعر و شاعریشہزاد نیّرؔ

صدائے منجمد

شہزاد نیّرؔ کی ایک اردو نظم

صدائے منجمد

ان چھوئی آواز جو بیٹھی رہی سینے کے بیچ
کل محبت کی کوئی دستک نہ اس کو چھو سکی
اس کے سارے دائرے
سمٹے رہے ، سہمے رہے
بارہا ایسی کوئی گم نام سی پرسوز لے
درد کی صورت
مرے سینے میں جم کر رہ گئی
بارہا سوچا کہ اس دھن کو کوئی انداز دوں
پیار کے دف کی صدائیں پھونک کر
ان کے اندر پھیلتی آواز کو پہچان دوں
بارہا دیکھا کہ اس گم نام سی آواز میں
تھرتھرا اٹھا مرے بیتےدنوں کا وہ دھواں
جس کی نبضوں میں تھرکتی تھی تری یادوں کی لے
جس کے اندر کھنکھنائیں
اس دھنک کی چوڑیاں
جس کی ساتوں کھڑکیاں کھلتی ہیں آدھی رات کو
بارہا سوچا کہ اس دھن میں اٹھیں وہ مستیاں
جن کی آوازوں میں شامل ہوں
تری پایل کے گیت
کاش میں ایسی کسی آواز کے پر کھولتا
کاش میں ایسی کسی دھن میں اتر کر بولتا
کیا کروں
دل سے کوئی بھی ایسی دھن اٹھتی نہیں

شہزاد نیر

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button